ایک فِرقے سے نِکل کر جو گیا دوسرے میں اِک کُنویں سے وہ نِکل کر ہے گِرا دوسرے میں باغِ دِل میں کبھی اپنے یہ کلی کِھلنے نہ دی ہم نے ڈھونڈی ہے ہمیشہ ہی وفا دوسرے میں ہم گریبان میں اپنے نہیں دیکھا کرتے ہم کو آتی ہے نظر ساری خطا دوسرے میں اپنی خامی بھی نہیں مانتے ناکامی پر یہ نہیں دیکھتے ہم خُوبی ہے کیا دوسرے میں مذہبی لوگ ہیں ہم اور یہی جانتے ہیں اِک جہاں میں ہے فنا اور بقا دوسرے میں ایک ہی وقت…
Read MoreTag: محمود کیفی
محمود کیفی ۔۔۔ رنج و آلام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا
رنج و آلام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا میں تِرے دام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا اب کوئی کام محبت کے سِوا مُجھ کو نہیں اب اگر کام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا جپ رہا ہُوں یہ تِرا نام تو میں زِندہ ہُوں میں تِرے نام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا میرے ہونے کی علامت ہے فلک پر یہ شفق منظرِ شام سے نِکلوں گا تو مر جاؤں گا منظرِ عام پہ آنے سے یہ اِحساس ہُوا منظرِ عام سے نِکلوں گا…
Read Moreفہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023
محمود کیفی ۔۔۔ خیالِ یار سے نکلوں تو کوئی بات کروں
محمود کیفی ۔۔۔ پتّھروں میں گُلاب دیکھتا ہوں
پتّھروں میں گُلاب دیکھتا ہوں اپنی مرضی کے خواب دیکھتا ہوں آنکھ سے وہ دِکھائی دیتا نہیں دِل سے میں بے حساب دیکھتا ہوں تِیر و تلوار دیکھ تُو ظالِم میں قلم اور کِتاب دیکھتا ہوں تُو بھی کر میرے سب گُناہ شمار میں بھی تیرا ثواب دیکھتا ہوں دیکھتا ہے تُو شب میں تاریکی اور میں ماہتاب دیکھتا ہوں ایک اندھے نے ڈرتے ڈرتے کہا دیکھتا ہوں ، جناب دیکھتا ہوں جِسم پر دیکھتا ہوں میں پِیری خواہشوں پر شباب دیکھتا ہوں تُو عداوت کے در بناتا ہے میں…
Read More