ارشد نعیم : منچندا بانی— ایک گم شدہ خواب کا مغنی

منچندا بانی— ایک گم شدہ خواب کا مغنی منچندا بانی نے آنکھ کھولی تو ایک ہزار سال کے تجربات سے تشکیل پانے والی ہند اسلامی تہذیب ایک حادثے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہندوستان آزادی کی تحریک کا مرکز بنا ہوا تھا اور ہندوستان کی تقسیم آخری مراحل تک تھی اور ایک ایسی ہجرت کے سائے دو قوموں کے سر پر منڈلا رہے تھے جو لہو کی ایک ایسی لکیر چھوڑ جانے والی تھی جسے صدیوں تک مٹانا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ احساس، یہ منڈلاتا ہوا خطرہ ہمیں بانی کے…

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔۔ آج کے دن صاف ہو جاتا ہے دل اغیار کا

آج کے دن صاف ہو جاتا ہے دل اغیار کا آؤ مل لو عید یہ موقع نہیں تکرار کا رخ پہ گیسو ڈال کر کہنا بتِ عیار کا وقت دونوں مل گئے منہ کھول دو بیمار کا جاں کنی کا وقت ہے پھِرتی نہ دیکھو پتلیاں تم ذرا ہٹ جاؤ دم نکلے گا اب بیمار کا حرج ہی کیا ہے الگ بیٹھا ہوں محفل میں خموش تم سمجھ لینا کہ یہ بھی نقش ہے دیوار کا اس قفس والے کی قسمت قابلِ افسوس ہے چھوٹ کر جو بھول جائے راستہ…

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے

مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے مگر ذکر شامِ الم کا جب آیا چراغِ سحر بجھ گیا جلتے جلتے انھیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا محبت نہ کرتے تمھیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے کہیں پائے نازک میں موچ آنہ جائے دلِ سخت جاں کو مسلتے مسلتے بھلا کوئی وعدہ خلافی کی حد ہے حساب…

Read More