غور سے یہ عجب سماں دیکھو خوف ہی خوف ہے جہاں دیکھو شام کو گھر پلٹتے سورج میں کتنے ہی رنگ ہیں نہاں ، دیکھو کتنا چپ چاپ لگتا ہے سب کچھ شام کے وقت آسماں دیکھو ہے عجب دلکشی بکھرنے میں آمدِ موسمِِ خزاں دیکھو ان نشانوں کے پاس ہی ہے فرات دشت میں خون کے نشاں دیکھو میں وہیں پر بھٹکتا رہتا ہوں اپنے دل پر مرے نشاں دیکھو شاملِ خاک ہو گیا سب کچھ وہ گلی اور وہ مکاں دیکھو
Read More