بارِ غم سے جو طبیعت کو گراں پاتے ہیں کاشف الکربؑ کی دہلیز پہ جُھک جاتے ہیں چھوٹے حضرتؑ سے ہی سیکھا ہے بزرگوں کا ادب کورنش اِس لیے پرچم کو بجالاتے ہیں بچ کے چلتی ہے سدا بادِ حوادث اُن سے اِس علم کے جو پھریرے کی ہَوا پاتے ہیں مدحتِ آلِ محمّدؐ ہے فریضہ اپنا جن کا کھاتے ہیں فقط اُن کے ہی گُن گاتے ہیں چوم لے بڑھ کے قدم ہائے علمدارِ حُسینؑ علقمہ دیکھ! ترے روحِ رواں آتے ہیں کھینچتا ہے ہمہ دم حیدرِ کرّارؑ کا…
Read MoreCategory: Uncategorized
راحت اندوری
یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدن دوستو مجھ پر کوئی پتھر ذرا بھاری رکھو
Read Moreڈاکٹر شاہد اشرف ۔۔۔ روح کی ڈھولک پہ شاداں، غلام حسین ساجد
روح کی ڈھولک پہ شاداں، غلام حسین ساجد موجودہ دور میں غزل اور آزاد نظم ہر اعتبار سے اظہار کا بہترین وسیلہ تصور ہوتی ہیں۔ ان اصناف میں زندگی کا ہر موضوع بیان کیا جا سکتا ہے۔ ان اصناف کا دائرۂ کار بہت وسیع ہے۔ قیام پاکستان کے بعد غزل میں فکری سطح پر غیر معمولی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ غزل میں فکری و فنی سطح پر تغیرات دِکھائی دیتے ہیں۔ خیال، موضوع، اُسلوب، ڈکشن اور تکنیک میں واضح تبدیلیاں ملتی ہیں۔ اُردو غزل ہر عہد میں ثروت مند…
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ سامانِ شگفتِ جاں
سامانِ شگفتِ جاں ۔۔۔۔ مرے جاں تاب مہتابو! تمہاری زندگانی کی ہلالی رُت بڑی شدت سے یاد آتی ہے تم میری نگاہوں میں امڈتی چاہتوں کے ایک ہلکے سے اشارے پر قلانچیں بھرتے آتے تھے مری گردن میں اپنی ننھی منی نرم باہیں ڈال کر مجھ سے لپٹ جاتے تھے کیسے والہانہ، کس قدر بے اختیارانہ مری آغوش میں آتے مرے اک اک بُنِ مُو میں سماتے تھے سماعت اْس گھڑی تینوں دلوں کی دھڑکنیں اک ساتھ سنتی تھی سواری کے لیے کس دھونس سے گھوڑا بنا لیتے تھے ابُّو…
Read Moreارشد محمود ارشد ۔۔۔ دو غزلیں
عمر گزری ہے اسی طور ہماری ساری زندگی خاک نشینی میں گزاری ساری بغض و نفرت کا کوئی سانپ نہ پالا دل میں دیکھ چاہت سے بھری یار پٹاری ساری میں تجھے اس کی وکالت سے کہاں روکتا ہوں تو نے دیکھی ہی نہیں کار گزاری ساری میں نے ہی دام میں آ کر ہے عیاں تم کو کیا ورنہ سازش تو سمجھ لی تھی تمہاری ساری دینے والے کی رضا ہے کہ وہ کب دیتا ہے اپنی سانسیں بھی تو ہیں یار اُدھاری ساری لوگ جو دہر کمانے میں…
Read Moreفرہاد ترابی ۔۔۔ ریشم و اطلس و کم خواب نہیں دیکھتے ہیں
ریشم و اطلس و کم خواب نہیں دیکھتے ہیں ہم پہ الزام ہے ہم خواب نہیں دیکھتے ہیں جب وہ آتا ہے سرِ شام لبِ بام کبھی آسماں ہم ترا مہتاب نہیں دیکھتے ہیں آپ اسے کچھ بھی کہیں آپ کی مرضی ہے جناب ٹھان لیتے ہیں تو اسباب نہیں دیکھتے ہیں یہ الگ بات کہ ہنستے ہوئے ٹالا ہے اسے دل پہ کیا گزری ہے احباب نہیں دیکھتے ہیں بستیاں جن کی ہوں دریا کے کنارے فرہادؔ گھر بناتے ہوئے سیلاب نہیں دیکھتے ہیں
Read Moreمحمد اشفاق بیگ ۔۔۔ رہنے کو جو اک دشت میں گھر ڈھونڈ رہے ہیں
رہنے کو جو اک دشت میں گھر ڈھونڈ رہے ہیں ہم خود میں اذیت کا ہنر ڈھونڈ رہے ہیں کل تک تھا جنھیں آبلہ پائی پہ بہت ناز وہ لوگ بھی صحرا میں شجر ڈھونڈ رہے ہیں ہر سمت محبت کے گلابوں کی مہک ہو آشائوں کا اک ایسا نگر ڈھونڈ رہے ہیں دیوار تو دونوں نے ہی مل کر تھی اٹھائی اب دونوں ہی دیوار میں در ڈھونڈ رہے ہیں تا عمر جفائوں کے جو بوتے رہے کانٹے وہ اپنی وفائوں کا ثمر ڈھونڈ رہے ہیں ہر کوچہ و…
Read Moreانور شعور
سڑک پہ سوئے ہوئے آدمی کو سونے دو وہ خواب میں تو پہنچ جائے گا بسیرے تک
Read Moreمحمد علی ادیب ۔۔۔ عشق کا دیکھا ہے اثر میں نے
عشق کا دیکھا ہے اثر میں نے دل پہ جھیلا ہے اک غدر میں نے درد سے کر لی دوستی آخر جب نہیں پایا چارہ گر میں نے ایک فیضِ نگاہِ یار، تجھے کتنا ڈھونڈا ہے دربدر میں نے یہ الگ بات، خود ہوا رُسوا تْجھ کو رکھا ہے مْعتبر میں نے یہ محبت کی چھاؤں بانٹے گا جو لگایا ہے یہ شجر میں نے ایک شاعر کی چاہتیں دے کر کر دیا ہے تمھیں امر میں نے سوگ دل کا تھا چار دن کا ادیب اور نبھایا ہے عمر…
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ شاید ذرا سا جان لے رازِ جہان کو
شاید ذرا سا جان لے رازِ جہان کو اک دوسرے میں دیکھ زمیں ، آسمان کو رکھا ہے اِس مقامِ یقیں پر گمان کو جب چاہے لا مکان بنا لیں مکان کو کشتی اُتارتا ہوں سمندر میں، تو ہَوا چلتی ہے دیکھ دیکھ رُخِ بادبان کو سینے میں ایک یاد ہمیشہ جواں رہی رکھا ہے دُور جس نے زمانے سے دھیان کو وہ دن بھی تھے کہ دیکھتے تھے دُور دُور تک طائر تمام رشک سے میری اُڑان کو بیٹھا ہوا ہے گھات میں کوئی مچان پر کوئی ہدف بنائے…
Read More