ناصر زیدی ۔۔۔ مرزا : میرایار (پروفیسر ڈاکٹر مرزابیگ)

مرزا  :  میرایار
(پروفیسر ڈاکٹر مرزابیگ)
مرزامیرادوست نہیں،میرا یار ہے۔ مرزایعنی پروفیسر ڈاکٹر مرزاحامد بیگ! جسے میں پیار سے’ ’مرزاقادیان والے‘‘ کہہ کر پکارتا ہوں تو ملکہ ترنم کے گائے ہوئے اس پنجابی گیت کی طرح’’جدوں ہولی جئی لیندا میر اناں،میں تھاں مرجاندی آں‘‘مرزاتھاں نہیں مرجاتا،بلکہ میرے ’’ہولے جئی‘‘ نہیں، پورے زور سے اس لاحقے کے ساتھ پُکارنے پر کھلکھلا کر ہنستاہے اور پھر ہنستا ہی چلا جاتاہے۔ میری طرف سے دیے گئے اس اعزاز کو وہ اس طرح خوش دلی سے قبول کرتا ہے گویا اس کے من کی مراد مل گئی ہو،اس کے دل کی کلی کِھل گئی ہو یا جیسے اسے ایک اور تمغاے امتیاز عطا کر دیا گیا ہو جو اسے اس کی ماہرانہ ادبی خدمات کے صلے میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے پہلے ہی ملا ہوا ہے۔ تو یارو!جان لو اور مان لو کہ مرزا میرا بے تکلف یار ہے۔ بلکہ’’یارِطرح دار‘‘ہے۔ میں کبھی کسی صورت یہ نہیں کہوں گا کہ وہ’’یار مار‘‘ ہے۔ ویسے اس کا اصلی یار صرف اور صرف ایک تھا، وہ ہے خالد اقبال یاسر۔ وہی اوّل وہی آخر اور اس کے بعد اگر کوئی ہو سکتا ہے تو محمد خالد،محمد اظہار الحق،غلام حسین ساجد،ڈاکٹر عبد الکریم خالد اور ڈاکٹر ناصر بلوچ بھی کہ وہ مرزا کے نزدیک عہدِ رواں کا بہت بڑا غزل گو شاعر ہے۔ بے شک:
کند ہم جنس باہم جنس پرواز   کبوتر با کبوتر باز باباز
ایک بڑا شاعر ہی ایک بڑے نقاد کی تنقیدی صلاحیت کی صحیح کفالت کرسکتا ہے۔ ان معنوں میں ڈاکٹر ناصر بلوچ مرزا کا ادبی کفیل ہے۔
خالد اقبال یاسر کے ساتھ مرزا کے موجودہ تعلقات کا تومجھے علم نہیں البتہ جب تک یاسر،اکادمی ادبیات پاکستان کے سہ ماہی مجلّے’’ادبیات‘‘ کا مدیر رہا، کوئی ایک شمارہ بھی ایسا نہیں جو مرزا کی کسی بھی قسم کی تحریر کے بغیر زیورِطبع سے آراستہ ہوا ہو، بلکہ کیفیت یوں تھی:
گلیاں ہو جان سنجیاں،وچ مرزا یار پھرے
اُنھی دنوں مرزا نے مجھے خود بتایا تھا کہ لیکچررشپ کی تنخواہ میں کیا رکھاہے؟اکادمی کے سہ ماہی مجلّے’’ادبیات میں تسلسل سے چھپنے والی تحریروں کے خطیر معاوضے اور اکادمی کے دیگر تحقیقی و تنقیدی منصوبوں پر مبنی کام اور ڈاکٹر وحید قریشی کے زمانے میں مقتدرہ قومی زُبان سے’’بیگ بھری‘‘حاصل شدہ رقموں ہی سے وہ ذاتی کوٹھی بنواسکا ہے اور کار کی شکل میں سفید ہاتھی بھی پال سکا ہے۔ لیکچررشپ کی تنخواہ تو کچن کے اخراجات کے سلسلے ہی میں اِدھر آئی اُدھر گئی…!
لاہورمیں جب مرزا اٹک سے ا ٓکر پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج میں ایم اے اُردو کر رہاتھا،میں اُن دنوں’’ادبِ لطیف‘‘کا ایڈیٹر تھا۔ مرزا میرے دفتر تواتر سے آتا،اس کی ایک آدھ ابتدائی تحریر’’ادبِ لطیف‘‘ میں چھپی مگر اس کی آمد کا ایک بڑا سبب میرا ہمہ وقت’’ہجوم مہوشاں‘‘ میں گھرا ہونا بھی تھا۔ یونیورسٹی میں وہ پروفیسر ڈاکٹر سید سجاد باقر رضوی کے چرنوں میں بیٹھتا اور ان کے پائوں دھو دھو کر پیتا تھا۔ اس کا نتیجہ دوسرے گروپ کے ہیوی ویٹ سرخیل ڈاکٹر وحید قریشی کی شدید ناراضی تھا۔ مرزا نے یہ ناراضی زمانۂ طالبِ علم کے بعد تک، مدتوں مول لیے رکھی’’راضی نامے‘‘کاصحیح وقت اس دورِ زرّیں میں آیا جب ڈاکٹر وحید قریشی مقتدرہ قومی زُبان کے سربراہ بن کر لاہور سے اسلام آباد پہنچے۔ انھیں وہاں سب سے زیادہ خوش آمدید کہنے اور گھر پر پہلی دعوت دینے والا اگرچہ میں ہی تھا، مگر میں نے ان کے پورے دورِ اقتدار میں مقتدرہ سے ٹکے کا کام بھی نہ لیا۔ اس مطلب یہ نہیں کہ میں نے ٹکے کا کام بھی نہ لیا تو ڈاکٹر وحید قریشی نے دیا بھی نہیں۔ ایسا نہیں ہے، دعوت کے کچھ عرصے کے بعد اُنھوں نے ڈاکٹر نثار احمد قریشی کی ایک چھوٹی سی کتاب’’اُردو میں ترجمے کا فن اور اس کی روایت’’کے عنوان سے مجھے بھجوائی کہ اس کا…کا،کے،کی درُست کردوں’’پروف ریڈنگ‘‘ کالفظ استعمال کرنے سے گریز کیا گیا تھا، اس معمولی سے کام کا اعزاز یہ مبلغ پانچ ہزار روپے دینے کی پیش کش کی گئی تھی، جس سے مجھے بدگمانی ہوئی کہ گویا ڈاکٹر صاحب نے پہلی دعوت کے کھانے کے بِل کی ادائی کرنا چاہی ہے۔ چاہتا تو اگلے ہی دن حسبِ الحکم تعمیل ارشاد کر کے کتاب بھجوادیتا۔ مگر میں نے چند رو زنہیں بلکہ کئی روز تک کتاب کو دابے رکھا، وجہ اس کی یہ تھی کہ مقتدرہ کے ایک رُکن اور میرے پرانے شناسا ڈاکٹر عطش دُرانی نے مجھ سے التجا کی کہ میری کتاب بالکل اسی موضوع پر لاہور سے چھپ کر آنے والی ہے، آپ اس کا م کو چند روز تک دبائے رکھیں تا کہ میرا کام جو پہلے سے کیا ہواہے ، پہلے سامنے آجائے‘‘…اس التجا پر میں نے اپنے آپ اور اپنے کام سے بددیانتی برتی۔ محولہ بالا کام میں جب حد سے زیادہ تاخیر ہوگئی تو بغیر اصلاح کے وہ کتاب ڈاکٹر صاحب نے واپس منگوالی۔ اس اثنا میں ڈاکٹر عطش دُرانی کا اُلو سیدھا ہوگیا۔ مگر میرے لیے’’آں قدح بہ شکست وآں ساقی نماند‘‘والا معاملہ ہوگیا۔ مجھ سے مایوس ہوکر ڈاکٹر مرزاحامد بیگ کی طرف سے بڑھائے گئے تجدیدِ تعلق کے ہاتھ کو ڈاکٹر وحیدقریشی نے قبول کر لیا اور کتابچوں پر کتابچے مرزاحامد بیگ کے قلمِ معجز رقم سے نکلنے لگے۔ یہ الگ بات کہ ان کتابچوں اور کتابوں کا بنیادی مواد بھی میری ذاتی لائبریری سے حاصل کیاگیا۔ بہرحال ڈاکٹر وحید قریشی کے دورِ زرّیں میں مرزا کی پانچوں گھی میں اور سرکڑاہی میں رہا۔ مرزا کی یہ قلبِ ماہیت ازخود ہی اس قدر ہوئی کہ فارسی دانوں نے اس شعر کے صحیح معنی و مفہوم کا ازسرِ نو تعین کرنا شروع کر دیا:
من تو شدم، تو من شدی، من جاں شدم تو تن شدی
تاکس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری
حکایاتِ شیخ سعدیؒ کی طرح نتیجہ:زندگی میں جس سے مرضی لڑو بھڑ، مدِّ مخالف کی ہستی کو نیستی میں بدل ڈالو مگر جب وہ اقتدار میں آجائے اور اتنا مقتدر ہوجائے کہ آپ کو فائدہ پہنچاسکے تو جھٹ صلح کر لو اور حضرت امیر مینائی کے اس لازوال ضرب المثل مصرعے کا سہارا لے لو کہ:
بڑا مزا اس ملاپ میں ہے جو صلح ہو جائے جنگ ہوکر
مرزا نے اب تک قوم کا سینکڑوں من سفید کاغذ سیاہ کر کے ضائع کیا ہے۔ دُنیا کا کوئی موضوع ایسا نہیںہے جو مرزا کے قلم کی زد میں نہ آیا ہو۔ مرزا بہ یک وقت افسانہ نگارہے، کہانی نویس ہے، ادیب ہے، مترجم ہے، مرتب ہے، مدون ہے،اُستادوں کا اُستاد ہے۔ سب سے بڑھ کر وہ بے باک، صاف گو،منہ پھٹ قسم کا نقاد ار منفرد طرز کا محقق ہے۔ وہ مولانا الطاف حسین حالی  ؒ کے فرمان کا قائل نہیں کہ:
چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی
بلکہ نئی نسل کے جدید لب و لہجہ کے شاعرجمال احسانی سے متاثرہے۔ جس نے کہا تھا:
میں اُس کو چھوڑ دیتا ہوں جو رستہ عام ہوجائے
مرزا سے پوچھو’’علامہ اقبالؒ کی مسولینی سے ملاقات ہوئی؟ کیا بات ہوئی؟ کتنے منٹوں پر محیط رہی؟‘‘
وہ کوئی لحاظ ملاحظہ رکھے بغیر جھٹ اپنا تحقیقی فیصلہ سنائے گا’’علامہ نے جھوٹ بولا ہے۔ کوئی ملاقات وُلاقات نہیں ہوئی۔‘‘اب آپ تحقیق مزید کے لیے ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیے، اس کی بلا سے…ڈاکٹراکرام چغتائی البتہ ’پولے سے منہ سے‘ شریفانہ انداز میں احتجاج کریں گے کہ’’علامہ پر جھوٹ بولنے کا الزام نہیں لگایا جاناچاہیے تھا، اور بس۔
پڑھے لکھے لوگوں میں بھی عام تاثر یہ ہے کہ باباے ارُدو ڈاکٹر مولوی عبدا لحق نے تمام عمر شادی نہیں کی اور اُرددو کی محبت میں تجرد کی زندگی گزاری…تو بابائے اُردو کی گیسوئے اُردو سنوارنے کی خاطر مجرد زندگی گزارنے کی بات مرزا کے دل کو نہیں لگے گی اور وہ پنجاب کے کسی دُور دراز کے گائوں سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر کوئی بُڑھیا برآمد کر لے گا کہ شادی تو اس کے ساتھ ہوئی تھی، نبھی نہیں۔جلد ہی یا اگلے دن طلاق ہوگئی…نتیجتاً…آپ باباے اُردو میں کوئی’’جسمانی نقص‘‘خود ڈھونڈتے رہیں، مرزا نے تو تحقیق کرڈالی۔ آپ پڑھتے سنتے چلے آئے ہوں، بلکہ سُن سُن کے آپ کے کان پک گئے ہوں کہ اُردو کا پہلا افسانہ نگار منشی پریم چند ہے۔
مرزا کہے گا’’یہ سب سکول ماسٹر قسم کے محقق پروفیسروں کی لایعنی تحقیق ہے۔ اصل میں تو اُردو کا پہلا باقاعدہ افسانہ نگار علامہ راشدالخیری ہے۔ یوں وہ افسانے کی دُنیا میں اوّلیت کے اعزاز کو سیکولر پریم چند سے چھڑا کر’’اے مائو،بہنو،بیٹیو!‘‘قسم کے مولوی راشد الخیری کو بخش دے گا۔آپ اس تحقیق پر سردُھنتے رہے: دیوانہ بہ کارِ خویش ہشیار۔
حکایاتِ شیخ سعدیؒ کی طرح اس حکایت کا زرّیں نتیجہ: اس بہانے علامہ راشد الخیری اکیڈمی کراچی نے متذکرہ تحقیقی موضوع کے تحت راشد الخیری پر مرزا کی کتاب تو چھاپ دی نا! ظاہر ہے یہ کام مفت میں مرزا نے نہیں کیا ہوگا۔
میں نے مرزا کی ہر کتاب کی خوشبو کی طرح پزیرائی کی ہے۔ اپنی زیرِ ادارت مختلف رسائل وجراید میں مثبت تبصرے چھاپے۔خود لکھے، ریڈیو،ٹی وی سے بھی نشر کیے۔ اخبارات میں اور اپنی زیرِ ادارت شائع ہونے و الے ہفت روزہ’’حرمت‘‘راولپنڈی میں ’’گم شدہ کلمات‘‘ پر ایسا تبصرہ کیا گویا مرزا کا من چاہا اشتہار ہی چھاپا۔ ہر چند میں نے حد سے بڑھ کر مرزا کی قصیدہ نگاری کی،مگر یہ ٹریفک ہمیشہ یک طرفہ ہی رہا۔ سارے احسان نقصان کے بدلے مرزا کارویہ’’زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد‘‘ کی ضرب المثل کی طرح رہا…!
جیسا کہ میں نے شروع میں بھی کہا، مرزا نے ہر موضوع پر کاغذ کالے کیے۔ ترتیب، تدوین، تحقیق، تنقید،ترجمہ،غرض سب ہی کچھ مرزا کے زیرِ قلم رہا۔ مگر مجموعی طور پر اس نے قلم سے ازار بند ڈالنے کا کام زیادہ لیا کہ محض حصولِ زر کے لیے براے نام ادب کے نام پر کرم کرنا اسی ذیل میں آنا چاہیے۔ مختلف نوعیتوں کے ہر انتخابی کام میں بڑی کوشش اور محنت سے مرزا نے یہ احتیاط برتی کہ خالد اقبال یاسر کا نام کہیں رہ جائے اور میرا نام غلطی سے آنہ جائے۔ پھر بھی ایک بہت ہی زیادہ ضیخم کتاب’’اُردو افسانے کی روایت‘‘میں ایک دو جگہ میرا نام چھَپ ہی گیا۔ ہوا یوں کہ اس کتاب کے لیے بہت سے افسانوں کی نشان دہی کے ساتھ ساتھ بعض مشہور افسانہ نگاروں کی نادرونایاب تصویر بھی میں نے مرزاکو مہیا کیں۔ جن میں مجنوں گورکھپوری،خان فضل الرحمٰن، اعظم کریوی،قرۃ العین حیدر، کوثر چاندپوری، عصمت چغتائی، انتظار حسین اور کچھ اور بھی تھے جن کے نام اس وقت ذہن میں نہیں آرہے۔
عصمت چغتائی نے میری آٹو گراف بُک پر انگریزی میں اپنا ایڈریس لکھاتھا اور آٹوگراف کے ساتھ تاریخ۱۵-۱۰-۱۹۷۶ درج کی تھی۔ اسی طرح کوثر چاند پوری نے دِلّی(انڈیا) میں اپنے گھر میں مجھے اپنی کتاب عنایت کرتے ہوئے دستخطوں کے ساتھ تاریخ۱۶ مارچ۱۹۸۵ء درج کی تھی۔ جو مرزا کی متذکرہ کتاب میں موجود ہے۔ مگر میرانام اُڑا دیا گیاہے۔ لگتا ہے جیسے یہ سب کچھ ان شخصیتوں نے مرزاحامد بیگ ہی کے نام لکھاہو۔ یہ ادبی بددیانتی حلوائی کی دُکان پر دادا جی کی فاتحہ کے مترادف ہے…کوثر چاند پوری کی تصویر میں نے ان کے ایک افسانوی مجموعے سے نکال کر مرزا کو دی تھی۔ یہ کتاب کوثرچاند پوری نے دِلّی میں مجھے۱۹۸۵ء میں بہ نفسِ نفیس بہ وقت ملاقات عنایت کی تھی۔ چناںچہ تصویر کے نیچے ان کے دستخط، سنِ تاریخ اور میرا نام لکھا ہوا تھا۔ یہ تصویر غلطی سے ہوبہو شائع ہوگئی اور یوں میرانام بھی براہِ راست شائع ہوگیا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ مجنوں گورکھ پوری کا ہے کہ اُنھوں نے اپنی کتاب’’سمن پوش‘‘ پر میرا نام لکھ کر اپنے دستخطوں کے ساتھ عنایت کرتے ہوئے یہ شعر بھی لکھا تھا:
یہ بے بالیدگی یہ ننگ ِ ہستی
جہاں اُٹھتا تھا درد اب تک وہیں ہے
تصویر چھاپتے وقت میرا نام کاٹ دیا گیا اور شعر رہنے دیا گیا۔ اب تاثر یوں بنا کہ گویا مجنوں گورکھپوری نے مؤلف کتاب مرزا کو شعر لکھ کر کتاب پیش کی۔ جب کہ مرزا نہ شاعر، نہ شاعر کی دُم، اسے شعر کا کیا پتا؟ سوائے یاسر اور ناصر بلوچ کے شعروںکے، گویا: چہ داند بوزنہ لذّات ِادرک … ان’’غلطیوں‘‘ کا ازالہ ۱۸سال بعد دوسرے ایڈیشن میں کر دیا گیا کہ اب کوثر چاند پوری کی صرف تصویر شامل ہے۔ میرے نام کتاب پیش کرنے کا نام و نشان ختم۔ شکرِ خدا ہے اب میرانام کسی بھی جگہ پروف ریڈر کی غلطی سے بھی مرزا کی مذکورہ کتاب میں شامل اشاعت نہیں، جیسے یہ سارا کام بلکہ کارنامہ یکاو تنہا مرزا ہی کا ہے۔ جب کہ میرا کام کتاب میں جگہ جگہ بول رہا ہے۔میں نے اکثر افسانہ نگاروں کے ناقابلِ فراموش افسانوں کی نشاندہی کی بلکہ میری مرتب کر دہ کتابیں’’۱۹۶۷ء کے منتخب افسانے‘‘ سے لے کر’’۱۹۷۵ء‘‘ کے منتخب افسانے‘‘ تک اور’’۱۹۸۶ء‘‘ کے بہترین افسانے’’ سے لے کر ’’اُردو کے ناقابلِ فراموش افسانے‘‘ تک سب ہی مرزا کے زیرِ نظر رہیں۔ یہ ہے افسانے کے سوسالہ تحقیقی کام کی رام کہانی۔ مرزا جن دِِنوں یہ کام کر رہا تھا میں نے عملاً اپنی ذاتی لائبریری اس کے سپرد کیے رکھی۔ اس نے میرے تمام رسائل و جراید سے مصنفین کی تصاویر بڑی مہارت سے اُڑالیں اور یوں میرے رسالے اور میری کتابیں بنجر کر ڈالیں۔ یہ کام اس نے شیما مجید کی طرح تمام پبلک لائبریوں میں بھی کیا۔ اس کا’’میگا پراجیکٹ‘‘ بمبئی کے صابردت کی طرح ادبا و شعرا اور افسانہ نگار و ناول نگار حضرات وخواتین کی بہت ضیخم البم چھاپناہے۔ مولانا حالی  ؒ نے کہا تھا:
اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار
اِک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت
یار لوگ اپنی کتابوں سے،رسالوں سے ہشیار رہیں ورنہ مرزا دیکھنے دیکھنے کے بہانے ہاتھ کی صفائی دکھا جائے گا اورآیندہ نسلیں مرزا کا مرتب کردہ تصویری البم دیکھ کر مرزا کو داد تو دیں گی کہ’’واہ واہ مرزا کی کیسے کیسے شاعروں، ادیبوں تک رسائی تھی۔’’مگر واوین میں یہ جملہ کہنے والا موجود نہ ہوگا’’واہ‘‘مرزا واہ! ایں کارازا تو آید ومرداں چنیں کنند۔
پروفیسر ڈاکٹر مرزا حامد بیگ کے متذکرہ’’میگا پراجیکٹ‘‘ سے قطع نظر کہ یہ ابھی منصّۂ شہود پر آنا باقی ہے، مرزا کا جو کام مطبوعہ صورت میں مارکیٹ میں پھیلا ہوا ہے اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:
افسانے: گمشدہ کلمات،تار پر چلنے والی،قصہ کہانی(پنجابی)،گناہ کی مزدوری،لاکر میں بند آوازیں(ہندی)
تراجم: نرناری(افسانے)۔کہانی:حمیدہ کی کہانی۔عالمی کلاسیک۔ میگزین: ایڈیٹر گل بکائولی (ایک ہی شمارہ)
تنقید و تحقیق:افسانے کا منظر نامہ، تیسری دُنیا کاافسانہ، اُردو کا پہلا افسانہ نگار،راشد الخیری، نسوانی آوازیں(خواتین کے افسانے)، پاکستان کے شاہکار اُردو افسانے۔
’’پاکستان کے شاہکار اُردو افسانے‘‘ کے حوالے سے مشفق خواجہ نے ڈاکٹرصدیق جاوید کو اپنے خط محررہ۲۸جولائی۲۰۰۷ء میں لکھا۔’’مرزا حامد بیگ کے بارے میں مضمون ضرور لکھیں۔‘‘ حال ہی میں اُنھوں نے’’ پاکستان کے شاہکار اُردو افسانے‘‘ کے نام سے ایک انتخاب شائع کیاہے۔ ایساخراب انتخاب میں نہیں دیکھا۔ اپنے دوستوں کے افسانے بھی جی کھول کر شامل کیے ہیں۔
(مضمون مطبوعہ’’الحمراء‘‘ازڈاکٹر اکرام چغتائی اگست۲۰۱۶ء)
مقالات: اُردو سفرنامے کی مختصر تاریخ،ترجمے کا فن۔ نظری مباحث۔مغرب سے نثری تراجم، کتابیاتِ تراجم۔ علمی کُتب۔نثری ادب، مصطفی زیدی کی کہانی، اطالیہ میں اُردو، عزیزاحمد(کتابیات)، ٹی ایس ایلیٹ، اُردو ادب کی شناخت اُردو اور صوفی ازم، باغ وبہار نسخہ فیض اللہ کلکتہ تذکرہ طور پر اسرار۔
آخری اور ضروری بات: بہت ہی باکمال قلم کار احمد بشیر نے کشور ناہید کا خاکہ لکھا ’’گشتی … کشور ناہید کے باقاعدہ رونے دھونے سے عنوان بدل کے’’چھپن چھری‘‘کر دیا مگر کاٹ وہی رہی۔ ’’مرزا میرا یار‘‘پڑھ کر پروفیسر ڈاکٹر مرزا حامد بیگ روئے یا نہ روئے، میرا یار ہرگز نہیں رہے گا۔ ویسے میری طرف سے صلاے عام ہے کہ وہ بھی یونس جاوید کی طرح خنجر آزمالے! مرزا کبھی کبھار انگریزی میں مجھے ایس ایم ایس بھی کرتا رہا۔ ایک یادگار ایس ایم ایس یوں ہے:
Those who are special, never go away. They walk beside us every day unseen un heard but still near.
(Dr. Mirza Hamid Baig ۱st May 2015/ 17/ 22.29

Related posts

Leave a Comment