ایسی اوقات پہ ہم کتنے ہوئے ہیں حیران
اپنے دل میں کوئی گوشہ نشیں ہے انسان
ہم پہاڑوں پہ محبت کی اڑا دیتے ہیں تان
بانسری اور یہ وادی ہے ہماری پہچان
ہم بھی تلوار کے کچھ ہاتھ دکھا سکتے ہیں
پاس گھوڑا بھی ہے اور یہ حاضر میدان
دور سے ہم کو کئی شہر بلاتے ہیں مگر
اس بیاباں سے نہیں اپنے سفر کا امکان
اور پیرایہ کوئی دل کو نہیں ہے بھائے
ہم نے دیکھی ہے اسی طرزِ سخن کی شان
ہم اکیلے ہیں مگر بن میں بسے ہیں ثاقب
عشق فرمائیں گے اور پورے کریں گے ارمان
