سید آل احمد ۔۔۔ سامنے والے گھر میں بجلی رات گئے تک جلتی ہے

سامنے والے گھر میں بجلی رات گئے تک جلتی ہے شاید مجھ سے اب تک پگلی آس لگائے بیٹھی ہے میری کسک‘ یہ میری ٹیسیں‘ آپ کو کیوں محسوس ہوئیں؟ آپ کی آنکھوں میں یہ آنسو! دل تو میرا زخمی ہے نفس نفس اک تازہ سرابِ منزل خواب ہے یہ دُنیا نظر نظر قدموں سے خواہش سایہ بن کر لپٹی ہے چپ مت سادھو‘ جھوٹ نہ بولو‘ اب تو اطمینان سے ہو اب تو ہر دن سو جاتا ہے‘ اب تو ہر شب جاگتی ہے دل ایسا معصوم پرندہ‘ اپنے…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ آج بھی دھوپ میں ہوں ٹھہرا ہوا

آج بھی دھوپ میں ہوں ٹھہرا ہوا ابر کا انتظار کتنا تھا اک الاو تھا رُوٹھنا اس کا مسکراتی تو پھول کھل جاتا دل کے در پر یہ کس نے دستک دی گونج اُٹھا ہے گھر کا سناٹا تیری قربت مری ضرورت تھی یوں تو تو نے بھی خواب دیکھا تھا دو قدم اور ساتھ دے لیتے حوصلہ آپ کا بھی کم نکلا کون صحرا میں دے تجھے آواز کون کھولے طلب کا دروازہ آو قانون کی کتاب پڑھیں اب صحافت میں کچھ نہیں رکھا میرے حصے میں غم کی…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ دُکھ کے سکوں نہ سکھ کی خوشی کا سراب ہے

دُکھ کے سکوں نہ سکھ کی خوشی کا سراب ہے اک رنج رایگاں کی طلب بے حساب ہے لغزش کے سہو پر مجھے شرمندگی نہیں قربت کی ہر کجی مری گل آفتاب ہے پچھلے برس بھی نیکیاں سب ضائع ہو گئیں اب کے برس بھی جان! کڑا احتساب ہے بے شک وہ بے وفا ہے مگر اس کی راہ میں دل کی طرح چراغ جلانا ثواب ہے اے صبح نو! لہو کی حرارت بھی کر عطا ہیں برف حرف لب پہ یہی انقلاب ہے نفرت بھی وہ کرے تو کوئی…

Read More

سید علی مطہر اشعر ۔۔۔۔۔ کیا حادثہ ہوا ہے کہاں ہیں مکاں کے لوگ

کیا حادثہ ہوا ہے کہاں ہیں مکاں کے لوگ شاید زمیں میں دھنستے رہے ہیں یہاں کے لوگ درپیش تھے زمیں کے مسائل بطورِ خاص محفل سے اُٹھ کے جانے لگے آسماں کے لوگ تجدیدِ راہ و رسم کے کچھ سلسلے تو تھے دیوار بن گئے ہیں مگر درمیاں کے لوگ شاید وہ سر زمینِ قناعت بھی ہو کہیں رہتے ہوں اپنے ظرف کے اندر جہاں کے لوگ شہروں کی پستیوں میں بھی رہنے کے باوجود اب تک بہت عظیم ہیں گاؤں گراں کے لوگ اشعر ہوا کے شور کا…

Read More

غالب

سراپا رہنِ عشق و ناگزیرِ الفتِ ہستی عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا

Read More

ممتاز اطہر

جھیل میں عکسِ شام آ پڑا ہے یہ سخن کس کے نام آ پڑا ہے

Read More

فرحان کبیر ۔۔۔ ترے اندازِ پا میں نغمگی تھی

ترے اندازِ پا میں نغمگی تھی مری آنکھوں کی رنگت بولتی تھی اُداسی، رات بستر سے نکل کر مرے گھر کی تلاشی لے رہی تھی تری آواز میرے پاس بیٹھی کئی الجھے سِرے سلجھا رہی تھی وہ میلہ دیکھنے نکلا تھا گھر سے مگر آنکھوں میں وحشت بھر گئی تھی رواں رکھنا تھا طبعِ خوش گماں کو ندی کی بند مُٹھی کھولنی تھی یہاں بارش میں بچپن کھیلتا تھا اُدھر کاغذ کی نائو ڈوبتی تھی اتر جاتی ہے اب چپ چاپ دل سے یہ دنیا کل تلک کتنی نئی تھی…

Read More

جعفر بلوچ

تمام رات رہا مے کدہ نشیں جعفر گیا ہے اٹھ کے یہاں سے وہ نیک بخت ابھی

Read More

سید آل احمد

دوں گا کسے صدا کہ سماعت کوآ سکے اے یادِ یار! زخم اگر بولنے لگا

Read More

اختر حسین جعفری ۔۔ احمد ندیم قاسمی

Read More