فرازِ بے خودی سے تیرا تشنہ لب نہیں اترا ابھی تک اس کی آنکھوں سے خمارِ شب نہیں اترا
Read MoreTag: Qateel Shifai
قتیل شفائی
ایک یہی پہچان تھی اپنی اس پہچان سے پہلے بھی پاکستان کا شہری تھا میں پاکستان سے پہلے بھی
Read Moreقتیل شفائی
ساری دنیا کی نظروں میں جھوٹے ہیں اندر سے ہم لوگ جو ٹوٹے پھوٹے ہیں
Read Moreقتیل شفائی ۔۔۔۔۔ کہنے کو تو پیارا سا گھر لگتا ہے
کہنے کو تو پیارا سا گھر لگتا ہے مجھ کو اِس ویرانے سے ڈر لگتا ہے شہر میں ہے یہ حال ترے دیوانے کا جس رستے سے گُزرے، پتھر لگتا ہے چوٹ بھی کھا کر جب وہ چومے پتھر کو ایسے میں انسان پیمبر لگتا ہے اس نے ہاتھ چھُڑا کر موڈ بگاڑ دیا اب وہ مجھ کو زہر برابر لگتا ہے جو پروانہ اپنی جان کی فکر کرے وہ عشّاق کی ذات سے باہر لگتا ہے آیا جس کے ہاتھ پرایا آئینہ اپنی ذات میں وہ اسکندر لگتا ہے…
Read More