گلزار بخاری ۔۔۔ اور جاکر کہیں کرتا ہے سحر شام کے بعد

اور جاکر کہیں کرتا ہے سحر شام کے بعد
ختم ہوتا نہیں سورج کا سفر شام کے بعد

توڑ دیتی ہیں خموشی کو چہکتی چڑیاں
بولنے لگتے ہیں چپ چاپ شجر شام کے بعد

اُس کو خورشید نظر تک نہیں آنے دیتا
مرکزِ دید ٹھہرتا ہے قمر شام کے بعد

بھول جاتی ہے اُنھیں خلق ضرورت کے بغیر
یاد آتا ہے چراغوں کا ہُنر شام کے بعد

راستہ کون دکھاتا ہے اندھیرے میں اسے
کس طرح ڈھونڈتی ہے فاختہ گھر شام کے بعد

پھول اُجلے سے کھلائے ہیں فلک پر کس نے
کھیت چاندی کا ہے کیا پیشِ نظر شام کے بعد

قدر داں صرف ہے رب گریۂ شب کا گلزار
رنگ لائے گا ترا دیدئہ تر شام کے بعد

Related posts

Leave a Comment