صفی لکھنوی … غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا

غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا قفس لے اڑوں میں، ہوا اب جو سن کے مدد اتنی اے بال و پرواز دینا نہ خاموش رہنا مرے ہم صفیرو جب آواز دوں ، تم بھی آواز دینا کوئی سیکھ لے دل کی بے تابیوں کو ہر انجام میں رنگِ آغاز دینا دلیلِ گراں باریِ سنگِ غم سے صفی ٹوٹ کر دل کا آواز دینا

Read More

ڈاکٹر امام اعظم

کسی کی بات کوئی بد گماں نہ سمجھے گا زمیں کا درد کبھی آسماں نہ سمجھے گا

Read More

احمد مشتاق

سنگ اٹھانا تو بڑی بات ہے اب شہر کے لوگ آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے دیوانے کو

Read More

ابراہیم اشک

ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﻮﮒ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﮞ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻋﺠﺐ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﺗﮭﺎ

Read More

ابراہیم اشک

بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہدِ وفا کسی سے ہم نے پھر عہد وفا کیا ہی نہیں

Read More