بار الفت دل مضطر سے اٹھایا نہ گیا "اک دیا تم سے محبت کا جلایا نہ گیا” دیکھتے دیکھتے ہوتے گئے یوں رستے جدا تم سے روکا نہ گیا مجھ سے بلایا نہ گیا ہم سے گر تم ہو گریزاں تو گریزاں ہی رہو فاصلہ ہم نے بڑھایا بھی، بڑھایا نہ گیا آج بھی رات میں سناٹے ڈراتے ہیں مجھے آج بھی دل سے اس آسیب کا سایا نہ گیا تم نے سوچا ہے کبھی کیسے گزرتی ہے مری تم نے پوچھا نہیں اور ہم سے بتایا نہ گیا
Read MoreTag: نائلہ راٹھور
نائلہ راٹھور ۔۔۔ تمھیں یوں یاد رکھنا تھا مکمل بھول جانا تھا
تمھیں یوں یاد رکھنا تھا مکمل بھول جانا تھا محبت نے دیا کیا تھا جو اب ہم نے گنوانا تھا تمھیں ملنا نہیں ہم سے تو کب مشتاق ہم بھی تھے نئے تھے راستے اپنے مگر منظر پرانا تھا پلٹ کر تم نے دیکھا تھا لبِ خاموش کی جانب تمھیں جانے کی جلدی تھی مجھے بھی دور جانا تھا تمھارے دل پہ جو گزری وہی حالت ہماری تھی گزاری رات جو مر کے تمہیں اس کا بتانا تھا اذیت کے سوا کیا تھا تمھارے ساتھ رہنے میں بہت مشکل تھا…
Read Moreنائلہ راٹھور ۔۔۔ خواب بس زندگی سے ہوتے ہیں (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023 )
’’سلسلے تو سبھی سے ہوتے ہیں‘‘ خواب بس زندگی سے ہوتے ہیں تم نے سمجھا ہے غیر اچھا ہے رشتے کب ہر کسی سے ہوتے ہیں کیا کہا ہم بھی بھول جائیں گے کام بس یہ تمہی سے ہوتے ہیں اشک آنکھوں میں آ گئے ہیں کیوں رابطے دل لگی سے ہوتے ہیں وقت آخر گزر ہی جاتا ہے دکھ تو وابستگی سے ہوتے ہیں تم نے چھوڑا کہ میں نے چھوڑا ہے فیصلے کچھ خوشی سے ہوتے ہیں کاش کچھ تم نے بھی کہا ہوتا فاصلے ان کہی سے…
Read Moreنائلہ راٹھور ۔۔۔ نثری نظم (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023 )
زندگی مجھے وقت کی شاہراہ پر رکھ بھول گئی ہے آتی جاتی سانسیں ہونے کا گیان مانگتی ہیں میرا ہونا نہ ہونے سے زیادہ مس ٹیریس ہے میں نے خود کو کئی بار اپنے سامنے گزرتے وقت کے پیچھے بھاگتے دوڑتے دیکھا ہے لگتاہے مصروف ہوں میرا وجود ناتمام خواہشات کے سومنات پر ایستادہ محبت کے چراغوں کا منتظر رہتا ہے اب کوئی دل کے معبد میں نہیں جھانکتا سرسری ملاقاتوں کے لئے ہی وقت کب میسر ہے باتیں سینوں میں ادھوری رہ جائیں گی زباں تالو سے لگی ہے…
Read More