محمد یعقوب آسی​ ۔۔۔ برگِ آوارہ کی تمثیل

برگِ آوارہ کی تمثیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (۱) کوئی ابہام نہ رہ جائے سماعت کے لیے بات کی جائے تو تصویر بنا دی جائے نہ جانے کون سا لمحہ تھا جب میں نے خود کو امتحان میں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا۔ علی مطہر اشعر کی شاعری پر بات کرنا برگِ آوارہ کی تمثیل سے بھی زیادہ مشکل ہے ۔ بہاروں کے سودائی تو بہت ہیں کہ برگ و گل سب کو اچھے لگتے ہیں ۔ خزاں سے پیار کرنے کا سلیقہ کم کم لوگوں کو آتا ہے ۔ اشعر صاحب کا…

Read More

آلِ احمد سرور ۔۔۔ اردو تنقید کے بنیادی افکار

اردو میں تنقید مغرب کی دین ہے، تنقیدی شعور اس سے پہلے بھی تھا اور ایک طرف یہ فن کاروں کے اشارات و نکات میں ظاہر ہوتا تھا، دوسری طرف تذکروں کی مدح و قدح میں۔ مگر اس کی ضرورت اسی وقت محسوس ہوئی جب ۱۸۵۷ء کے بعد زندگی کے تقاضوں نے ادب کارخ موڑ دیا اور ادب کے مطالعے کے لیے ایک نئی نظر کی ضرورت پڑی۔ تذکروں میں فن کا تصور فنِ شریف کا ہے۔ اس میں جو افکار جھلکتے ہیں ان پر عینیت کا سایہ ہے۔ اس…

Read More

آلِ احمد سرور ۔۔۔ کچھ آتش کے بارے میں

اردو میں تنقید حالی سے شروع ہوئی۔ حالی نے جب ہوش سنبھالا تو فکر و فن پر لکھنؤ کا خاصا اثر تھا۔ یہاں تک کہ غالب جیسا صاحبِ نظر ناسخ کے رنگ کی طرف کبھی کبھی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ لیتا تھا۔ حالی نے مجموعۂ نظمِ حال کے دیباچے میں، مسدس کے دیباچے میں اور پھر مقدمے میں قدیم رنگِ سخن سے بیزاری کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے مقدمے میں اردو غزل کی بیشتر خامیوں کا ذمے دار متاخرین خصوصاً لکھنؤ کے شعراء کو ٹھہرایا ہے۔ یہ صرف…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ ام عمارہ

ام عمارہ امِ عمارہ خیبر پختونخوا کی ایک با شعور افسانہ نگار ہیں۔ہر مسئلے کو ایک غیور پاکستانی کی حیثیت سے دیکھتی، سوچتی اور پرکھتی ہیں۔۱۹۹۰ء میں جب اُن کے افسانوی مجموعہ ’’درد روشن ہے‘‘ اور آگہی کے ویرانے‘‘ شائع ہوئے تو نہ صرف فکشن نگاروں نے بل کہ ادب کے قاری نے بھی اُن کو سراہا۔ اُنہوں نے بنگلادیش سے ہجرت کاکرب سہا تھا،وہ وہاں سے یہاں خیبر پختونخوا میں آباد ہوئیں۔ سقوطِ ڈھاکہ ہمارے قومی تاریخ کا الم ناک سانحہ ہے جو ہر محبِ وطن کے مغموم کر…

Read More

آلِ احمد سرور ۔۔۔ نقادوں سے دس سوال

نقادوں سے دس سوال (۱) تنقیدی نگاری سے آپ کامقصد ادب کی تاریخ کو مرتب کرنا ہے یا ہم عصر اَدَب پر اثرانداز ہونا؟ (۲) کیا آپ کی دانست میں آپ کی تنقید سے ہم عصر ادب کو کوئی فائدہ پہنچا ہے؟ اور کیا ہم عصر لکھنے والوں نے کسی طور پر آپ کی تنقیدی فکر سے اثر قبول کیا ہے؟ (۳) آپ گزشتہ ادب کے بارے میں کیوں لکھتے ہیں؟ (۴) ہم عصروں پر لکھنے میں کبھی جھجک محسوس ہوئی ہے؟ ہوئی ہے تو کیوں؟ (۵) اگر تقسیم کے…

Read More

 سلطان سکون :میرے عہد کا خدائے سخن ۔۔۔ ڈاکٹر عادل سعید قریشی

 سلطان سکون :میرے عہد کا خدائے سخن ابنِ رشیق نے اپنی کتاب ’العمدۃ فی صناعۃ الشعرونقد‘ میں جس شاعری کے خدوخال واضح کیے ہیں وہ آج بھی اپنے فکری اور فنی تازگی کے سبب من و عن تسلیم کیے جا رہے ہیں۔ان افکار کی روشنی ہی میں متاخرین وناقدین اور شعرا نے اپنے اپنے مسالک ترتیب دیے ہیں۔ان افکار کا عکس اگر آج کسی شاعر کے ہاں دیکھنا مقصود ہو تو سلطان سکون کی کتاب’’کوئی ہے‘‘آپ کی منتظر ہے۔جہاں سلطان سکون کی شاعری اپنے حسن و تاثیرکی داد خواہ ہے۔۔…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ حمدﷻ

حمدﷻ جو تیری حمد کو ہو خوش رقم، کہاں سے آئے وہ روشنائی، وہ نوکِ قلم کہاں سے آئے گناہ گار ہوں اے میرے مہربان خدا! اگر گناہ نہ ہوں، چشمِ نم کہاں سے آئے اگر نہ تارِ نفس کا ہو سلسلہ تجھ سے یہ مجھ سے خاک نژادوں میں دم کہاں سے آئے تری رضا سے علاوہ، تری عطا کے بغیر بدن میں طاقت ِ رفتار و رَم کہاں سے آئے ترے کرم کے ترشُح بغیر دھوپ میں بھی ہَوا میں تازگیِ نم بہ نم کہاں سے آئے رجوعِ خیر…

Read More

غلام حسین ساجد … زمیں کا اور ہی کچھ رنگ تھا فضا کا اور

زمیں کا اور ہی کچھ رنگ تھا فضا کا اور میں اک نگاہ میں قائل ہُوا خُدا کا اور سُلگ رہا تھا تو اُس نے مجھے ہوا دی تھی میں جل اُٹھا تو ارادہ ہُوا ہوا کا اور سحر سے شام تلک کارواں اُترتے رہے تو رنگ ہونے لگا دشتِ نینوا کا اور چراغِ وصل کہیں اور بھی بھڑکتا تھا دُعا کا اور نشانہ تھا مُدعا کا اور ابھی میں پُوری طرح ڈوب بھی نہیں پایا ہُوا ہے نیند کے دریا میں اک چھناکا اور

Read More

محمد علوی ۔۔۔ دن اک کے بعد ایک گزرتے ہوئے بھی دیکھ

دن اک کے بعد ایک گزرتے ہوئے بھی دیکھ اک دن تو اپنے آپ کو مرتے ہوئے بھی دیکھ ہر وقت کھلتے پھول کی جانب تکا نہ کر مرجھا کے پتیوں کو بکھرتے ہوئے بھی دیکھ ہاں دیکھ برف گرتی ہوئی بال بال پر تپتے ہوئے خیال ٹھٹھرتے ہوئے بھی دیکھ اپنوں میں رہ کے کس لیے سہما ہوا ہے تو آ مجھ کو تو دشمنوں سے نہ ڈرتے ہوئے بھی دیکھ پیوند بادلوں کے لگے دیکھ جا بہ جا بگلوں کو آسمان کترتے ہوئے بھی دیکھ حیران مت ہو…

Read More

اثر رامپوری ۔۔۔ وہ جو نہیں ہیں بزم میں بزم کی شان بھی نہیں

وہ جو نہیں ہیں بزم میں بزم کی شان بھی نہیں پھول ہیں دل کشی نہیں، چاند ہے چاندنی نہیں ڈھونڈا نہ ہو جہاں انہیں ایسی جگہ کوئی نہیں پائی کچھ ان کی جب خبر اپنی خبر ملی نہیں آنکھ میں ہو پرکھ تو دیکھ حسن سے پر ہے کل جہاں تیری نظر کا ہے قصور جلووں کی کچھ کمی نہیں عشق میں شکوہ کفر ہے اور ہر التجا حرام توڑ دے کاسۂ مراد، عشق گداگری نہیں جوشِ جنونِ عشق نے کام مرا بنا دیا اہلِ خرد کریں معاف حاجتِ…

Read More