صدائے استغاثہ ھَل مِن ناصِرٍ یَنصَرنا ھَل مِن ناصِرٍ یَنصَرنا کیا کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے گا کیا کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے گا صدیوں پہلے دشتِ بلا میں اک آواز سنائی دی تھی جب میں بہت چھوٹا ہوتا تھا مری امی کہتی تھی یہ جو صفِ عزا بچھتی ہے اسی صدا کی بازگشت ہے اسی صدا پر بستی بستی گریہ و زاری کا سامان کیا جاتا ہے اور تجدیدِ بیعتِ نصرت کا اعلان کیا جاتا ہے تب میں پہروں بیٹھ کے پیارے پیارے اچھے اچھے…
Read MoreTag: کارواں
ادیب رائے پوری ۔۔۔ آلِ نبی نے لکھ دیا سارا نصاب ریت پر
آیا نہ ہو گا اس طرح رنگ و شباب ریت پر گلشنِ فاطمہ کے تھے سارے گلاب ریت پر جانِ بتول کے سوا کوئی نہیں کھلا سکا قطرۂ آب کے بغیر اتنے گلاب ریت پر جتنے سوال عشق نے آلِ رسول سے کیے ایک سے بڑھ کے اِک دیا سب نے جواب ریت پر عشق میں کیا لُٹائیے عشق میں کیا بچائیے آلِ نبی نے لکھ دیا سارا نصاب ریت پر تَرسے حسین آب کو، میں جو کہوں تو بے ادب لمسِ لبِ حسین کو ترسا ہے آب ریت پر…
Read Moreشاہد ذکی ۔۔۔ رزمِ حق میں وہ اکیلا بھی تھا لشکر جیسا
رزمِ حق میں وہ اکیلا بھی تھا لشکر جیسا ابنِ حیدرؑ کا حوالہ بھی ہے حیدرؑ جیسا بہتے دریاؤں نے جھک جھک کے سلامی دی تھی ظرف اس تشنہ دہن کا تھا سمندر جیسا اور کچھ دن مجھے زنجیر زنی کرنے دو زخم باہر نہیں آیا ابھی اندر جیسا یہ ستارے جو مجھے زخم نما لگتے ہیں آسماں لگتا ہے زینبؑ تری چادر جیسا پھر گئی ہی نہیں ویرانیِ باغِ دنیا پھول مہکا نہ دوبارہ کوئی اصغرؑ جیسا ڈھونڈتی پھرتی ہیں اب وقت کی بوڑھی آنکھیں کیا جوانوں میں جواں…
Read Moreجون ایلیا ۔۔۔ سلام
زاتِ محمدؐ و علیؑ اصل ھے ایک نام دو میکدۂ وجود میں بادہ ھے ایک جام دو پشتِ رسولِؐ پاک پر جلوہ نما امام دو مرکبِ خوش خرام ایک، راکبِ لالہ ٖفام دو نورِِ جبینِ مصطفیؐ ،ظلمتِ گیسوئے دوتا جلوہ گہِ حرم میں آج، صبح ھے ایک شام دو غارِِ حرائے احمدی ،خمِ غدیری حیدری مقصدِ فیضِ عام ایک ، منظرِ فیضِ عام دو طور و جمالِ کبریا ، دوشِ نبی و مرتضیؑ اھلِ نظر سے پوچھیے ، جلوہ ھے ایک بام دو روئے علیؑ پہ اک نگاہ ، جانِ…
Read Moreمجید اختر ۔۔۔ عطا قدرت نے فرمادی بڑی جاگیر، بسم اللہ
عطا قدرت نے فرمادی بڑی جاگیر، بسم اللہ ثنائے اہلبیتؑ و ماتمِ شبیر ؑ ، بسم اللہ گراں پتھر، یہ میری راہ کے مجھ سے نہیں ہٹتے مدد کرنا مری اے دستِ خیبر گیر، بسم اللہ مرے قاری تجھے بخشش ہوا ہے لحنِ داؤدی جگا جادو، سنا پھر آیۂ تطہیر، بسم اللہ عزائے شہ ؑ بھی لکھی، مدحتِ شبیرؑ بھی لکھ دی مقدر میں مرے اے داورِ تقدیر، بسم اللہ پیمبرؑ کی طرح جب اکبرِ مہ رُو چلے رن کو لگا افلاک میں ایک نعرۂ تکبیر، بسم اللہ بشاشت چھین…
Read Moreاختر عثمان ۔۔۔ شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام
شہادت شہزادہ علی اصغر علیہ السّلام جب تشنگی کمال ہوئی شیرخوار کو شبنم کی یاد آنے لگی گُل عذار کو سینے لگایا ماں نے دُرِ آبدار کو تکنے لگا وہ چرخِ تغیّر شعار کو فاقوں سے شیرِ مادرِ معصوم خُشک تھا کافور دودھ ہو گیا اور آب مُشک تھا نہرِ فرات قبضۂ غاصب سرشت میں بٹتے تھے جام صُحبتِ بد عہد و زشت میں پیاسے گئے عزیز و اقارب بہشت میں پانی نہیں تھا ساقیِ کوثر کی کشت میں سیراب فوجِ وحش و چرند و پرند تھی پانی کی راہ…
Read Moreمحمد اظہارالحق ۔۔۔ سبطِ رسول کے حضور
سبطِ رسول کے حضور بہت سے راستوں میں تو نے جو رستہ چنا تھا فرشتے آج تک حیرت میں ہیں کیسا چنا تھا بہت سے شہر رہنے کے لیے حاضر تھے لیکن ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے صحرا چنا تھا جو پیچھے آرہے تھے ان سے تو غافل نہیں تھا کہ تو نے راستے کا ایک اک کانٹا چنا تھا جہاں میں کون تھا دوشِ نبی تھا جس کا مرکب اسی خاطر برہنہ پائی نے تجھ سا چنا تھا زمانہ جانتا ہے کون تھا جو پار اترا کہ تو نے…
Read Moreفیصل ہاشمی ۔۔۔ بنا کے عرشِ معلٰی، نماز پڑھتا ہے
بنا کے عرشِ معلی، نماز پڑھتا ہے امام خاک پہ بیٹھا نماز پڑھتا ہے سوار گرتے رہے ٹوٹتی رہی تسبیح بوقتِ عصر اکیلا نماز پڑھتا ہے وضو کرایا گیا خاک و خون سے جس کو اسی کے ساتھ زمانہ نماز پڑھتا ہے شریک ہوتا ہوں ماتم میں با وضو ہو کر یہ جسم سارے کا سارا نماز پڑھتا ہے ہماری آنکھ میں فیصل فرات بہتا ہے جہاں شہید کا لاشہ نماز پڑھتا ہے
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ سکوں ہوا نہ میسر ہمیں فرار سے بھی
سکوں ہوا نہ میسر ہمیں فرار سے بھی ملے ہیں زخم ترے قرب کی بہار سے بھی متاعِ فقر بھی آئی نہ دستِ عجز کے ہاتھ گریز پا ہی رہا دولتِ وقار سے بھی ہم اہل دل ہی نہ سمجھے وفا کے منصب کو ہوئی ہے ہم کو ندامت ستم شعار سے بھی لہو ہے قلب ترے تمکنت کے لہجے سے عرق عرق ہے جبیں حرفِ انکسار سے بھی چراغِ ظلمتِ شب کی مثال ہے ہر سوچ ہمیں تو کچھ نہ ملا صبحِ انتظار سے بھی بجھا نہ شعلہ کوئی…
Read Moreکیف مراد آبادی ۔۔۔ اہل دل جو بھی بات کہتے ہیں
اہلِ دل جو بھی بات کہتے ہیں کوئی رازِ حیات کہتے ہیں ان کے غم سے ہے جاوداں‘ ورنہ زیست کو بے ثبات کہتے ہیں ہائے وہ دورِ عشق جب آنسو داستانِ حیات کہتے ہیں خوابِ غفلت میں جو گزرتا ہے ہم تو اس دن کو رات کہتے ہیں عشق کی اصطلاح میں غم کو انقلابِ حیات کہتے ہیں جو بھی ہیں واقفِ حقیقتِ دل دل کو ہی کائنات کہتے ہیں لفظ و معنی میں آ نہیں سکتی وہ نظر سے جو بات کہتے ہیں مردِ حق میں تو ماسوا…
Read More