رضی اختر شوق ۔۔۔ کیسے جیئیں قصیدہ گو، حرف گروں کے درمیاں

کیسے جیئیں قصیدہ گو، حرف گروں کے درمیاں کوئی تو سر کشیدہ ہو، اتنے سروں کے درمیاں ایک طرف میں جاں بہ لب ، تارِ نَفس شکستنی بحث چھڑی ہوئی اُدھر، چارہ گروں کے درمیاں ہاتھ لئے ہیں ہاتھ میں، پھر بھی نظر ہے گھات میں ہمسفروں کی خیر ہو، ہمسفروں کے درمیاں اُس کا لکھا کچھ اور تھا، میرا کہا کچھ اور ہے بات بدل بدل گئی، نامہ بروں کے درمیاں جامِ سفال و جامِ جم، کچھ بھی تو ہم نہ بن سکے اور بکھر بکھر گئے ، کُوزہ…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ قطعہ

یہ مانا برق کے شعلے مرا گھر پھونک کر جاتے مگر کچھ حادثے پھولوں کے اوپر بھی گزر جاتے مرے کہنے سے گر اے ہم قفس خاموش ہو جاتا نہ تیرے بال و پَر جاتے نہ میرے بال و پر جاتے

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ سرِ شام تجھ سے ملنے ترے در پہ آ گئے ہیں

سرِ شام تجھ سے ملنے ترے در پہ آ گئے ہیں یہ وہیں ہیں لوگ شاید جو فریب کھا گئے ہیں میں اگر قفس سے چھوٹا تو چلے گی باغباں سے جہاں میرا آشیاں تھا وہاں پھول آ گئے کوئی ان سے جا کہ کہہ دے سرِ بام پھر تجلی جنہیں کر چکے ہو بے خود انھیں ہوش آ گئے ہیں یہ پتہ بتا رہے ہیں رہِ عشق کے بگولے کہ ہزاروں تم سے پہلے یہاں خاک اڑا گئے ہیں شبِ ہجرِ شمع گل ہے مجھے اس سے کیا تعلق…

Read More

محمد عباس ۔۔۔ نولکھی کوٹھی کا پھوہڑ معمار

نولکھی کوٹھی کا پھوہڑ معمار اردو میں ناول کی صنف کو بہت آسان سمجھ لیا گیا ہے۔ مدرسین اپنے موٹے شیشوں کی عینک کے عقب سے اپنے کوڑھ مغز طلباء و طالبات پر نظرِ شفقت فرماتے ہوئے کرم خوردہ نوٹسز سے یوں سنہری الفاظ لکھواتے ہیں:’’پیارے بچو! ناول افسانوی ادب کی بہت معروف صنف ہے جس میں زندگی کے حقیقی واقعات کا عکس پیش کیا جاتا ہے۔ یہ اپنی اصل میںافسانے سے ہی مماثل ہے۔ دونوں میں صرف طوالت کا فرق ہے۔ افسانہ کی طوالت 3سے دس صفحات ہو سکتی…

Read More

محمد یوسف راسخ ۔۔۔ حسن اچھا ہے محمد کا کمال اچھا ہے  

حسن اچھا ہے، محمد کا کمال اچھا ہے جو خدا کو بھی ہے پیارا وہ جمال اچھا ہے بزمِ کونین مرتب ہوئی تیری خاطر وقف ہے تیرے لئے اس میں جو مال اچھا ہے مجھ سے پوچھے تو کوئی تیرے غلاموں کا عروج بادشاہوں سے بھی رتبے میں بلال اچھا ہے غم اٹھانے کی ہے عادت مری طبعِ ثانی میں تو کہتا ہوں کہ دنیا میں ملال اچھا ہے قصۂ طور سے واقف ہے زمانہ سارا کوئی کس منہ سے کہے شوقِ جمال اچھا ہے بزم میں دیکھ کے حسرت…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ خاور اعجاز

لے چل ہوائے طیبہ تُو ملکِ عرب مجھے رہنا نہیں ہے اور کہیں پر بھی اَب مجھے مَیں ہُوں اور آستانِ محمدؐ کی رونقیں کس چیز کی ہو اور زمیں پر طلب مجھے آقاؐ تِرے وسیلے سے پہچانا جاؤں مَیں ویسے تو اب بھی جانتا ہے میرا رَب مجھے اِک بار چھُو تو آیا ہُوں روضے کی جالیاں دیکھیں دوبارہ مِلتا ہے یہ اذن کب مجھے ہو جائے آپؐ کا مجھے دیدار ایک بار مِل جائیں زندگی کی تمنائیں سب مجھے چلتا ہو جیسے قافلہ دِل میں حجاز کا آتی…

Read More