سبھی دشتِ ہجر کی وسعتیں مرے نام کرکے چلا گیا
وہ جو ایک لمحۂ مختصر میں قیام کرکے چلا گیا
میں خزاں رسیدہ بدن لیے رہا منتظر سرِ رہ گزر
وہ محبتوں کی بہار میں کہیں شام کرکے چلا گیا
مری دھڑکنوں کے حصار میں کوئی لمحہ بھر وہ رکا رہا
سبھی زحمت دل زار کو جو تمام کرکے چلا گیا
دل مضطرب کی پکار ہے کہ وہ بے پناہ حسین شخص
مری حسرتوں، مری خواہشوں کو غلام کرکے چلا گیا
جسے ہر نظر سے چھپا کے میں نے رکھا تھا دل میں علی ایاز
وہی چاہتوں بھری داستان کو عام کرکے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔
بے لوث محبت نہ مروت سے جڑا ہے
ہر شخص مرے ساتھ ضرورت سے جڑا ہے
اے بندۂ نادان کبھی غور کیا ہے
اک او ر جہاں تیری بصارت سے جڑا ہے
دل اور کسی شخص سے مانوس نہیں ہے
جب سے تو مرے گوشِ سماعت سے جڑا ہے
ہے میرے لیے لائقِ تکریم کہ جب تک
ہر شخص جو تجھ شہرِ محبت سے جڑا ہے
رکھتا ہے مرے قلب کے ہر گوشے کو روشن
اک اشکِ ندامت جو عبادت سے جڑا ہے
