میر تقی میر ۔۔۔ تا بہ مقدور انتظار کیا

تا بہ مقدور انتظار کیا دل نے اب زور بے قرار کیا دشمنی ہم سے کی زمانے نے کہ جفاکار تجھ سا یار کیا یہ توہّم کا کارخانہ ہے یاں وہی ہے جو اعتبار کیا صد رگِ جاں کو تاب دے باہم تیری زلفوں کا ایک تار کیا ہم فقیروں سے بے ادائی کیا آن بیٹھے جو تم نے پیار کیا سخت کافر تھا جس نے پہلے میر مذہبِ عشق اختیار کیا

Read More

میر تقی میر ۔۔۔ خواہ مجھ سے لڑ گیا اب خواہ مجھ سے مل گیا

خواہ مجھ سے لڑ گیا اب خواہ مجھ سے مل گیا کیا کہوں اے ہم نشیں میں تجھ سے حاصل دل گیا اپنے ہی دل کو نہ ہو واشد تو کیا حاصل نسیم گو چمن میں غنچۂ پژمردہ تجھ سے کِھل گیا دل سے آنکھوں میں لہو آتا ہے شاید رات کو کش مکش میں بے قراری کی یہ پھوڑا چِھل گیا رشک کی جاگہ ہے مرگ اس کشتۂ حسرت کی میر نعش کے ہمراہ جس کی گور تک قاتل گیا

Read More

میر تقی میر ۔۔۔ عالم میں کوئی دل کا خریدار نہ پایا  

عالم میں کوئی دل کا خریدار نہ پایا اس جنس کا یاں ہم نے خریدار نہ پایا حق ڈھونڈنے کا آپ کو آتا نہیں ورنہ عالم ہے سبھی یار کہاں یار نہ پایا تصویر کے مانند لگے در ہی سے گزری مجلس میں تری ہم نے کبھو بار نہ پایا مربوط ہیں تجھ سے بھی یہی ناکس و نااہل اس باغ میں ہم نے گلِ بے خار نہ پایا آئینہ بھی حیرت سے محبت کی ہوئے ہم پر سیر ہو اُس شخص کا دیدار نہ پایا وہ کھینچ کے شمشیرِ…

Read More

میر تقی میر ۔۔۔ اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگا

اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگا دشمن کے بھی دشمن پر ایسا نہ ہوا ہوگا ٹک گورِ غریباں کی کر سیر کہ دنیا میں ان ظلم رسیدوں پر کیا کیا نہ ہوا ہوگا ہے قاعدۂ کلی یہ کُوئے محبت میں دل گم جو ہوا ہوگا پیدا نہ ہوا ہوگا اس کہنہ خرابے میں آبادی نہ کر منعم اک شہر نہیں یاں جو صحرا نہ ہوا ہوگا آنکھوں سے تری ہم کو ہے چشم کہ اب ہووے جو فتنہ کہ دنیا میں برپا نہ ہوا ہوگا جز مرتبۂ…

Read More

میر تقی میر

اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہے دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں

Read More

میر تقی میر

ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺭﻭﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﭼﻼ ﮨﻮﮞ ﺟﺴﮯ ﺍﺑﺮ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﺭﻭﺗﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ

Read More

میر تقی میر ۔۔۔ پھوٹا کیے پیالے لنڈھتا پھرا قرابا

پھوٹا کیے پیالے لنڈھتا پھرا قرابا مستی میں میری تھی یاں اک شور اور شرابا وے دن گئے کہ آنکھیں دریا سی بہتیاں تھیں سوکھا پڑا ہے اب تومدت سے یہ دوآبا ان صحبتوں میں آخر جانیں ہی جاتیاں ہیں نے عشق کو ہے صرفہ نے حسن کومحابا ہر چند ناتواں ہیں پر آگیا جو جی میں دیں گے ملا زمیں سے تیرا فلک قلابا اب شہر ہرطرف سے میدان ہوگیا ہے پھیلا تھا اس طرح کا کاہے کو یاں خرابا دل تفتگی کی اپنی ہجراں میں شرح کیا دوں…

Read More

میر تقی میر ۔۔۔ کیا مرے آنے پہ تو اے بتِ مغرور گیا

کیا مرے آنے پہ تو اے بتِ مغرور گیا کبھی اس راہ سے نکلا تو تجھے گُھور گیا لے گیا صبح کے نزدیک مجھے خواب اے وائے آنکھ اس وقت کھلی قافلہ جب دور گیا چشمِ خوں ‌بستہ سے کل رات لہو پھر ٹپکا ہم نے جانا تھا کہ بس اب تو یہ ناسور گیا نالۂ میر نہیں رات سے سنتے ہم لوگ کیا ترے کوچے سے اے شوخ وہ رنجور گیا!

Read More

میر تقی میر ۔۔۔ یادِ ایام کہ یاں ترکِ شکیبائی تھا

یادِ ایام کہ یاں ترکِ شکیبائی تھا ہرگلی شہر کی یاں کوچۂ رسوائی تھا اتنی گزری جو ترے ہجر میں سو اس کے سبب صبر مرحوم عجب مونسِ تنہائی تھا تیرے جلوےکا مگر رُو تھا سحر گلشن میں نرگس اک دیدۂ حیران تماشائی تھا یہی زلفوں کی تری بات تھی یا کاکل کی میر کو خوب کیا سیر تو سودائی تھا

Read More