محمد علی ایاز ۔۔۔ مسلسل نامکمل راستوں سے

مسلسل نامکمل راستوں سے کسی نے رب کو ڈھونڈا مشکلوں سے ابھی بھی دل مرا بنجر نہیں ہے ہرا رکھا ہوا ہے خواہشوں سے کسے معلوم کیوں کر دیکھتا ہوں میں ہاتھوں کی لکیریں کچھ دنوں سے بہت آسان ہوتی جارہی تھیں پھر اک الجھن نکالی الجھنوں سے ابھی منزل دکھائی کیسے دے گی ابھی پالا پڑا ہے رہزنوں سے یہ آگ اور خون کیسے گوندھتے ہیں کبھی پوچھے کوئی کوزہ گروں سے

Read More

محمد علی ایاز ۔۔۔ دیر تک میں نے بھی دیکھا اسے حیرانی سے

دیر تک میں نے بھی دیکھا اسے حیرانی سے آج اک شخص ملا اتنی پشیمانی سے اس قدر ہجر کی دولت سے نوازا اس نے میں نے اک عمر گزاری بڑی آسانی سے میں نے یہ سوچ کے اظہارِ محبت نہ کیا ڈر نہ جائے وہ کہیں لفظوں کی عریانی سے اس پہ واجب ہے کہ ہر پل وہ کرے شکر ادا جس کو ہر لمحہ محبت ملے ارزانی سے اے حسیں شخص ترے حق میں یہی بہتر ہے بھول جائے تو محبت مری آسانی سے میں نے جس جس…

Read More

محمد علی ایاز ۔۔۔ دو غزلیں

سبھی دشتِ ہجر کی وسعتیں مرے نام کرکے چلا گیا وہ جو ایک لمحۂ مختصر میں قیام کرکے چلا گیا میں خزاں رسیدہ بدن لیے رہا منتظر سرِ رہ گزر وہ محبتوں کی بہار میں کہیں شام کرکے چلا گیا مری دھڑکنوں کے حصار میں کوئی لمحہ بھر وہ رکا رہا سبھی زحمت دل زار کو جو تمام کرکے چلا گیا دل مضطرب کی پکار ہے کہ وہ بے پناہ حسین شخص مری حسرتوں، مری خواہشوں کو غلام کرکے چلا گیا جسے ہر نظر سے چھپا کے میں نے رکھا…

Read More

فہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023

Read More

محمد علی ایاز ۔۔۔ کس طرح میرے سامنے اتنا سمٹ گیا

Read More