سید آل احمد ۔۔۔ یہ الگ بات‘ ہر اک دکھ نے لبھایا ہے مجھے

یہ الگ بات‘ ہر اک دکھ نے لبھایا ہے مجھے اے مری کاہشِ جاں! کس نے ستایا ہے مجھے اتنی نفرت تو مرے دل میں نہ جاگی تھی کبھی سوچ‘ کس شخص نے یہ زہر پلایا ہے مجھے پھر کوئی تازہ کسک دل کی تہوں میں اُتری پھر کسی خواب نے آئینہ دکھایا ہے مجھے کس نے لوٹا ہے مرے ذہن کی سوچوں کا سہاگ اے مرے قلب تپاں! کس نے چرایا ہے مجھے تیری چیخیں بھی کسی روز سنے گی دُنیا مصلحت کیش! اگر تو نے رُلایا ہے مجھے…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ سامنے والے گھر میں بجلی رات گئے تک جلتی ہے

سامنے والے گھر میں بجلی رات گئے تک جلتی ہے شاید مجھ سے اب تک پگلی آس لگائے بیٹھی ہے میری کسک‘ یہ میری ٹیسیں‘ آپ کو کیوں محسوس ہوئیں؟ آپ کی آنکھوں میں یہ آنسو! دل تو میرا زخمی ہے نفس نفس اک تازہ سرابِ منزل خواب ہے یہ دُنیا نظر نظر قدموں سے خواہش سایہ بن کر لپٹی ہے چپ مت سادھو‘ جھوٹ نہ بولو‘ اب تو اطمینان سے ہو اب تو ہر دن سو جاتا ہے‘ اب تو ہر شب جاگتی ہے دل ایسا معصوم پرندہ‘ اپنے…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ اس نے اقرار کیا ہے مگر انکار کے ساتھ

اس نے اقرار کیا ہے مگر انکار کے ساتھ سلسلہ جڑ تو گیا حسنِ طرح دار کے ساتھ صاحبِ دل ہیں‘ کوئی رُت ہو‘ بھرم رکھتے ہیں اپنا رشتہ ہے ازل سے رسن و دار کے ساتھ اب کسے تن پہ سجائے گا کڑی دھوپ میں پیڑ ٹوٹ کر پتے لگے بیٹھے ہیں دیوار کے ساتھ اِک ذرا دیر ٹھہر جا بت خاموش مزاج! نطق زنجیر تو کر لوں لبِ اظہار کے ساتھ عمر بھر کس نے اصولوں کو ترازو رکھا کون رُسوا ہوا اس شہر میں کردار کے ساتھ…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ دُکھ کے سکوں نہ سکھ کی خوشی کا سراب ہے

دُکھ کے سکوں نہ سکھ کی خوشی کا سراب ہے اک رنج رایگاں کی طلب بے حساب ہے لغزش کے سہو پر مجھے شرمندگی نہیں قربت کی ہر کجی مری گل آفتاب ہے پچھلے برس بھی نیکیاں سب ضائع ہو گئیں اب کے برس بھی جان! کڑا احتساب ہے بے شک وہ بے وفا ہے مگر اس کی راہ میں دل کی طرح چراغ جلانا ثواب ہے اے صبح نو! لہو کی حرارت بھی کر عطا ہیں برف حرف لب پہ یہی انقلاب ہے نفرت بھی وہ کرے تو کوئی…

Read More

سید آلِ احمد

کسی کے لب پہ چراغِ دعا نہیں جلتا ہر ایک شخص کی جیسے زبان کالی ہے

Read More

سید آلِ احمد

یہ اور بات دل تھے کدورت کی خستہ قبر لہجوں میں نکہتوں سے بھرا بانکپن ملا

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ غمِ حالات سہیں یا نہ سہیں سوچ میں ہیں

غمِ حالات سہیں یا نہ سہیں سوچ میں ہیں ہم دُکھی لوگ کسے اپنا کہیں سوچ میں ہیں جسم اور روح کے مابین کسک کس کی ہے ذہنِ ذی فہم کی کتنی ہی تہیں سوچ میں ہیں کوئی آواز‘ نہ پتھر‘ نہ تبسم‘ نہ خلوص اب ترے شہر میں ہم کیسے رہیں سوچ میں ہیں کیسا اخلاص کہ ہیں مصلحت اندیش تمام ہم بھی کیوں ان کی طرح خوش نہ رہیں‘ سوچ میں ہیں شہر بے خواب میں کب تک تن تنہا احمدؔ برگِ آوارہ کی مانند رہیں‘ سوچ میں…

Read More

سید آل احمد

تم جو میری بات سنے بن چل دیتے رات لپٹ کر رو دیتا دروازے سے

Read More

سید آل احمد

رنجِ سکوں تو ترکِ وفا کا حصہ تھا سوچ کے کتنے پھول کھلے خمیازے سے

Read More

سید آلِ احمد

کس نے کہا تھا کھیل رچاؤ خلا میں تم کیوں ہاتھ مل رہے ہو اگر کٹ گئی پتنگ

Read More