دہکتی خاک پہ بادل بچھا دیا کس نے پڑی ہے تپتی ہوئی ریت پر ردائےحسین
Read MoreTag: سلام
مولانا محمد علی جوہر ۔۔۔ سلام
بیتاب کر رہی ہے تمنّائے کربلا یاد آ رہا ہے بادیہ پیمائے کربلا ہے مقتلِ حسین میں اب تک وہی بہار ہیں کس قدر شگفتہ یہ گلہائے کربلا روزِ ازل سے ہے یہی اک مقصدِ حیات جائے گا سر کے ساتھ، ہے سودائے کربلا جو رازِ کیمیا ہے نہاں خاک میں اُسے سمجھا ہے خوب ناصیہ فرسائے کربلا مطلب فرات سے ہے نہ آبِ حیات سے ہوں تشنۂ شہادت و شیدائے کربلا جوہر مسیح و خضر کو ملتی نہیں یہ چیز اور یوں نصیب سے تجھے مل جائے کربلا
Read Moreسلام بحضور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔۔۔ شاہد اشرف
جواز کوئی نہیں اور دلیل کوئی نہیں حسین ابنِ علی سا قتیل کوئی نہیں پھر اس نے شام کے دربار میں دیا خطبہ بھرے جہان میں جس کا وکیل کوئی نہیں عجیب خوف کا عالم ہے یومِ عاشورہ جلوس کوئی نہیں اور سبیل کوئی نہیں ہمیشہ جاری رہے گا مقابلہ لیکن زمیں پہ وقت سے بہتر عدیل کوئی نہیں چراغ بجھ گیا بیٹھے ہیں باوجود اس کے کسی بھی شخص کے آگے فصیل کوئی نہیں فلک نے ایسا جواں آج تک نہیں دیکھا حسین جیسا حسین و جمیل کوئی نہیں…
Read Moreدانش عزیز ۔۔۔ کربلا ہائے کربلا
فیض رسول فیضان ۔۔۔۔ سلام
سلام کیا جلوہ کربلا میں دکھایا حسینؓ نے سجدے میں جا کے سر کو کٹایا حسینؓ نے خوش بخت تھا کہ آپ کے قدموں پہ آگرا سویا نصیب حُر کا جگایا حسینؓ نے نیزے پہ سر تھا اور زباں پر تھیں آیتیں قرآن اِس طرح بھی سنایا حسینؓ نے ناناؐ کے پاک نام پہ ہر چیز وار دی کچھ بھی نہ اپنے پاس بچایا حسینؓ نے صدمے سے قدسیوں کی بھی چیخیں نکل گئیں اصغرؓ کو جب گلے سے لگایا حسینؓ نے راہِ خدا میں جان کی بازی لگا گئے…
Read Moreرضا اللہ حیدر ۔۔۔ سلام
سلام میدانِ کربلا میں جو پیاسا حسین ہے دشمن کئی ہزار ہیں تنہا حسین ہے دو پھول خوش اصول ہیں باغِ رسولؐ کے اک خوش ادا حسن ہے تو دوجا حسین ہے اے خاکِ کربلا ترے ذروں کو چوم لوں تجھ پہ وطن سے دوری میں ، تڑپا حسین ہے میرا ہے یہ عقیدہ ، کہوں گا میں برملا سارے عدو ہی جھوٹے ہیں سچا حسین ہے خلدِ بریں میں شان ہے کیا شان آپ کی سب جنتی براتی ہیں دولھا حسین ہے چشمِ فلک تو دیکھ ، ہے زندہ…
Read Moreماہ نامہ بیاض ، لاہور ۔۔۔۔ اگست 2023 ۔۔۔ فہرست
عزیز فیصل … سلام
سلام۔۔۔یزید سے ہیں مفادات اس کے وابستہسو اس نے چھوڑ دیا اہلِ بیت کا رستہنہیں ہے مسئلہ اس کا نبی و آل ِنبیکہ فرقہ باز کو درکار ہے فسوں سستارسول ِخیر سے نسبت نہیں ہے نسبت ِعامستم شعار! بہت ہے ترا یقیں خستہجو ریگزار میں آباد کر گئے تھے حسینوہ ایک شہر دلوں میں ہے آج بھی بستااِدھر تھے ابن ِعلی کے فقط بہتر لوگاُدھر تھا جبرو ستم کی سپاہ کا دستہ
Read Moreجلیل عالی…. سلام
سلام……بندگانِ ریا کی نگاہوں میں شام و سحر اور تھےاور اہلِ صفا کے رموزِ قیام و سفر اور تھےچاند پیشانیوں پر فروزاں تھا جو فیصلہ ، اور تھاچور چہروں پہ ٹھہرے ہوئے تھے جو اندر کے ڈر ، اور تھےسب جبینیں وہاں رات دن تھیں زمیں بوسیوں میں مگنکٹ کے کچھ اور اوپر اٹھے تھے مگر وہ جو سر،اور تھےگو رہِ عشق میں شان پہلے بھی بے مثل تھی آپ کیکربلا میں مگر سُرخرو تھے سوا ، معتبر اور تھےسطحِ صحرا پہ عالی کہاں کوئی تحریر ٹھہری کبھیلفظ لیکن لہو…
Read Moreحامد یزدانی ۔۔۔ سلام بحضور امامِ عالی مقام ؓ
سلام بحضور امامِ عالی مقام ؓ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرِ دوام یہ تحریر ہے، نہیں ہے کیا؟ غمِ حُسین ابد گِیر ہے، نہیں ہے کیا؟ کہ زخم زخم اِ سی روشنی سے چمکے گا کہ بُوند بُوند میں تنویر ہے، نہیں ہے کیا؟ ترازُو پیاس میں اِک تِیر تھا، نہیں تھا کیا؟ ترازُو پیاس میں اِک تِیر ہے، نہیں ہے کیا؟ جہاں جہاں بھی رِدا ہے عَلم بناتی ہوئی وہاں وہاں مِرا شبیر ہے، نہیں ہے کیا؟ خراجِ اشک ادا خامشی سے کرتے ہیں کہ آہِ ضبط بھی تشہیر ہے، نہیں ہے…
Read More