راحت سرحدی ۔۔۔ کہیں بھی بامِ فلک پر کوئی ستارہ نہیں

کہیں بھی بامِ فلک پر کوئی ستارہ نہیں مجھے تو لگتا ہے یہ آسماں ہمارا نہیں مرے خیا ل میں وہ وقت رائگاں گزرا تمھارے حسن کے سائے میں جو گزارا نہیں اگرچہ ہوتی ہے ہر شے کی انتہا کوئی سرابِ عشق کا لیکن کہیں کنارہ نہیں جو وقت پڑنے پہ ڈھے جائے آپ سے پہلے وہ ایک بوجھ تو ہو سکتا ہے سہارا نہیں کسی کے تل کا بدل جا کے کہنا حافظ سے ہے کائنات ثمر قند اور بخارا نہیں یہ آئنہ ابھی پوری طرح نہیں ٹوٹا تجھے…

Read More

نعتؐ ۔۔۔ راحت سرحدی

کریں گے جب نظر سرکار میرے تو ہو جائیں گے بیڑے پار میرے درودِ پاک کی خوش بو سے پہروں مہکتے ہیں در و دیوار میرے یہ شاخوں پر ثنا گستر پرندے دعائیں مانگتے اشجار میرے ہیں ان کے نام کی برکت سے اب تک منور گنبد و مینار میرے عطا ان کی نہیں تو اور کیا ہے جو اب تک سر پہ ہے دستار میرے اگر ان کا کرم مجھ پر نہ ہوتا تو ملنے تھے کہاں آثار میرے رضا شامل نہ ہو اُن کی جو راحت تو میں…

Read More

راحت سرحدی ۔۔۔ کسی مطرب نہ مسیحا نہ ادا کار کے ساتھ

کسی مطرب نہ مسیحا نہ ادا کار کے ساتھ شام دیتی ہے مزہ یارِ طرح دار کے ساتھ شوق سے سر پہ پہن اس کو مگر یاد رہے لوگ لٹکا بھی دیا کرتے ہیں دستار کے ساتھ مجھ کو حیرت سے نہ دیکھو کہ میں تصویر نہیں غم لگا دیتا ہے انسان کو دیوار کے ساتھ جان بھی اس میں چلی جائے تو افسوس نہیں کوئی سمجھوتا نہ ہو گا کبھی معیار کے ساتھ یوں مرے گرد اٹھائی ہیں فصیلیں اس نے دائرہ کھینچا ہو جیسے کسی پرکار کے ساتھ…

Read More

راحت سرحدی ۔۔۔ میں جو ذرا ہنس گا لیتا ہوں (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023 )

میں جو ذرا ہنس گا لیتا ہوں اس دنیا کا کیا لیتا ہوں پی کر تھوڑی دیر غموں سے اپنی جان چھڑا لیتا ہوں آئینے سے باتیں کر کے دل اپنا بہلا لیتا ہوں تنہائی میں بیٹھے بیٹھے اپنے آپ کو پا لیتا ہوں میں دانستہ بھی اپنوں سے دھوکہ شوکا کھا لیتا ہوں گر ہو اجازت تھوڑا تیرے سائے میں سستا لیتا ہوں کاٹے سے کٹتی نہیں راحت جس شب خود کو آ لیتا ہوں

Read More

فہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023

Read More

راحت سرحدی ۔۔۔ ہونی تو پلٹ دیتی ہے کایا نہیں دیکھا

ہونی تو پلٹ دیتی ہے کایا نہیں دیکھا کیا تم نے کبھی شام کو سایا نہیں دیکھا چکر وہ چڑھے ہیں جو اترتے نہیں لگتے کیا اس نے نگاہوں سے پلایا نہیں دیکھا اس خواب سرائے کے دکھاوے میں نہ آنا بس ایسا سمجھنا جو دکھایا نہیں دیکھا ہمراہ کہیں میں نے برے وقت میں اپنے لوگوں کو تو چھوڑو کبھی سایا نہیں دیکھا یاروں نے تو منزل پہ پہنچ کر بھی پلٹ کر اس دوڑ میں کس کس کو ہرایا نہیں دیکھا آتے ہیں نظر عرش کو چھوتے ہوئے…

Read More

راحت سرحدی ۔۔۔ سلام

ذکرِ شبیر سے نکل آیا خُون تحریر سے نکل آیا دیکھتا تھا فُرات وہ چشمہ جو رگِ پیر سے نکل آیا گل شدہ اک چراغِ خیمہ بھی بڑھ کے تنویر سے نکل آیا روح نکلی غبار سے دل کے جِسم زنجیر سے نکل آیا وہ شہادت کہ جس میں خوں کی جگہ نور ہر چیر سے نکل آیا اس کو تلوار نے لیا راحت بچ کے جو تیر سے نکل آیا

Read More

راحت سرحدی ۔۔۔ موسم کا ارادہ ہے خطرناک خدا خیر

موسم کا ارادہ ہے خطرناک خدا خیر بارود نہ بن جائے کہیں خاک خدا خیر آتے ہیں نظر اب تو پرندوں کی جگہ پر اْڑتے ہوئے پتے خس و خاشاک خدا خیر اْس حسن سے بپھرے ہوئے لشکر کے مقابل میں اور مرا پیراہنِ صد چاک خدا خیر خود اپنے بنائے ہوئے بت توڑ کے دیکھو گردوں پہ پہنچنے کو ہے ادراک خدا خیر نکلا نہ اندھیرے سے مری صبح کا سورج بے کار گئی گردشِ افلاک خدا خیر اُس شہر کا بچنا بڑا دشوار ہے راحت ہر آنکھ جہاں…

Read More

راحت سرحدی ۔۔۔ کہنی تو ضروری نہیں ہر بات سمجھ لے

کہنی تو ضروری نہیں ہر بات سمجھ لے صورت سے مری صورتِ حالات سمجھ لے بہروں میں بھی ممکن ہے کوئی بات سمجھ لے مجھ پر جو اتاری گئیں آیات سمجھ لے ہم جیسوں کو مرنے سے بچانے کے بہانے احباب نے کی ہیں جو عنایات سمجھ لے پارے کی طرح ٹوٹ کے جڑ جاتا ہوں پھر سے بے شک تو اِسے میری کرامات سمجھ لے تسکین نظر کو تو بہت کچھ ہے ترے پاس وہ آنکھ نہیں جو مرے جذبات سمجھ لے ہر ایک پہ کھلتے نہیں بت خانوں…

Read More