غزل کے سلسلے میں پہلے اپنے دو شعر پڑھنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ غزل میں ذات بھی ہے اور کائنات بھی ہے ہمارے بات بھی ہے اور تمہاری بات بھی ہے سرور اس کے اشارے داستانوں پر بھی بھاری ہیں غزل میں جوہرِ اربابِ فن کی آزمایش ہے یعنی غزل میں ذاتی واردات کا بیان تو ہے ہی اس کے ساتھ کائنات بھی ذات کے حوالے سے موجود ہے۔ اس کے علاوہ غزل کا آرٹ اشاروں کا آرٹ ہے اور یہ اشارے بڑی بڑی داستانوں کو اپنے اندر سموے ہوئے…
Read MoreTag: تنقید
آلِ احمد سرور ۔۔۔ اُردو شاعری میں تصوف کی روایت
میلکام مگرج، مشہور انگریزی مصنف نے کہا ہے کہ ’’ہندوستان میں اب صرف وہی انگریز باقی رہ گئے ہیں جو تعلیم یافتہ ہندوستانی ہیں۔‘‘ اس پرلطف طنز سے یہ نکتہ ابھرتا ہے کہ مغربی اثرات کی کتنی ہی برکتیں رہی ہوں (اور یہ برکتیں مسلم ہیں) مگر ان کی وجہ سے اپنی تہذیبی بنیاد، ادبی سر مائے اور علوم و فنون کے متعلق آج کے تعلیم یافتہ طبقے کا رویہ بیگانگی بلکہ بے اعتنائی کا ہوگیا ہے۔ سرسید کی تحریک نے یقیناً ہماری ذہنی زندگی میں بڑی بیداری پیدا کی…
Read Moreآلِ احمد سرور ۔۔۔ حسرت کی عشقیہ شاعری: میری نظر میں
حسرت کی شاعری کی قدروقیمت کو پرکھتے وقت ان کے ان اشعار کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے: شعر در اصل ہیں وہی حسرت سنتے ہی دل میں جو اتر جائیں غالب و مصحفی و میر و نسیم و مومن طبعِ حسرت نے اٹھایا ہے ہر استاد سے فیض ہے زبانِ لکھنؤ میں رنگِ دہلی کی نمود تجھ سے حسرت نام روشن شاعری کا ہو گیا رکھتے ہیں عاشقانِ حسنِ سخن لکھنوی سے نہ دہلوی سے غرض تو نے حسرت کی عیاں تہذیبِ رسمِ عاشقی تجھ سے پہلے اعتبارِ شانِ…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ زاہدہ حنا
زاہدہ حنا زاہدہ حنا ایک ممتاز صحافی، کالم نگار، فکشن اور ڈراما نگار ہیں۔ ۵؍ اکتوبر ۱۹۴۶ء کے روز سہسرام (بہار) میں پیدا ہوئیں۔والد کی ملازمت کی وجہ سے بچپن رام پور میں گزرا۔اُردو اور فارسی کا کلاسیکی ادب اپنے والد سے پڑھا۔اِن کی ادبی تربیت میں والد کا بہت حصہ رہا۔بہت عرصے سے ایک قومی اخبار میں ’’نرم گرم‘‘ کے نام سے کالم لکھ رہی ہیں۔وہ ریڈیو پاکستان، بی بی سی اور وائس آف امریکا سے بھی منسلک رہیں۔ اِن دنوں ادارہ انجمن ترقیٔ اُردو، کراچی کی سربراہ ہیں۔اُن…
Read Moreآلِ احمد سرور ۔۔۔ اردو تنقید کے بنیادی افکار
اردو میں تنقید مغرب کی دین ہے، تنقیدی شعور اس سے پہلے بھی تھا اور ایک طرف یہ فن کاروں کے اشارات و نکات میں ظاہر ہوتا تھا، دوسری طرف تذکروں کی مدح و قدح میں۔ مگر اس کی ضرورت اسی وقت محسوس ہوئی جب ۱۸۵۷ء کے بعد زندگی کے تقاضوں نے ادب کارخ موڑ دیا اور ادب کے مطالعے کے لیے ایک نئی نظر کی ضرورت پڑی۔ تذکروں میں فن کا تصور فنِ شریف کا ہے۔ اس میں جو افکار جھلکتے ہیں ان پر عینیت کا سایہ ہے۔ اس…
Read Moreڈاکٹر معین الدین عقیل … سید جمال الدین افغانی اور اقبال
سید جمال الدین افغانی اور اقبال جمال الدین افغانی کے عہد کا عالم اسلام بہ حیثیت مجموعی افتادگی و پژمردگی کا شکار تھا، لیکن یہی دَور عالم انسانی تہذیب کے لئے نہایت انقلاب افزا اور تحریک آمیز بھی ہے۔ اس میں سائنس کی ایجادات اور اس کی ترقیوں کے سبب زمان و مکان کی وسعتیں سمٹ جاتی ہیں اور قوائے فطرت کی تسخیر سے انسان اپنی زندگی کو نئے انداز سے ترتیب دینے لگتا ہے۔ یورپ کا صنعتی انقلاب سیاست اور معاشرے کی بنیادیں تبدیل کر دیتا ہے۔ فرانسیسی انقلاب…
Read Moreڈاکٹر غلام شبیر رانا … اختر انصاری دہلوی: جینے کی جد و جہد میں جی سے گزر گئے
اختر انصاری دہلوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جینے کی جد و جہد میں جی سے گزر گئے گردِشِ مدام اور پیہم شکستِ دِل کے نتیجے میں حساس تخلیق کار اضطراب اور اضمحلال کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب اُس کی کوئی اُمید بر نہ آئے اور نہ ہی اصلاح احوال کی کوئی صورت دکھائی دے تو زندگی ایک کرب، اذیت اور عقوبت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اختر انصاری دہلوی کی شاعری میں پائی جانے والی یہی کیفیت اس کے دِل پر اُترنے والے سب موسموں کا احوال پیش کرتی ہے۔ موزوں…
Read Moreاشفاق حسین … فیض احمد فیض۔۔ شخصیت اور فن
فیض احمد فیض ۔۔شخصیت اور فن پاکستان کے قیام کے بعد اردو کے جس شاعر کو پاکستان اور بیرون پاکستان سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی وہ فیض احمد فیض ہیں۔ شہرت و مقبولیت کی اسی دولت کے سبب ان کے چاہنے والوں کے ساتھ ساتھ ان سے اختلاف رکھنے والوں کا بھی ہمیشہ سے ایک حلقہ موجود رہا ہے یعنی نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا ؟ انہوں نے جب شاعری کی ابتداء کی تو بیسویں صدی کے سب سے زیادہ قد آور شاعر علامہ…
Read Moreآلِ احمد سرور ۔۔۔ کچھ آتش کے بارے میں
اردو میں تنقید حالی سے شروع ہوئی۔ حالی نے جب ہوش سنبھالا تو فکر و فن پر لکھنؤ کا خاصا اثر تھا۔ یہاں تک کہ غالب جیسا صاحبِ نظر ناسخ کے رنگ کی طرف کبھی کبھی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ لیتا تھا۔ حالی نے مجموعۂ نظمِ حال کے دیباچے میں، مسدس کے دیباچے میں اور پھر مقدمے میں قدیم رنگِ سخن سے بیزاری کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے مقدمے میں اردو غزل کی بیشتر خامیوں کا ذمے دار متاخرین خصوصاً لکھنؤ کے شعراء کو ٹھہرایا ہے۔ یہ صرف…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ شاہدہ لطیف
شاہدہ لطیف شاہدہ لطیف کا تخلیقی کینوس بہت وسیع ہے۔ وہ شاعرہ، ادیبہ،فکشن نگار، صحافی، سفر نامہ نگار اورمورخ ہیں۔وہ تاریخِ ادب کی اُن چند فکشن نگار خواتین مثلاً عصمت چغتائی، جمیلہ ہاشمی اور رضیہ فصیح احمد میں سے ایک ہیں جنہوں نے تاریخی ناول لکھے ہیں۔مذکورہ خواتین کی فکشن نگار کی حیثیت سے گراں قدر خدمات ہیں اور اُن میں سے ہر کسی کا اپنا اسلوب بیان ہے۔اِن خواتین کی تاریخی تخلیقات کے مطالعے کے بعد جب گزشتہ دنوں مجھے شاہدہ لطیف کے تاریخی ناول ’’سلطان محمد فاتح‘‘ کا…
Read More