کاغذ پہ کس نے کیا ہے لکھا ‘ دیکھتی نہیں چلنے کے بعد مڑ کے ہَوا دیکھتی نہیں اے آنکھ ! کس فریب میں کھوئی ہوئی ہے تُو یہ خواب بھی ہے دیکھا ہُوا ‘ دیکھتی نہیں اک لہر ‘ دِل میں آخرِ شب جاگ جائے ہے اور دور تک نہیں ہے دِیا ‘ دیکھتی نہیں اے شام ! چلنے والی نہیں تیری ایک بھی ہے آسمان روٹھا ہوا ‘ دیکھتی نہیں منزل کی آس رکھتی ہے عظمی رواں ہمیں کوئی پکار، کوئی صدا دیکھتی نہیں
Read MoreTag: اسلام عظمی
اسلام عظمی ۔۔۔ اقرار بھی ہے پہلے سی وحشت نہیں رہی
اقرار بھی ہے پہلے سی وحشت نہیں رہی دل پارسا رہے گا ‘ ضمانت نہیں رہی یہ شہر اِک فریب میں پھر مبتلا ہوا کچھ خواب اور کوئی بشارت نہیں رہی کیا کیا فریب کھائے ہیں ہم جیسے سادہ دِل پہلے کے جیسی خود سے قرابت نہیں رہی بے نام سا اُجاڑ ہے اور نامرادیاں رنج ایسے ایسے آنکھ میں حیرت نہیں رہی اے رنجِ رایگاں نیا اِک دشت ڈھونڈلے ’’دل میں غبار ہونے کی طاقت نہیں رہی‘‘ سورج تو جل رہا ہے اُسی آن بان سے پہلے کے جیسی…
Read Moreفہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023
اسلام عظمی ۔۔۔ رونقیں ویسی کی ویسی ہیں نگر باقی نہیں
رونقیں ویسی کی ویسی ہیں نگر باقی نہیں تھی کتابِ زندگی میں جو خبر باقی نہیں رات بھر پھر کس لیے ہے سرگراں وحشی ہوا کوئی بھی تو قرض اِب عشاق پر باقی نہیں اِک سفر واجب ہی رہنا ہے مسافر پر ترے لوگ بولیں گے وگرنہ خیر و شر باقی نہیں وقت میلہ گھوم آیا ہے اگرچہ ہر کوئی پھر بھی کہنا ہے غلط کوئی سفر باقی نہیں ایک آہٹ کس لیے بیدار رکھتی ہے تجھے جنگ ہے تُو ہار بیٹھا اور سپر باقی نہیں ریت چادر پر اُترآئیں…
Read More