گلزار بخاری ۔۔۔ اور جاکر کہیں کرتا ہے سحر شام کے بعد

اور جاکر کہیں کرتا ہے سحر شام کے بعد ختم ہوتا نہیں سورج کا سفر شام کے بعد توڑ دیتی ہیں خموشی کو چہکتی چڑیاں بولنے لگتے ہیں چپ چاپ شجر شام کے بعد اُس کو خورشید نظر تک نہیں آنے دیتا مرکزِ دید ٹھہرتا ہے قمر شام کے بعد بھول جاتی ہے اُنھیں خلق ضرورت کے بغیر یاد آتا ہے چراغوں کا ہُنر شام کے بعد راستہ کون دکھاتا ہے اندھیرے میں اسے کس طرح ڈھونڈتی ہے فاختہ گھر شام کے بعد پھول اُجلے سے کھلائے ہیں فلک پر…

Read More

محمد علوی ۔۔۔ اب کے برسات میں پانی آئے

اب کے برسات میں پانی آئے خشک دریا میں روانی آئے ہر گھٹا کالی ہو کاجل جیسی رنگ ہر کھیت پہ دھانی آئے پھول سا روپ لیے دن نکلے رات آئے تو سہانی آئے دھوپ آئے تو سہانی آئے چاندنی لے کے جوانی آئے شعر کہتے ہیں یونہی سے علوی کیا ہمیں بات بنانی آئے

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ اس قدر ڈوبا ہوا دل درد کی لذت میں ہے

اس قدر ڈوبا ہوا دل درد کی لذت میں ہے تیرا عاشق، انجمن ہی کیوں نہ ہو، خلوت میں ہے جذب کر لینا تجلی روح کی عادت میں ہے حسن کو محفوظ رکھنا عشق کی فطرت میں ہے محو ہو جاتا ہوں اکثر میں کہ دشمن ہوں ترا دل کشی کس درجہ، اے دنیا! تری صورت میں ہے اف نکل جاتی ہے، خطرے ہی کا موقعہ کیوں نہ ہو حسن سے بیتاب ہو جانا مری فطرت میں ہے نور کا تڑکا ہے، دھیمی ہو چلی ہے چاندنی ہل رہا ہے…

Read More