رخشندہ نوید ۔۔۔ راضی بہ رضا آپ ہوا آپ کا بیمار

راضی بہ رضا آپ ہوا آپ کا بیمار کس منہ سے بھلا مانگے دوا آپ کا بیمار بے یار و مددگار پڑے دیکھا تھا خود کو کہتے ہوئے لوگوں کو سنا آپ کا بیمار اک بار ذرا ہاتھ تو اس نبض پہ رکھیے ہو جائے گا پھر اچھا بھلا آپ کا بیمار کل رات بھی وحشت نے کہیں کا نہیں چھوڑا اِمشب بھی اسی چھت پہ رہا آپ کا بیمار کیا کیا نہیں بھیجیں تھیں طبیبوں نے دوائیں بیمار مگر پھر بھی رہا آپ کا بیمار دیوانہ سمجھ کر کوئی…

Read More

رخشندہ نوید ۔۔۔ بدلتے ہی نہیں حالات میرے

بدلتے ہی نہیں حالات میرے کرے گا کیا مقدر ساتھ میرے ہوا کا زور بڑھتا جا رہا ہے ذرا ہاتھوں میں لینا ہاتھ میرے ترے پہلو سے اُٹھ کر ہی نہ جاؤں اجازت دیں اگر حالات میرے بہت جلدی میں آئی اور گئی ہے چرا کر رنگ سب برسات میرے خیالِ یار کی برکت ہے ورنہ مہکنا چھوڑ دیں باغات میرے

Read More

فہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023

Read More

رخشندہ نوید ۔۔۔ یہ کیسی سرسوں کی مانند پھر سے پیلی ہوئی

Read More

رخشندہ نوید ۔۔۔ بچھڑ گیا تو ان آنکھوں کو کچھ گلہ ہی نہیں

بچھڑ گیا تو ان آنکھوں کو کچھ گلہ ہی نہیں کہ جیسے کچھ نہ ہوا ، زخمِ دل چھلا ہی نہیں اس ایک شخص کی خوشبو میں باغ باغ رہی جو پھول بن کے مری زلف میں کھلا ہی نہیں کچھ ایسے لوگ بھی اک عمر ساتھ رہتے ہیں ستارے مل گئے قسمت سے دل ملا ہی نہیں کبھی کبھی کی ملاقات میں گیا ، کیا کچھ وہ نرم باتیں وہ جذبوں کا سلسلہ ہی نہیں ہم اپنے ضبط پہ حیراں ہیں شدت غم میں ستارہ پلکوں تک آیا مگر…

Read More

رخشندہ نوید ۔۔۔ نامیہ کے لیے

لگانا پڑتا نہیں تل کوئی بھی گال کے ساتھ خدا نے خلق کیا ہے تجھے جمال کے ساتھ زمین ناچ اُٹھے اورستارے رقص کریں قدم اُٹھا کے تُو چلتی ہے سُر کے تال کے ساتھ ترے خرام سے ہر مورنی نے سیکھا ہے کہ کیسے گھنگھرو چھنکتے رہیں گے چال کے ساتھ تو میری آنکھ کا سب سے حسیں نظارہ ہے دکھائی دیتی ہے مجھکو گلوں کے جال کے ساتھ اے مری راجکماری مری فرشتہ صفت غرض تجھے ہے جواہر سے اور نہ مال کے ساتھ میں تجھ سے آنکھ…

Read More

رخشندہ نوید ۔۔۔ بچھڑ گیا تو ان آنکھوں کو کچھ گلہ ہی نہیں

بچھڑ گیا تو ان آنکھوں کو کچھ گلہ ہی نہیں کہ جیسے کچھ نہ ہوا ، زخمِ دل چھلا ہی نہیں اس ایک شخص کی خوشبو میں باغ باغ رہی جو پھول بن کے مری زلف میں کھلا ہی نہیں کچھ ایسے لوگ بھی اک عمر ساتھ رہتے ہیں ستارے مل گئے قسمت سے دل ملا ہی نہیں کبھی کبھی کی ملاقات میں گیا ، کیا کچھ وہ نرم باتیں وہ جذبوں کا سلسلہ ہی نہیں ہم اپنے ضبط پہ حیراں ہیں شدت غم میں ستارہ پلکوں تک آیا مگر…

Read More

رخشندہ نوید ۔۔۔ امرتا پریتم

وقت کے اندھے کنویں کو دیکھا بھیگی آنکھ سے اُس نے ننگے پائوں صحرائوں کو ناپنے وہ نکلی تھی اور دریا کے پار بھی اتری اک اک موج کے ساتھ پلک پلک میں بھری ہوئی اک اشکوں کی برسات دیکھے کون اِن آنسوئوں کی بارش کا گرتا پانی دل آہوں کی روانی وہ پنجاب کے دکھ کی ماری ہجر میں اُس نے عمر گزاری سینے بھر کر ریت! دکھ کے گھونٹ بھرے توگلے میں اٹک گئی اک چیخ نوکِ زباں پر سسکی جیسے بھٹک رہے کچھ راز، ٹوٹے پنچھی کے…

Read More