اللہ کے ہی اسم سے آغاز کریں اکرام و عنایات کا در باز کریں وہ ذات ازل سے ہے جو رحمان و کریم اس کے ہی کرم سے سُخن اعجاز کریں حق ہم سرائی کا ادا کیسے ہو عاجز کو یہ توفیق عطا کیسے ہو ہم وصف محمدؐ کے نہیں گن سکتے محمود کی توصیف و ثنا کیسے ہو ٹھہرے ہیں ولّی قبیلۂ ارباب سُخن کہنا ہے وہی محرم آداب سخن دَر تازہ مضامیں کا نہیں بند کبھی تا روزِ قیامت ہے کُھلا باب سُخن کہہ دو دل و جان…
Read MoreTag: گلزار بخاری
گلزار بخاری ۔۔۔ بنیں جس گھڑی محبت خدوخالِ آشنائی
بنیں جس گھڑی محبت خدوخالِ آشنائی نہیں بھولتے کسی کو مہ و سالِ آشنائی یہی خواب ہے سفر میں رہے تو سدا نظر میں ہمیں جس طرف اڑائیں پر و بالِ آشنائی کریں جاں نثار تجھ پر کہ فدا ہیں یار تجھ پر جنھیں علم ہے گراں ہے زر و مالِ آشنائی سبھی تجھ پہ مر رہے ہیں یہ گلہ بھی کر رہے ہیں تجھے پاسِ دوستی ہے نہ خیالِ آشنائی کبھی اس سے واسطہ ہے کبھی اُس سے رابطہ ہے ترے زاویے سے ٹھہرا ہے کمالِ آشنائی کس رخ…
Read Moreگلزار بخاری ۔۔۔ رباعیات
کہہ دو دل و جاں سے کہ احد ہے اللہ محتاج کہاں ہے کہ صمد ہے اللہ اس کی احدیت پہ گواہی دیکھیں والد ہے کسی کا نہ ولد ہے اللہ ۔۔۔۔۔ دل سے نہ کسی شخص کے جُوفہ نکلا یہ ایک نیا اور شگوفہ نکلا ظاہر میں دکھائی دیا مگر لیکن اندر سے ہر اک شخص ہی کوفہ نکلا ۔۔۔۔۔۔ لب مدحتِ رحمن کرے مشکل ہے دشواریاں آسان کرے مشکل ہے کس طور سے جانے کوئی قاتل کا دوام اندازہ یہ انسان کرے مشکل ہے ۔۔۔۔ مت بھاگ یونہی…
Read Moreگلزار بخاری ۔۔۔ ڈیم
ڈیم ۔۔۔۔ اگر آبی ذخیرے جابجا ہوتے وسائل کی بقا ہوتے کوئی پانی کا ریلا سیل یا طوفان کیوں بنتا زمینوں کے لیے نقصان کیوں بنتا مویشی اور بندے ڈوب کر مرتے نہ لہروں میں پریشاں اس قدر ہر سوچ کا انسان کیوں بنتا ہزاروں ڈیم پبلک کی مدد سے رات دن تعمیر ہوتے ہیں طلاطم کے لیے ناقابلِ تسخیر ہوتے ہیں کمی بجلی کی پیش آتی نہ کوئی کارخانہ بندشوں کا سامنا کرتا تھپیڑے آزمائش کے مسلسل ارتقا ہوتے اگر آبی ذخیرے جابجا ہوتے
Read Moreگلزار بخاری ۔۔۔۔ راستی کا سفر
راستی کا سفر ۔۔۔۔۔۔۔۔ سچ ہے زورآوروں کے پہرے میں سامنے کس طرح کی بستی ہے سرنگوں شر کے سامنے دیکھی زندگی خیر کو ترستی ہے جرم سے پیشتر سزا کا نفاذ ہے یہ پہچان کس قبیلے کی خود پرستی کے اس خرابے میں جرم ہے آئنہ دکھانا بھی جاں کریں تجھ پہ ہم فدا لیکن تو اسیر ایسے موسموں میں ہوا جب ہے انصاف خود کٹہرے میں
Read Moreگلزار بخاری … اے یوسف ِ گم گشتہ
اے یوسف ِ گم گشتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا علم کہاں ہے تو اے یوسفِ گم گشتہ ہو شاد جہاں ہے تو اے یوسفِ گم گشتہ سکھ میں ہے کہ دُکھ میں ہے معلوم نہیں ہم کو مدت سے نہاں ہے تو اے یوسفِ گم گشتہ مشکل ہے بہت مشکل جینا تیری دوری میں سرمایہِ جاں ہے تو اے یوسفِ گم گشتہ ہر چند ہوا غائب یعقوب کی نظروں سے پر دل پر عیاں ہے تو اے یوسفِ گم گشتہ گرگوں سے فزوں نکلے تیرے لیے بھائی بھی بے امن و اماں…
Read Moreگلزار بخاری ۔۔۔ ملتی ہے اس طرح بھی محبت کبھی کبھی
ملتی ہے اس طرح بھی محبت کبھی کبھی ہوتی ہے اپنے بخت پہ حیرت کبھی کبھی ہم جانتے ہیں عشق سفر عمر بھر کا ہے تیرے لیے سہی یہ مسافت کبھی کبھی تکتے ہیں آئنہ ترے ہاتھوں میں رشک سے جن کو بہم ہے دید کی مہلت کبھی کبھی تسلیم انحصار ترا کوہ پر مگر پڑتی ہے کاہ کی بھی ضرورت کبھی کبھی پہلی نوازشوں کو بھلانا روا نہیں ہو بھی اگر کسی سے شکایت کبھی کبھی چھپنا اسی سے، چاہنا بھی جس کے سامنے کھلتی نہیں جمال کی حکمت…
Read Moreگلزار بخاری ۔۔۔ غرور (ماہنامہ بیاض لاہور ، اکتوبر 2023 )
غرور ۔۔۔۔۔۔ مہ و سال پر نہ غرور کر تجھے اصلیت کا پتا نہیں تجھے زندگی جو عطا ہوئی وہ محیط تین دنوں پہ ہے ترا عہدِ رفتہ ہے ایک دن جو گزر گیا کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا ترا آنے والا جو کل ہے وہ بھی ہے ایک دن اسے عمر میں نہ شمار کر کہ وہ آئے بھی تو یقیں نہیں تجھے ذی حیات ہی پائے گا ترے پاس ایک ہی روز ہے جسے آج کہتے ہیں نکتہ داں تری دسترس میں کچھ اور اس کے سوا…
Read Moreگلزار بخاری ۔۔۔۔ ایسی قدیم آگ میں ڈالا گیا ہوں میں (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023 )
ایسی قدیم آگ میں ڈالا گیا ہوں میں محسوس ہو رہا ہے اُجالا گیا ہوں میں ماحول ہے مرے لیے فردوس کی طرح جس ڈھنگ کی فضاؤں میں پالا گیا ہوں میں ماضی کی داستان بھلائی نہ جائے گی باغِ جناں کے وعدے پہ ٹالا گیا ہوں میں امکان ہے کہ مصر کی شاہی نصیب ہو اجڑے ہوئے کنویں سے نکالا گیا ہوں میں سنبھلا ہوں اس طرح سے کہ گرنا لگا مجھے گرتے ہوئے لگا کہ سنبھالا گیا ہوں میں لگنے لگی ہیں پست ہمالا کی چوٹیاں اتنی بلندیوں…
Read Moreگلزار بخاری ۔۔۔ رباعیات (ماہنامہ بیاض لاہور اکتوبر 2023 )
اللہ کے ہی اسم سے آغاز کریں الطاف و عنایات کا در باز کریں ہے ذات ازل سے وہی رحمان و رحیم اس کے ہی کرم سے سخن اعجاز کریں ……………… بندہ ہے خطاکار خطا کرتا ہے خالق ہے کریم اس کا پتا کرتا ہے دیتا نہیں اُڑنے کے لیے پَر خالی پرواز کی طاقت بھی عطا کرتا ہے ……………… کیا تھا وہ سفر صرف سفر کی خاطر مقصود رہا خیر و خبر کی خاطر معراجِ محمدؐ سے یہی درس ملا گردوں ہوا تسخیر بشر کی خاطر ……………… موجود و…
Read More