وہ بے نقاب سامنے آئیں بھی اب تو کیا دیوانگی کو ہوش کی فرصت نہیں رہی
Read MoreTag: شعر
صفی لکھنوی
کس قدر اچھا ہے نور اس کا خود مستور ہے جلوہ گر دل کے قریب آنکھوں سے دور ہے
Read Moreصفی لکھنوی
وہاں بالوں میں کنگھی ہو رہی ہے خم نکلتا ہے یہاں رگ رگ سے کھنچ کھنچ کر ہمارا دم نکلتا ہے
Read Moreایوب رومانی … دل میں کچھ درد سوا ہے یارو
دل میں کچھ درد سوا ہے یارو آج رونا بھی روا ہے یارو سانس لیتا ہوں تو دم گھٹتا ہے کیسی بے درد ہوا ہے یارو میں جو ہنستا ہوں تو رو دیتے ہیں تم کو کیا آج ہوا ہے یارو کس نے احساس کی دولت پائی کون دیوانہ ہوا ہے یارو اتنی ویران نہ تھیں یہ آنکھیں ضبط کرنے کا صلہ ہے یارو اپنے دامن میں کوئی پھول نہیں دل میں کانٹا سا چبھا ہے یارو خود پکارا اسے خود دوڑ پڑے خوب گنبد کی صدا ہے یارو
Read Moreبسمل صابری ۔۔۔ حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور
حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور لب کہتے ہیں کچھ اور انھیں ہوتا ہے گماں اور جائیں تو کہاں جائیں محبت کے خریدار اربابِ سیاست نے تو کھولی ہے دکاں اور معلوم نہیں ہے مرے صیاد کو شاید گھٹتی ہے اگر سانس تو کھلتی ہے زباں اور اب وعدۂ فردا میں کشش کچھ نہیں باقی دہرائی ہوئی بات گزرتی ہے گراں اور دیکھے گی جو اک پل میں مری آنکھ سے تجھ کو ہو جائے گی دنیا تری جانب نگراں اور لگ جاتی ہیں مہریں سی…
Read Moreقتیل شفائی
ترکِ وفا کے بعد یہ اس کی ادا قتیلؔ مجھ کو ستائے کوئی تو اس کو برا لگے
Read Moreقتیل شفائی
گرمیٔ حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی
اس پر تمہارے پیار کا الزام بھی تو ہے اچھا سہی قتیلؔ پہ بدنام بھی تو ہے
Read Moreقتیل شفائی
فرازِ بے خودی سے تیرا تشنہ لب نہیں اترا ابھی تک اس کی آنکھوں سے خمارِ شب نہیں اترا
Read Moreقتیل شفائی
حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا
Read More