جب آیا عید کا دن، گھر میں بے بسی کی طرح تو میرے پھول سے بچوں نے مجھ کو گھیر لیا
Read MoreTag: بسمل صابری
بسمل صابری ۔۔۔ تیری صورت نہ جب دکھائی دے
تیری صورت نہ جب دکھائی دے کوئی رستہ نہیں سجھائی دے آپ ترکِ تعلقات کرے آپ الزامِ بے وفائی دے قرب جس کا ہے زندگی میری وہ مجھے رنجِ نارسائی دے میں سماعت پہ بھی یقیں کر لوں تیری آواز تو سنائی دے ہجر سی لگ رہی ہے قربت بھی کون غم سے مجھے رہائی دے جانتا ہی نہیں جو نامِ وفا مجھ کو الزامِ بے وفائی دے کہاں خود کو چھپائیں اے بسمل وہ جو امیدِ رو نمائی دے
Read Moreبسمل صابری ۔۔۔ اپنے غموں کی بات نہیں ہے ہنسی کی بات
اپنے غموں کی بات نہیں ہے ہنسی کی بات اس رنگ میں بھی کرتے ہیں ہم زندگی کی بات دانش وروں کی بزم میں، لوگو! کہاں چلے لو میری وحشتوں سے سنو آگہی کی بات اہلِ خرد پہ فرض ہوا سجدۂ جنوں محفل میں جب چھڑی مری دیوانگی کی بات برباد ہیں بگولے، پریشاں شمیمِ گل پہنچی کہاں کہاں تری آوارگی کی بات کیا کیا زمانہ مجھ پہ لگائے نہ تہمتیں لہجہ بدل کے کہہ دوں اگر آپ ہی کی بات ہے اپنی اپنی سب کو ہی بسمل پڑی ہوئی…
Read Moreبسمل صابری ۔۔۔ وہ عکس بن کے مری چشمِ تر میں رہتا ہے
وہ عکس بن کے مری چشمِ تر میں رہتا ہے عجیب شخص ہے، پانی کے گھر میں رہتا ہے وہی ستارہ شبِ غم کا اک ستارہ ہے وہ اک ستارہ جو چشمِ سحر میں رہتا ہے کھلی فضا کا پیامی، ہوا کا باسی ہے کہاں وہ حلقۂ دیوار و در میں رہتا ہے جو میرے ہونٹوں پہ آئے تو گنگناؤں اُسے وہ شعر بن کے بیاضِ نظر میں رہتا ہے گزرتا وقت مرا غم گسار کیا ہوگا یہ خود تعاقبِ شام و سحر میں رہتا ہے مرا ہی روپ ہے…
Read Moreبسمل صابری ۔۔۔ وفا کو جگمگانا چاہتے ہیں
وفا کو جگمگانا چاہتے ہیں ہم اپنا دِل جلانا چاہتے ہیں ہمیں تم اپنے دامن میں چھپا لو مسافر ہیں، ٹھکانہ چاہتے ہیں پرانے زخم بھر جانے سے پہلے نئی اک چوٹ کھانا چاہتے ہیں تمہاری یاد کے سیال موتی مری پلکوں تک آنا چاہتے ہیں درِ دل پر کھڑے ہیں غم ہزاروں یہ پنچھی آشیانہ چاہتے ہیں یہ آنکھیں اور بھر آتی ہیں بسمل اگر ہم مسکرانا چاہتے ہیں
Read Moreبسمل صابری ۔۔۔ حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور
حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور لب کہتے ہیں کچھ اور انھیں ہوتا ہے گماں اور جائیں تو کہاں جائیں محبت کے خریدار اربابِ سیاست نے تو کھولی ہے دکاں اور معلوم نہیں ہے مرے صیاد کو شاید گھٹتی ہے اگر سانس تو کھلتی ہے زباں اور اب وعدۂ فردا میں کشش کچھ نہیں باقی دہرائی ہوئی بات گزرتی ہے گراں اور دیکھے گی جو اک پل میں مری آنکھ سے تجھ کو ہو جائے گی دنیا تری جانب نگراں اور لگ جاتی ہیں مہریں سی…
Read Moreبسمل صابری ۔۔۔ سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا
سحر ہوئی تو خیالوں نے مجھ کو گھیر لیا جب آئی شب ترے خوابوں نے مجھ کو گھیر لیا مرے لبوں پہ ابھی نام تھا بہاروں کا ہجومِ شوق میں خاروں نے مجھ کو گھیر لیا کبھی جنوں کے زمانے، کبھی فراق رتیں کہاں کہاں تری یادوں نے مجھ کو گھیر لیا نکل کے آ تو گیا گہرے پانیوں سے، مگر کئی طرح کے سرابوں نے مجھ کو گھیر لیا یہ جی میں تھا کہ نکل جاؤں تجھ سے دور کہیں کہ تیرے دھیان کی بانہوں نے مجھ کو گھیر…
Read More