سپنے تو کجا دیکھیے کیا سو بھی سکیں گے؟ مانوس جدائی سے تری ہو بھی سکیں گے؟ کم مائیگیٔ حرفِ تشکر مجھے بتلا یہ قرض محبت کے ادا ہو بھی سکیں گے؟ جڑ سے تو اکھاڑیں گے چلو بوڑھے شجر کو ننھا سا نہال اس کی جگہ بو بھی سکیں گے؟ ڈر تھا کہ وہ بچھڑا تو تبسم سے گئے ہم کیا جانیے اس ہجر میں اب رو بھی سکیں گے؟ اک بار کا اظہار وہ صد خونِِ انا تھا اس داغِ تمنا کو کبھی دھو بھی سکیں گے؟
Read MoreTag: اردو مضامین
حمیدہ شاہین ۔۔۔ خود سے ملتی نہیں نجات ہمیں
خود سے ملتی نہیں نجات ہمیں قید رکھتی ہیں خواہشات ہمیں ہم نے مانگی سکون کی چادر رنج بولے کہ بیٹھ ، کات ہمیں کچھ تو عادت ہے بے یقینی کی اور کچھ ہیں تحیّرات ہمیں اِس تعلّق کا سچ قبول کیا جوڑتی ہیں ضروریات ہمیں آنکھ کا آئنہ عطا کر کے اس نے دے دی ہے کائنات ہمیں بس کہ جھگڑا طویل ہوتا گیا سوجھتی جا رہی تھی بات ہمیں لاکھ رستا بدل بدل کے چلیں مل ہی جائیں گے حادثات ہمیں
Read Moreانور شعور ۔۔۔ کیسی خطا، کیسی جزا، جو ہو گیا سو ہو گیا
کیسی خطا، کیسی جزا، جو ہو گیا سو ہو گیا نادان ہے دل، اے خدا! جو ہو گیا سو ہو گیا قربان ہونا تھا جنھیں قربان تم پر ہو گئے اب کیا تلافی، کیا صلہ جو ہو گیا سو ہو گیا آپس میں اے دل! اے جگر! رنجش سے اچھی درگزر موقع نہیں تفصیل کا، جو ہو گیا سو ہو گیا چپ چاپ کیوں ہو دیوتا، ایسی بھی کیا گھمبیرتا آؤ، ہنسیں بولیں ذرا، جو ہو گیا سو ہو گیا بندہ معافی مانگ کر شرمندہ ہوتا ہے شعورؔ اب کیا…
Read Moreشاہین عباس ۔۔۔ دو کا دھوکا
دو کا دھوکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ طہارت کاقضیہ…دُہرا دجلہ دُہری تہری ناف کا ڈھلکا میں دو کوزوں کو دائیں بائیں بھر کر بیٹھ جاتاہو ں قیامت بازیوں کا گھاگ لپکا ہے یہ دائیں بائیں کا ٹپکا میں دو چھینٹوں کا اِک چھینٹا بناتا ہوں قیامت اور قیامت کے تناسب سے یہ چھینٹا مجھ پہ پڑتا ہے تو خانہ دار، اُدھر اُس پار تم بھی بھیگ جاتے ہو ! درازی لہر کی ہو ، قہر کی ہو ہونٹ سے پھر ہونٹ جا چپکا اِدھر آدھا ابال آدھا اُدھر حلقوم میں حلقوم کا دھارا…
Read Moreآلِ احمد سرور ۔۔۔ کچھ آتش کے بارے میں
اردو میں تنقید حالی سے شروع ہوئی۔ حالی نے جب ہوش سنبھالا تو فکر و فن پر لکھنؤ کا خاصا اثر تھا۔ یہاں تک کہ غالب جیسا صاحبِ نظر ناسخ کے رنگ کی طرف کبھی کبھی للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ لیتا تھا۔ حالی نے مجموعۂ نظمِ حال کے دیباچے میں، مسدس کے دیباچے میں اور پھر مقدمے میں قدیم رنگِ سخن سے بیزاری کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے مقدمے میں اردو غزل کی بیشتر خامیوں کا ذمے دار متاخرین خصوصاً لکھنؤ کے شعراء کو ٹھہرایا ہے۔ یہ صرف…
Read Moreانصار احمد شیخ ۔۔۔ سرسیّداحمد خان کی ادبی خدمات
سرسیّداحمد خان کی ادبی خدمات سرسیّد کی ادبی خدمات اور حقیقت پسندانہ رجحان کی تفہیم کے لیے اُس عہد کے سیاسی اور سماجی پس منظر سے آگاہی ضروری ہے۔برّصغیر کی تاریخ میں انگریزوں کی آمد کو مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا پیش خیمہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے ہندوستان میں وارد ہوتے ہی یہاں کی بے امنی، سیاسی انتشاراور طوائف الملوکی کو دیکھ کر اقتدارِ حکومت اپنے قبضے میں کرنے کے لیے تگ و دو شروع کردی تھی۔ آہستہ آہستہ اپنی دانش مندی، تنظیم ، مکّاری اور چالبازی…
Read More