فلک پہ ہے نظارا روشنی کا چمک اُٹھا ستارا روشنی کا لہو اپنا رواں اس میں کیا ہے تعلّق ہے ہمارا روشنی کا بڑھایا ہم نے دل کا نور ایسا اُدھر پانی اتارا روشنی کا جھلکتی ہے تو چھپ جاتی ہے پہلے یہ کیسا ہے اشارہ روشنی کا نگاہوں میں اجالا کر رہا ہے بہت اونچا منارہ روشنی کا پڑھوں تو نظم بن جاتا ہے ثاقب ہر آنسو ہے شمارہ روشنی کا
Read MoreTag: آصف ثاقب
عقیدت ۔۔۔ آصف ثاقب
مدینے کا ہے جلوہ سبز گنبد مری آنکھوں کا سبزہ سبز گنبد اٹھی ہیں اس کی جانب سب کی نظریں جہانوں کا اجالا سبز گنبد اسی سے سب کا ہے ایماں مکمّل یہ جنت کا اشارہ سبز گنبد سبھی اچھّوں سے اچھّا سبز گنبد نہایت شان والا سبز گنبد اسی سے آئے گا مجھ کو بلاوا امیدوں کا سہارا سبز گنبد مجھے ثاقب تسلّی ہو رہی ہے جو خوابوں میں ہے دیکھا سبز گنبد
Read Moreآصف ثاقب ۔۔۔ بُرا تھا جو وہ اچھّا ہو گیا ہے
بُرا تھا جو وہ اچھّا ہو گیا ہے گھروں کا نور زندہ ہو گیا ہے تمھیں جانا تھا حسنِ گفتگو سے تمھارا بول بالا ہو گیا ہے پڑھے ہیں ہم نے دل سے میر و غالب ہمارا شوق پورا ہو گیا ہے نہیں لکھنا ہیں اب تعویذ اس کو ہمارا پیر اندھا ہو گیا ہے پرانے جاننے والے کہاں ہیں ہمارے بیچ جھگڑا ہو گیا ہے بہت اچھا ہوا ہے آج ثاقب کسی کا عشق رسوا ہو گیا ہے
Read Moreآصف ثاقب ۔۔۔ ایسی اوقات پہ ہم کتنے ہوئے ہیں حیران
ایسی اوقات پہ ہم کتنے ہوئے ہیں حیران اپنے دل میں کوئی گوشہ نشیں ہے انسان ہم پہاڑوں پہ محبت کی اڑا دیتے ہیں تان بانسری اور یہ وادی ہے ہماری پہچان ہم بھی تلوار کے کچھ ہاتھ دکھا سکتے ہیں پاس گھوڑا بھی ہے اور یہ حاضر میدان دور سے ہم کو کئی شہر بلاتے ہیں مگر اس بیاباں سے نہیں اپنے سفر کا امکان اور پیرایہ کوئی دل کو نہیں ہے بھائے ہم نے دیکھی ہے اسی طرزِ سخن کی شان ہم اکیلے ہیں مگر بن میں بسے…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ آصف ثاقب
نعتؐ ۔۔۔۔۔ قلم کی نسبتیں کتنی بڑی ہیں بہت ہی پیار سے نعتیں لکھی ہیں بڑے چھوٹے یہ پاکستان والے محمدؐ نام کے عاشق سبھی ہیں مدینے کے ہیں نغمے سوز والے غزل کی بھی غنائیں مدھ بھری ہیں مدینے سے سبق ہم کو ملا ہے روانِ رہگزارِ زندگی ہیں محمدؐ نے یہ بخشے ہیں اجالے جو ہم دامن کشائے آگہی ہیں عقیدت کے مناظر ہیں سنہرے ہماے سامنے صدیاں کھڑی ہیں محبت یہ مدینے سے ملی ہے جو اپنے غم رہینِ شاعری ہیں دعا، آداب، آنسو، شوق ثاقب نبیؐ…
Read Moreآصف ثاقب ۔۔۔ گاؤں والا
گاؤں والا میں یاری دوستی کا ذوق رکھوں پسندیدہ ہے میری آشنائی میں بیلے پر کبڈی کھیل کھیلوں جو لہروں نے مجھے تیزی سکھائی میں نغمہ بار کھیتوں میں پھرا ہوں بھری فصلوں نے بخشی ہے رسائی اطاعت گاؤں کے بچّوں سے سیکھی بزرگوں نے سکھائی ہے بڑائی میں لکھوں خوش خطی کاغذ پہ ایسے مرے دل میں ہے روشن روشنائی ملے پنگھٹ سے نینوں کو ستارے بھلی ہے آنچلوں کی رونمائی گھنے تھے گاؤں میں والد کے سائے بڑی میٹھی تھی جنت مامتائی ستارہ وار میں گلیوں میں گھوموں…
Read Moreفہرست ۔۔۔ ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023
آصف ثاقب ۔۔۔ جاں لیوا وبا سے قسمت کی تاثیر بنانی ہوتی ہے
جاں لیوا وبا سے قسمت کی تاثیر بنانی ہوتی ہے اس اپنے وطن کی مٹی سے اکسیر بنانی ہوتی ہے ہم اپنے خون کی لرزش سے ہاتھوں کو مصّور کرتے ہیں ہر غم کی خام لکیروں سے تصویر بنانی ہوتی ہے جذبات کی لہریں اُٹھ اٹھ کر کاغذ پہ تماشا بنتی ہیں جب مجھ کو شکستہ لفظوں کی تحریر بنانی ہوتی ہے ان جھوٹی سچی باتوں کے جذبات ہوئے ہیں جوش بھرے اک آگ لگانے والی جب تقریر بنانی ہوتی ہے ہر شعر میں بھردوں حسنِ نظر ہر لفظ ہو…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ آصف ثاقب
مری اشکوں بھری راتیں محمدؐ کے لیے ہیںجگر کی درد سوغاتیں محمدؐ کے لیے ہیں مرے ہر لفظ میں عشقِ نبیؐ کی تحفگی ہےسبھی اشعار اور باتیں محمدؐ کے لیے ہیں خیالوں میں مدینہ ہے وہاں کے واقعے سبمری نعتیں مناجاتیں محمدؐ کے لیے ہیں انھیؐ کی یاد میں میرے نگر میں روشنی ہےوظیفے اور خیراتیں محمدؐ کے لیے ہیں وہاں دل کا نگینہ جب محمدؐ نام کا ہےیہاں آنکھوں کی برساتیں محمدؐ کے لیے ہیں درودِ پاک سے ثاقب فلک سے نور برسےیہ ساون اور برساتیں محمدؐ کے لیے…
Read More