فہمیدہ ریاض ۔۔۔ اب سو جاؤ

اب سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو تم چاند سے ماتھے والے ہو اور اچھی قسمت رکھتے ہو بچے کی سی بھولی صورت اب تک ضد کرنے کی عادت کچھ کھوئی کھوئی سی باتیں کچھ سینے میں چبھتی یادیں اب انھیں بھلا دو، سو جاؤ اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو سو جاؤ تم شہزادے ہو اور کتنے ڈھیروں پیارے ہو اچھا تو کوئی اور بھی تھی اچھا پھر بات کہاں نکلی کچھ اور بھی یادیں بچپن کی کچھ اپنے گھر کے…

Read More

حفیظ جالندھری ۔۔۔ ابھی تو میں جوان ہوں

ہَوا بھی خوش گوار ہے گلوں پہ بھی نکھار ہے ترنمِ ہزار ہے بہار پر بہار ہے کہاں چلا ہے ساقیا ادھر تو لوٹ، ادھر تو آ ارے یہ دیکھتا ہے کیا اٹھا سبو، سبو اٹھا سبو اٹھا، پیالہ بھر پیالہ بھر کے دے ادھر چمن کی سمت کر نظر سماں تو دیکھ، بے خبر! وہ کالی کالی بدلیاں افق پہ ہو گئیں عیاں وہ اک ہجومِ مے کشاں ہے سوئے مے کدہ رواں یہ کیا گماں ہے بد گماں سمجھ نہ مجھ کو ناتواں خیالِ زہد ابھی کہاں ابھی…

Read More

ساقی فاروقی ۔۔۔ سرخ گلاب اور بدر منیر

اے دل! پہلے بھی تنہا تھے، اے دل! ہم تنہا آج بھی ہیں اور ان زخموں اور داغوں سے اب اپنی باتیں ہوتی ہیں جو زخم کہ سرخ گلاب ہوئے، جو داغ کہ بدر منیر ہوئے اس طرح سے کب تک جینا ہے، میں ہار گیا اس جینے سے کوئی ابر اُڑے کسی قلزم سے، رس برسے مرے ویرانے پر کوئی جاگتا ہو، کوئی کڑھتا ہو مرے دیر سے واپس آنے پر کوئی سانس بھرے مرے پہلو میں، کوئی ہاتھ دھرے مرے شانے پر اور دبے دبے لہجے میں کہے:…

Read More

احمد ندیم قاسمی ۔۔۔ جنگل کی آگ

آگ جنگل میں لگی تھی لیکن بستیوں میں بھی دھواں جا پہنچا ایک اڑتی ہوئی چنگاری کا سایہ پھیلا تو کہاں جا پہنچا تنگ گلیوں میں اُمڈتے ہوئے لوگ گو بچا لائے ہیں جانیں اپنی اپنے سر پر ہیں جنازے اپنے اپنے ہاتھوں میں زبانیں اپنی آگ جب تک نہ بُجھے جنگل کی بستیوں تک کوئی جاتا ہی نہیں حسنِ اشجار کے متوالوں کو حسنِ انساں نظر آتا ہی نہیں

Read More

آشفتہ چنگیزی ۔۔۔ خدا کی جگہ خالی ہے

شنکر ڈمرو کا متبادل تلاش کر چکا گوپیاں اب کسی اودھو کی محتاج نہیں ٹرنک کال ان کی سمسیاؤں کا حل ہے عزرائیل! ایٹم اور ہیلیم کے حق میں دست بردار ہونے کی فکر میں ہے اسرافیل کی جمالیاتی حس کو جلا مل گئی اب وہ کسی میوزک اسکول میں داخلہ لے لے گا فوڈ کارپوریشن کا مطالبہ: ‘میکائیل کا رٹائرمنٹ’ مان لیا گیا ہے وائرلس ٹیلی گراف کا محکمہ افسرِ اعلی کے عہدہ کے لیے جبرئیل کی درخواست پر غور کر رہا ہے ‘خدا کی جگہ خالی ہے، متمنی…

Read More

ن م راشد ۔۔۔ رقص

اے مری ہم رقص! مجھ کو تھام لے زندگی سے بھاگ کر آیا ہوں مَیں ڈر سے لرزاں ہوں کہیں ایسا نہ ہو رقص گہ کے چور دروازے سے آ کر زندگی ڈھونڈ لے مجھ کو، نشاں پا لے میرا اور جرمِ عیش کرتے دیکھ لے! اے مری ہم رقص! مجھ کو تھام لے رقص کی یہ گردشیں ایک مبہم آسیا کے دور ہیں کیسی سرگرمی سے غم کو روندتا جاتا ہوں مَیں! جی میں کہتا ہوں کہ ہاں، رقص گہ میں زندگی کے جھانکنے سے پیشتر کلفتوں کا سنگ…

Read More

حفیظ ہوشیارپوری ۔۔۔ محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے میں اکثر سوچتا ہوں پھول کب تک شریکِ گریۂ شبنم نہ ہوں گے ذرا دیر آشنا چشمِ کرم ہے ستم ہی عشق میں پیہم نہ ہوں گے دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے زمانے بھر کے غم یا اک ترا غم یہ غم ہوگا تو کتنے غم نہ ہوں گے کہوں بے درد کیوں اہلِ جہاں کو وہ میرے حال سے محرم نہ ہوں گے ہمارے دل میں…

Read More

ناصر کاظمی ۔۔۔ اپنی دھن میں رہتا ہوں

اپنی دھن میں رہتا ہوں میں بھی تیرے جیسا ہوں او پچھلی رت کے ساتھی! اب کے برس میں تنہا ہوں تیری گلی میں سارا دن دُکھ کے کنکر چنتا ہوں مجھ سے آنکھ ملائے کون میں تیرا آئینہ ہوں میرا دیا جلائے کون میں ترا خالی کمرہ ہوں تیرے سوا مجھے پہنے کون میں ترے تن کا کپڑا ہوں تو جیون کی بھری گلی میں جنگل کا رستہ ہوں آتی رُت مجھے روئے گی جاتی رُت کا جھونکا ہوں اپنی لہر ہے اپنا روگ دریا ہوں اور پیاسا ہوں

Read More

عندلیب شادانی ۔۔۔ دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو

دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ویسے ہم گھبرائے تو شفق، دھنک، مہتاب، گھٹائیں، تارے، نغمے، بجلی، پھول اس دامن میں کیا کیا کچھ ہے دامن ہاتھ میں آئے تو چاہت کے بدلے میں ہم تو بیچ دیں اپنی مرضی تک کوئی ملے تو دل کا گاہک کوئی ہمیں اپنائے تو کیوں یہ مہر انگیز تبسم مدِ نظر جب کچھ بھی نہیں ہائے کوئی انجان اگر اس دھوکے میں آ جائے تو سنی سنائی بات نہیں یہ…

Read More

جون ایلیا ۔۔۔ نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم خموشی سے ادا ہو رسم دوری کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں وفا داری کا دعویٰ کیوں کریں ہم وفا، اخلاص، قربانی، محبت اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم سنا دیں عصمتِ مریم کا قصہ پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم زلیخائے عزیزاں بات یہ ہے بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کریں ہم ہماری ہی تمنا کیوں کرو تم تمھاری ہی تمنا کیوں…

Read More