کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
Read MoreTag: Ahmad Nadeem Qasmi
دیباچہ ’’خواب دریچہ‘‘ ۔۔۔ احمد ندیم قاسمی
پیش گفتار جلیل عالی نے اپنے دل کی لوح پر سچائی کا اسم روشن کر رکھا ہے۔یہ اس کے اپنے الفاظ ہیں مگر خود ستائی سے مبرا،اس لئے سچے اور دیانت دارانہ ہیں۔اس نے مرئی اور ظاہری سچائیوں پر ہی اکتفا نہیں کیابلکہ ڈھکی چھپی سچائیوں کابھی کھوج لگایا ہے۔ان سچائیوں کو ہر جہت سے پرکھا اور برتا ہے۔ہر سچے شاعر کی طرح اس کی منزل بھی وہ آخری سچائی، وہ آخری صداقت یا وہ آخری حقیقت ہے، جس کے لئے انسان نے مہذب ہونا سیکھا ۔کون کہہ سکتا ہے…
Read Moreاحمد ندیم قاسمی
اک بار بگڑ کر جو تری بزم سے اٹھوں پھر آ کے ترے پاس نہ لوں اپنی خبر تک
Read Moreاحمد ندیم قاسمی
جو چہرہ سامنے آیا، وہ سامنے ہی رہا زوالِ عمر کے دن کتنے خوبصورت ہیں
Read Moreاختر حسین جعفری ۔۔ احمد ندیم قاسمی
احمد ندیم قاسمی
لچک سی جیسے لچکتی ہوئی صدا میں پڑے تِرا خرام جو دیکھا تو بَل ہوا میں پڑے
Read Moreاحمد ندیم قاسمی
سجدہ، اظہارِ ماندگی ہی تو ہے سانس پھولی تو لَو خدا سے لگی
Read Moreاحمد ندیم قاسمی ۔۔۔ پھر بھیانک تیرگی میں آگئے
پھر بھیانک تیرگی میں آگئے ہم گجر بجنے سے دھوکا کھا گئے ہائے خوابوں کی خیاباں سازیاں آنکھ کیا کھولی، چمن مرجھا گئے کون تھے آخر جو منزل کے قریب آئنے کی چادریں پھیلا گئے کس تجلی کا دیا ہم کو فریب کس دھندلکے میں ہمیں پہنچا گئے اُن کا آنا حشر سے کچھ کم نہ تھا اور جب پلٹے قیامت ڈھا گئے اک پہیلی کا ہمیں دے کر جواب ایک پہیلی بن کے ہر سو چھا گئے پھر وہی اختر شماری کا نظام ہم تو اس تکرار سے اکتا…
Read Moreانسان ۔۔۔ احمد ندیم قاسمی
انسان ۔۔۔۔۔ خدا عظیم، زمانہ عظیم، وقت عظیم اگر حقیر ہے کوئی یہاں تو صرف ندیم وہی ندیم، وہی لاڈلا بہشتوں کا وہی ندیم، جو مسجود تھا فرشتوں کا وہ جس نے جبر سے وجدان کو بلند کیا وہ جس نے وسعتِ عالم کو اِک زقند کیا وہ جس نے جرمِ محبت کی جب سزا پائی تو کائنات کے صحراؤں میں بہار آئی وہ جس نے فرش کو بھی عرش کا جمال دیا وہ جس نے تند عناصر کو ہنس کے ٹال دیا بڑھا تو راہیں تراشیں، رُکا تو قصر…
Read Moreاحمد ندیم قاسمی
حسن کا فرض ہوا کرتی ہے آرائشِ حسن صبح کیا کرتی ہے ہر روز سنورنے کے سوا
Read More