حُسین سحر
(لوگ کیوں زیرِزمیں روز چلے جاتے ہیں؟)
رواں سال یعنی۲۰۱۶ء میں یکم جنوری سے یکم اکتوبر تک پورے نوماہ کے دوران میں اس جہانِ فانی سے عالمِ جاودانی کو سُدھار جانے والے شعرا و ادبا ودانش وَر حضرات کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ محض نام گِنوانے میں زمانے لگ جائیں۔ اس موقع پر یہ مشہور ِ زمانہ شعر یاد آتا ہے:
لوگ کیوں زیرِ زمیں روز چلے جاتے ہیں
نہیں معلوم تہِ خاک تماشا کیا ہے؟
جانے والوں کا ذکرِ خیر ہی دراصل ان کا آخری پروٹوکول ہوتا ہے جو زندہ رہ جانے والوں پر فرض اورقرض ہوتا ہے ۔ ایک ایک کانام لکھتا جائوں تو بلا ترتیب ِزمان و مکان کچھ یوں فہرست بنے گی:
انتظارحسین، جمیل الدین عالی، ڈاکٹر اسلم فرخی، آغا ناصر، ڈاکٹر انور سدید، ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی، عطیہ خلیل عرب، ڈاکٹر ممتاز احمد، فاطمہ ثریا بجیا، ڈاکٹر احسن اختر ناز، نسرین انجم بھٹی ، نیساں اکبر آبادی، ذکاء الرحمٰن،پروفیسر حسین سحر، محی الدین نواب، غازی مونگیری، ظافر تشنہ، احسن سلیم، فخرِ عالم، نعمانی ،حسین شاہد، مختار جاوید، گلزار صابری، فاروق قمر صحرائی، غلام مصطفی بسمل،سعید سلیمی، محمد خان فانی، لطیف راز، شعیب جاذب، بشیرحسین جعفری، صابر حسین امداد(مقتول)علی شاہ،ع، م بدرسرحدی(عنایت مسیح، بدرسرحدی)،عارف منصور(سابق منصور ملتانی)، سیّد فضل حسین شاہ، ممتاز میلسی، مسعود حسین، سید عارف، پی ٹی وی کے پروڈیوسر، رائٹر محمد عظیم(سابق برکت عظیم، سابق برکت مسیح)، عارف رانا، طاہر رضوی، اختر مرزا۔ اورصحافی حضرات پرویزحمید، اطہر عارف، زاہد ملک،سلیم پاشا، زاہد علی خان، رفیق غوری اور انڈیاکے معروف و ممتاز اہلِ قلم اور شعرا حضرات ندافاضلی، زبیر رضوی، جوگندرپال اور ملک زادہ منظور احمد۔ ان سے قطع نظر لگ بھگ ۴۸ نابغہ ٔ روزگار پاکستانی شعرا و ادبا کی تعداد میں ایک اور کا اضافہ بھی ابھی جمعرات۲۹ ستمبر۲۰۱۶ء کو ہوگیا۔ اسلام آباد سے ڈاکٹر توصیف تبسم اور طارق نعیم نے اطلاع دی کہ(مختار علی خان) پرتو روہیلہ جمعرات کی صبح۵بجے انتقال کرگئے اور اسی روز شام کو تدفین بھی ہوگئی۔ وہ کینسر میں مبتلا تھے گزشتہ ایک دو ماہ پہلے شوکت خانم ہسپتال لاہور میں زیرِ علاج بھی رہے، بظاہ رکچھ تندرست ہو کر واپس گئے،لکھنے پڑھنے کا سلسلہ آخر دم تک جاری رہا۔’’الحمراء‘‘ لاہور کے شمارہ ستمبر۲۰۱۶ء میں آخری کلام دو غزلوں کی صورت میں چھَپا۔ اُن کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
پہچان نہیں پاتا ہوں آج اپنی ہی صورت
بیٹھا ہے مِرا آئینہ حیراں، مِرے آگے
بیماری کے دوران دواؤں کے استعمال کا تجربہ پرتو روہیلہ نے یوں بیان کیا:
اُلٹی ہوئی جاتی ہیں، داناؤں کی تدبیریں
طاقت کی دواؤں سے بڑھتی ہے نقاہت بھی
ان مرحومین میں سے اکثر کے بارے میں مختلف کالموںمیں لکھ چکا ہوں۔ جن پرنہیں لکھ سکا، ان کا ذکرِ خیر اس وقت مقصودہے۔
پروفیسر حسین سحر، جنھیں میں پیار سے حسِین سحر کہتا تھا کہ وہ خوب صورت ہی بہت تھے۔ میرا جب ان سے پہلے پہل تعارف ہوا تو وہ خود کو سحر رومانی لکھا کرتے تھے۔ اس نام سے اُنھوں نے مجھے ایک غزل بھجوائی جو میں نے بطور ایڈیٹر ماہنامہ’’گل خنداں‘‘ لاہور۱۹۶۳ء میں شائع کی۔ اس کا خوب صورت مطلع ہمیشہ کے لیے ذہن میں اَٹک کر رہ گیا ۔ وہ تھا:
غنچہ و گُل کی نہ نسرین و سمن کی خوشبو
بس گئی ذہن میں بس تیرے بدن کی خوشبو
پھر یوں ہوا کہ وہ سحر رومانی سے حسین سحر ہوگئے اور اسی ادبی قلمی نام سے تمام عمردرس وتدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ گورنمنٹ علمدارحسین کالج ملتان کے پرنسپل بھی رہے۔ پرنسپل تھے کہ انھیں ایک بدنامِ زمانہ دہشت گرد تنظیم کی طرف سے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگیں کہ وہ امام مظلومؑ کے ماننے والوں میں سے تھے اور’’یزیدی ٹولے‘‘ کو ایک مردِ مومن کا پرنسپل ہونا گوارا نہ تھا۔ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جدہ (سعودی عرب) چلے گئے۔ برسوں بعد اپنے وطن واپس آئے اورملتان میں ادبی و تعلیمی سرگرمیوں میں پھرسے فعال ہو گئے۔ دسیوں کتابیں شائع کرائیں۔ اپنی محبوبہ اہلیہ محترمہ کے داغِ مفارقت دے جانے سے بُجھ سے گئے تھے اور آخر انھیں عارضۂ قلب نے آلیا۔اہلیہ کی برسی ہونے سے پہلے پہلے خود بھی ان کے پہلو میں تہ ِخاک چلے گئے۔ رہے نام اللہ کا۔!
حسین سحر بہت خوب صورت انسان تھے۔ بہت عمدہ گفتگو کرتے۔ ہمیشہ دُھلے دُھلائے نکھرے ستھرے اور لباسِ فاخرہ میں ملبوس نظر آتے۔ ان سے لاہور میں ملاقاتیں رہیں اور مختلف شہروں میں مشاعروں کے دوران بھی ملاقاتیں رہیں۔ اب آخری دور میں تین چار بار فون پر ہی بات ہو سکی کہ میں نے ان کی شاعری کی نئی کتاب’’جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا‘‘ پر ریڈیو لاہور سے تبصرہ کیا تو پہلے سے اطلاع دی کہ وہ سُن لیں مگرنہ سُن سکے۔ بعد میں پھر اطلاعاً فون کیا کہ تبصرہ کر دیا ہے کہ آپ نے ساری کتاب ہی اہلیہ محترمہ کے فراق میں لکھ دی ہے ۔ ایک پتی ورتا خاتون صفیہ اخترتھیںکہ اُنھوں نے اپنے شوہر جاں نثار اختر کے نام جو ہجر ووصال کے خطوط لکھے ،انھیں دو کتابوں میں محفوظ کر دیا اور ادب میں ایک ’’پتی ورتا‘‘ محبوبہ بیوی کے طور پر اَمر ہوگئیں ، اب ایک آپ ہیں جو’’پتی ورتا‘‘ شوہر ہیں۔آج تک کسی شاعر نے کم ہی اتنی شاعر ی بیوی کے لیے کی ہوگی۔ احمد شمیم بھی(کبھی ہم خوب صورت تھے فیم) آپ ایسے ہی شوہر تھے ،غرض بہت باتیں ہوئیں۔اُنھوں نے اپنی ساری کتابیں بھیجنے کا وعدہ کیا جو قضا وقدر کے ہاتھوں ایفا نہ ہو سکا۔۱۵ستمبر۲۰۱۶ء کو وہ انتقال کرگئے!
حسین سحر کی آخری غزل جناب کنول فیروز کے ماہنامہ’’شاداب‘‘ ستمبر۲۰۱۶ء میں تین سفری خط کے ساتھ شائع ہوئی۔ اس غزل کے دو تین شعر نذرِ قارئین ہیں۔
ہم اپنی آنکھ میں آنسو کہیں نہیں رکھتے
کہ اس مکان میں کوئی مکیں نہیں رکھتے
بس ایک دَرہے ہماری عقیدتوں کا امیں
ہر آستاں پہ ہم اپنی جبیں نہیں رکھتے
جو، اُن کے دل میں اُتر جائے نغمگی بن کر
صدا ہم ایسی سحر دل نشیں نہیں رکھتے
اور ایک بار پھر ہمیں بے ثباتیِ دُنیا پر یہ شعر یاد آرہا ہے:
لوگ کیوں زیرِ زمیں روز چلے جاتے ہیں!
نہیں معلوم تہِ خاک تماشا کیا ہے؟
