دل میں کچھ درد سوا ہے یارو آج رونا بھی روا ہے یارو سانس لیتا ہوں تو دم گھٹتا ہے کیسی بے درد ہوا ہے یارو میں جو ہنستا ہوں تو رو دیتے ہیں تم کو کیا آج ہوا ہے یارو کس نے احساس کی دولت پائی کون دیوانہ ہوا ہے یارو اتنی ویران نہ تھیں یہ آنکھیں ضبط کرنے کا صلہ ہے یارو اپنے دامن میں کوئی پھول نہیں دل میں کانٹا سا چبھا ہے یارو خود پکارا اسے خود دوڑ پڑے خوب گنبد کی صدا ہے یارو
Read MoreTag: ایوب رومانی
ایوب رومانی ۔۔۔ جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا
جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا صحنِ گُل چھوڑ گیا، دل میرا پاگل نکلا جب اسے ڈھونڈنے نکلے تو نشاں تک نہ ملا دل میں موجود رہا، آنکھ سے اوجھل نکلا اک ملاقات تھی جو دل کوسدا یاد رہی ہم جسے عمر سمجھتے تھے وہ اک پل نکلا وہ جو افسانۂ غم سن کے ہنسا کرتے تھے اتنا روئے ہیں کہ سب آنکھ کا کاجل نکلا ہم سکوں ڈھونڈنے نکلے تھے، پریشان رہے شہر تو شہر ہے، جنگل بھی نہ جنگل نکلا کون ایوب پریشاں نہیں تاریکی…
Read More