نئی تراش نئے پیکروں میں ڈھلتے ہیں بہار رت میں شجر پیرہن بدلتے ہیں ڈرا نہ پائے گا یہ ہجر تیرگی سے ہمیں ہماری پلکوں پہ شب بھر چراغ جلتے ہیں رہِ سفر میں کوئی ہم سفر نہیں، لیکن میں مطمئن ہُوں کہ چھا لے تو ساتھ چلتے ہیں مقام ملتا نہیں ہے صعوبتوں کے بغیر مجھے خبر ہے کئی لوگ ہاتھ ملتے ہیں ہمیشہ فکر ستاتی ہے دشمنوں کو اب کہاں پہ گرتے ہیں اور ہم کہاں سنبھلتے ہیں مگر ہمیشہ انہیں مسکرا کے ملتی ہُوں مجھے خبر ہے…
Read MoreTag: ثمینہ سید
ثمینہ سید ۔۔۔ میں زندگی ہوں
میں زندگی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ میں کہہ رہی ہوں مجھے نہ مارو میں زندگی ہوں مسافتوں کی میں دھول مٹی سے اٹ گئی ہوں میں مر رہی ہوں مگر تھا عزم صمیم میرا کہ منزلوں تک ہے مجھ کو جانا سو عزم و ہمت سے سوئے منزل میں جا رہی ہوں مجھے نہ روکو کہ مجھ کو شاید عداوتوں سے محبتیں ہیں ہے شدتوں سے نباہ میرا یہ غم ہے میرا کہ نفرتوں میں گھری ہوئی ہوں میں کہہ رہی ہوں مجھے نہ مارو میں زندگی ہوں اگر کسی کو گمان…
Read Moreثمینہ سید ۔۔۔ یہ تو بس وقت گزاری ہے محبت کیسی
یہ تو بس وقت گزاری ہے محبت کیسی خواب میں خواب دکھانے کی ضرورت کیسی تم کو معلوم ہے کس سمت ہوا کا رخ ہے پڑ گئی خاک اُڑانے کی ضرورت کیسی رات دن ایک کیے میں نے اسی مقصد میں اب مجھے دیکھ کے ہے آپ کو حیرت کیسی عشق ورثے میں کہاں ملتا ہے معلوم ہے یہ آپ کا حق ہے … محبت میں اجازت کیسی مدتوں بعد سنورتے ہوئے دیکھا … تو کہا اف… روایت سے نکل آتی ہے جدت کیسی شعر کا وزن تو قائم ہے…
Read More