یہ مانتا نہیں کہ محبت نہیں ہوئی شاید اسے نصیب فراغت نہیں ہوئی مصرع سمجھ کے میں نے اٹھا تو لیا اسے مشکل زمین تھی سو ریاضت نہیں ہوئی مقصود دست ِ یار پہ طعنہ زنی نہیں کیوں ایک زخم پر ہی قناعت نہیں ہوئی ایسا بھی کوئی اجنبی ملنا محال ہے خود سے ملا ہوں اور مجھے وحشت نہیں ہوئی ہنستے رہے ہیں دامن ِ صد چاک پر رفیق محسوس ہی رفو کی ضرورت نہیں ہوئی لائیں کوئی ثبوت ِ اطاعت ہی سامنے کہتے جو ہو جہاں سے بغاوت…
Read MoreTag: اکرم جاذب
اکرم جاذب ۔۔۔ بلا سے دشت چمن کے قریں سمجھتے ہو
بلا سے دشتِ چمن کے قریں سمجھتے ہو وہی حسیں ہے جسے تم حسیں سمجھتے ہو خود اپنے چار طرف بھی اگرچہ خود ہی ہو کہیں کہیں تو مجھے بھی کہیں سمجھتے ہو یہ خاک زادے ستارے ہیں کہکشاؤں کے یہ آسماں ہے جسے تم زمیں سمجھتے ہو ہمیشہ پکڑے گئے ہو فریب دیتے ہوئے زیادہ خود کو ذہین و فطیں سمجھتے ہو کسی بھی آئنے کو منہ نہیں لگاتے تم جو نکتہ بیں ہے اسے نکتہ چیں سمجھتے ہو براہِ راست تخاطب کی راہ ڈھونڈنے کو فسانہ سن کے…
Read Moreاکرم جاذب ۔۔۔ قاعدوں، رسموں، رواجوں میں نہ تعلیم میں ہے
قاعدوں، رسموں، رواجوں میں نہ تعلیم میں ہے دل کی تہذیب تو جذبات کی تنظیم میں ہے وقت کی نبض جہاں آ کے ٹھہر جائے گی ایسا لمحہ بھی مہ و سال کی تقویم میں ہے اہل ِ دنیا سے تصادم میں کھلیں گی آنکھیں یہ محبت تو ابھی عالمِ تنویم میں ہے اس نے سوچا ہی نہیں دیس نکالا دیتے میری ہستی کی بقا عشق کے اقلیم میں ہے رنج و آلام کی راہوں نے سکھا دی جو مجھے رمز لفظوں میں نہ لفظوں کے مفاہیم میں ہے آشکارا…
Read Moreفہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023
اکرم جاذب ۔۔۔ دو غزلیں
اکرم جاذب … تمام رات وہ مجھ سے الگ ہوا نہیں ہے
تمام رات وہ مجھ سے الگ ہوا نہیں ہے یہ خواب ہے کہ حقیقت مجھے پتہ نہیں ہے کسی کا لمس مسیحائی کر رہا ہے مری سلگتا جسم بھی اب وقفِ ابتلا نہیں ہے چھپا رہا ہے مجھے ڈھانپ ڈھانپ کر کس سے ہمارے ساتھ اگر کوئی تیسرا نہیں ہے میں چھو کے دیکھ رہا ہوں مہکتی سانسوں کو یقین آنے لگا ہے کہ واہمہ نہیں ہے ہمارے درمیاں اب کچھ نہیں رہا حائل بدن ہے اور بدن کا اتہ پتہ نہیں ہے تو کیا یہ پیار میں الہام ہو…
Read Moreاکرم جاذب ۔۔۔ فقط اڑائے گا غبار، آپ جائیے
فقط اڑائے گا غبار، آپ جائیے یہ عشق ہے جنوں شعار، آپ جائیے ملال سازِ درد کا مجھے تو راس ہے جو بج اٹھے ہیں دل کے تار، آپ جائیے تمیزِ نیک و بد ہی بزم میں نہیں رہی عجب اڑی ہے دھول یار، آپ جائیے یہ کیا ضرور راحتیں ہی صرف دے سکوں میں پا شکستہ، دل فگار، آپ جائیے فرار دو گھڑی کا بھی محال عشق میں اور ایک دل ہے غم ہزار، آپ جائیے لڑائیے نہیں یہ دائو پیچ عقل کے مرے جنوں سے بار بار، آپ…
Read More