آلِ احمد سرور ۔۔۔ کچھ آتش کے بارے میں

اردو میں تنقید حالی سے شروع ہوئی۔ حالی نے جب ہوش سنبھالا تو فکر و فن پر لکھنؤ کا خاصا اثر تھا۔ یہاں تک کہ غالب جیسا صاحبِ نظر ناسخ کے رنگ کی طرف کبھی کبھی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ لیتا تھا۔ حالی نے مجموعۂ نظمِ حال کے دیباچے میں، مسدس کے دیباچے میں اور پھر مقدمے میں قدیم رنگِ سخن سے بیزاری کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے مقدمے میں اردو غزل کی بیشتر خامیوں کا ذمے دار متاخرین خصوصاً لکھنؤ کے شعراء کو ٹھہرایا ہے۔ یہ صرف…

Read More

انصار احمد شیخ ۔۔۔ سرسیّداحمد خان کی ادبی خدمات

سرسیّداحمد خان کی ادبی خدمات  سرسیّد کی ادبی خدمات اور حقیقت پسندانہ رجحان کی تفہیم کے لیے اُس عہد کے سیاسی اور سماجی پس منظر سے آگاہی ضروری ہے۔برّصغیر کی تاریخ میں انگریزوں کی آمد کو مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا پیش خیمہ قرار  دیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے ہندوستان میں وارد ہوتے ہی یہاں کی بے امنی، سیاسی انتشاراور طوائف الملوکی کو دیکھ کر اقتدارِ حکومت اپنے قبضے میں کرنے کے لیے تگ  و دو شروع کردی تھی۔ آہستہ آہستہ اپنی دانش مندی، تنظیم ، مکّاری اور چالبازی…

Read More