شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہے رشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہے
Read MoreCategory: ش
انور مسعود
شعر میں کیسے بیاں ہو داستانِ کربلا لاکھ مضموں باندھ لیجے تشنگی رہ جائے گی
Read Moreجون ایلیا
شہرِ دل میں عجب محلے تھے اِن میں اکثر نہیں رہے آباد
Read Moreمیر تقی میر
شب کو اس کا خیال تھا دل میں گھر میں مہماں عزیز کوئی تھا
Read Moreراحت اندوری
شام نے جب پلکوں پہ آتش دان لیا کچھ یادوں نے چٹکی میں لوبان لیا
Read Moreراحت اندوری
شہر کیا دیکھیں کہ ہر منظر میں جالے پڑ گئے ایسی گرمی ہے کہ پیلے پھول کالے پڑ گئے
Read Moreادا جعفری
شاید کسی نے یاد کیا ہے ہمیں ادا کیوں ورنہ اشک مائل طوفاں ہے آج پھر
Read Moreشاہین عباس
شہر کا ماجرا نہ پوچھ، شہر تو یوں ہوا کہ بس! گھر میں کوئی گلی ہوئی، جیسے گلی میں گھر ہوا
Read Moreشاہین عباس
شہر میں داخلے کی شرط ، جسم نہیں تھا ، روح تھی جسم کا جسم رکھ دیا ،سر سے کہیں اتار کر
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ منتخب اشعار
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیںوہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیںاگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیںتو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیںرقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سےتمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیںوہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوےیہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیںنہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانیکہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے…
Read More