غلام حسین ساجد ۔۔۔   خاک کی کیمیا

خاک کی کیمیا آسماں جاگتا ہے یا سویا ہوا ہے زمیں زاد ہوں میں، مجھے ایسے قضیے سے کیا مجھے تو زمیں پر بدلتے ہوئے موسموں سے غرض ہے درختوں کے کٹنے کا غم ہے ہوا گرم ہونے لگی ہے کبھی آگ کے دائرے کھینچتی ہے کبھی ریت کی چادریں تانتی ہے وہ ننھے پرندے جو اپنے لڑکپن میں دیکھے تھے،معدوم ہیں شہر تو پھیلتے جا رہے ہیں مگر سانس لینے کا رقبہ سمٹنے لگا ہے ندّیاں سوکھتی جا رہی ہیں سمندر بپھر نے لگے ہیں کہ وہ صاف پانی…

Read More

اختر عثمان ۔۔۔ شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام

شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام جب تشنگی کمال ہوئی شیرخوار کو شبنم کی یاد آنے لگی گُل عذار کو سینے لگایا ماں نے دُرِ آبدار کو تکنے لگا وہ چرخِ تغیّر شعار کو فاقوں سے شیرِ مادرِ معصوم خُشک تھا کافور دودھ ہو گیا اور آب مُشک تھا نہرِ فرات قبضۂ غاصب سرشت میں بٹتے تھے جام صُحبتِ بد عہد و زشت میں پیاسے گئے عزیز و اقارب بہشت میں پانی نہیں تھا ساقیِ کوثر کی کشت میں سیراب فوجِ وحش و چرند و پرند تھی پانی کی راہ…

Read More

شاہین عباس ۔۔۔ دو کا دھوکا

دو کا دھوکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ طہارت کاقضیہ…دُہرا دجلہ دُہری تہری ناف کا ڈھلکا میں دو کوزوں کو دائیں بائیں بھر کر بیٹھ جاتاہو ں قیامت بازیوں کا گھاگ لپکا ہے یہ دائیں بائیں کا ٹپکا میں دو چھینٹوں کا اِک چھینٹا بناتا ہوں قیامت اور قیامت کے تناسب سے یہ چھینٹا مجھ پہ پڑتا ہے تو خانہ دار، اُدھر اُس پار تم بھی بھیگ جاتے ہو ! درازی لہر کی ہو ، قہر کی ہو ہونٹ سے پھر ہونٹ جا چپکا اِدھر آدھا ابال آدھا اُدھر حلقوم میں حلقوم کا دھارا…

Read More

امجد اسلام امجد ۔۔۔ حد

حد سوچا بہت ، پہ کھل نہ سکا آج تک ، کہ کیوں کرتے ہیں لوگ اپنی اناؤں کا قتلِ عام چہروں پہ نقش ہوتی سیاہی کو بھول کر دوڑے چلے ہی جاتے ہیں بے سمت ، بے لگام یہ سارا اہتمام وہ کرتے ہیں کس لیے؟ ہیں ان کے جتنے خیر طلب اُن کو چھوڑ کر سایوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں کس لیے؟ یہ بھی نہیں کہ ان کو نہیں انت کی خبر دن رات ان کے سامنے جاتے ہیں ان سے لوگ زیرِ زمین ڈھیر سی مٹی…

Read More

صغیر احمد صغیر ۔۔۔ اژدھا

اژدھا ۔۔۔۔ میں وہ نہیں صغیر، میں جو تھا بدل گیا یہ کیسی شکل ہے میں جس میں ڈھل گیا کہ میرے خد و خال ہیں، وہی جو تھے مگر مرا نظام انہضام اب بدل گیا میں اپنے وقت کا ہوں کوئی اژدھا اگر نہیں تو گزرے وقت کا میں کوئی ڈائنوسار ہوں میں دشت میں لگے ہوئے اک ایک پیڑ کی ہر ایک شاخ تک کو کھا گیا پیٹ پھر نہیں بھرا تو کوئلے کی کان بھی جو راہ میں پڑی ہر اک چٹان بھی چبا گیا ہزارہا جتن…

Read More

نثار ترابی ۔۔۔ یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں)

یقین سے پھوٹتے لمحے کا ادراک (فلسطین کے تناظر میں) ۔۔۔۔ اُڑان قاتل ہے یہ سفر تو اِسی میں اِک دن عذاب راتوں کے قافلوں کو صبحِ منزل اُجال لے گی تلاشِ منزل کی اِس لگن میں، اگرچہ پائوں پہ آبلے ہیں مگر یقیں ہے، مجھے یقیں ہے کہ حشر تک بھی وہ ساری آنکھیں کھلی رہیں گی جنھیں سحر کی کسی تمنا نے رَت جگوں کا ملال بخشا مجھے یقیں ہے، مجھے یقیں ہے یہ خوں کے دریا رواں نہ ہوں گے دیارِ اقدس کے زرد آنگن میں بسنے…

Read More

شائستہ رمضان ۔۔۔ نظم

نظم ۔۔۔ محبت رمز ہے گہری کبھی یہ فقر لگتی ہے صدائے کن کی چاہت میں سفرمیلوں یہ کرتی ہے کبھی گلزار بن جائے کبھی یہ نوح کی کشتی کبھی گمنام ہو جائے کبھی ہر رنگ کو پکڑے محبت موم جیسی ہے یہ حدت سے پگھلتی ہے کبھی محفل میں سجتی ہے کبھی صحرا بھٹکتی ہے کبھی بس ایک خواہش میں یہ خود پہ جبر کرتی ہے محبت سات رنگوں کی کوئی تشہیر ہو جیسے محبت راگ ہو جیسے محبت وصل کی خواہش محبت دل نشیں تعبیر جیسی ہے محبت…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ ایک خاموش نظم

ایک خاموش نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ کرنوں کی بارش نہ خوشبو ہَوا کی نہ موسم کے آثار میں زندگی کا سماں ماتمِ حبس میں ایک خاموش آواز کا نغمہ ٔ خامشی سُن کے آنسو بہاتی ہوئی رات کی جیب سے جب سسکتا ہوا چاند نکلا تو آنکھوں نے چپکے سے  محرومیوں سے یہ پیماں کیا آج کی رات سوجائیں ہم

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔۔ ذرا سوچ لو یہ

ذرا سوچ لو یہ ۔۔۔۔ جو تم نے سمیٹا نہیں مجھ کو اس زندگی میںجو میں روزہی اس طرح سے بکھرتا رہا تو تمہیں ایک زحمت بہت جلد کرنا پڑے گی ذرا سوچ لو یہ ، مری خاک کو تُم سمیٹو گی کیسے !

Read More