سلام بحضور سيدالشہداء امام حسين عليہ السلام ۔۔۔۔ شاہد ذکی

سلام بحضور سيدالشہداء امام حسين عليہ السلام مہتابِ محرم کی قسم کم نہيں ہوتا صدياں ہوئيں مولا ترا غم کم نہيں ہوتا اس اجڑے ہوۓ گھر کی سخاوت نہيں رکتی وہ ہوں کہ نہ ہوں،ان کا کرم،کم نہيں ہوتا ديکھو سرِ نيزہ کہ قدِ اہلِ صداقت سر ہو بھی اگر جاۓ قلم، کم نہيں ہوتا يوں ہے کہ سلگتے ہيں وہ خيمے مرے اندر يوں ہے کہ مری آنکھ ميں نم ،کم نہيں ہوتا اس بات پہ کٹتی ہيں چراغوں کی زبانيں کيوں تذکرۂ شامِ الم ، کم نہيں ہوتا…

Read More

جوہرِ عباس ۔۔۔ بارِ غم سے جو طبیعت کو گراں پاتے ہیں

بارِ غم سے جو طبیعت کو گراں پاتے ہیں کاشف الکربؑ کی دہلیز پہ جُھک جاتے ہیں چھوٹے حضرتؑ سے ہی سیکھا ہے بزرگوں کا ادب کورنش اِس لیے پرچم کو بجالاتے ہیں بچ کے چلتی ہے سدا بادِ حوادث اُن سے اِس علم کے جو پھریرے کی ہَوا پاتے ہیں مدحتِ آلِ محمّدؐ ہے فریضہ اپنا جن کا کھاتے ہیں فقط اُن کے ہی گُن گاتے ہیں چوم لے بڑھ کے قدم ہائے علمدارِ حُسینؑ علقمہ دیکھ! ترے روحِ رواں آتے ہیں کھینچتا ہے ہمہ دم حیدرِ کرّارؑ کا…

Read More

ڈاکٹر شاہد اشرف ۔۔۔ روح کی ڈھولک پہ شاداں، غلام حسین ساجد

روح کی ڈھولک پہ شاداں، غلام حسین ساجد موجودہ دور میں غزل اور آزاد نظم ہر اعتبار سے اظہار کا بہترین وسیلہ تصور ہوتی ہیں۔ ان اصناف میں زندگی کا ہر موضوع بیان کیا جا سکتا ہے۔ ان اصناف کا دائرۂ کار بہت وسیع ہے۔ قیام پاکستان کے بعد غزل میں فکری سطح پر غیر معمولی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ غزل میں فکری و فنی سطح پر تغیرات دِکھائی دیتے ہیں۔ خیال، موضوع، اُسلوب، ڈکشن اور تکنیک میں واضح تبدیلیاں ملتی ہیں۔ اُردو غزل ہر عہد میں ثروت مند…

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ سامانِ شگفتِ جاں

سامانِ شگفتِ جاں ۔۔۔۔ مرے جاں تاب مہتابو! تمہاری زندگانی کی ہلالی رُت بڑی شدت سے یاد آتی ہے تم میری نگاہوں میں امڈتی چاہتوں کے ایک ہلکے سے اشارے پر قلانچیں بھرتے آتے تھے مری گردن میں اپنی ننھی منی نرم باہیں ڈال کر مجھ سے لپٹ جاتے تھے کیسے والہانہ، کس قدر بے اختیارانہ مری آغوش میں آتے مرے اک اک بُنِ مُو میں سماتے تھے سماعت اْس گھڑی تینوں دلوں کی دھڑکنیں اک ساتھ سنتی تھی سواری کے لیے کس دھونس سے گھوڑا بنا لیتے تھے ابُّو…

Read More

ارشد محمود ارشد ۔۔۔ دو غزلیں

عمر گزری ہے اسی طور ہماری ساری زندگی خاک نشینی میں گزاری ساری بغض و نفرت کا کوئی سانپ نہ پالا دل میں دیکھ چاہت سے بھری یار پٹاری ساری میں تجھے اس کی وکالت سے کہاں روکتا ہوں تو نے دیکھی ہی نہیں کار گزاری ساری میں نے ہی دام میں آ کر ہے عیاں تم کو کیا ورنہ سازش تو سمجھ لی تھی تمہاری ساری دینے والے کی رضا ہے کہ وہ کب دیتا ہے اپنی سانسیں بھی تو ہیں یار اُدھاری ساری لوگ جو دہر کمانے میں…

Read More

فرہاد ترابی ۔۔۔ ریشم و اطلس و کم خواب نہیں دیکھتے ہیں

ریشم و اطلس و کم خواب نہیں دیکھتے ہیں ہم پہ الزام ہے ہم خواب نہیں دیکھتے ہیں جب وہ آتا ہے سرِ شام لبِ بام کبھی آسماں ہم ترا مہتاب نہیں دیکھتے ہیں آپ اسے کچھ بھی کہیں آپ کی مرضی ہے جناب ٹھان لیتے ہیں تو اسباب نہیں دیکھتے ہیں یہ الگ بات کہ ہنستے ہوئے ٹالا ہے اسے دل پہ کیا گزری ہے احباب نہیں دیکھتے ہیں بستیاں جن کی ہوں دریا کے کنارے فرہادؔ گھر بناتے ہوئے سیلاب نہیں دیکھتے ہیں

Read More

محمد اشفاق بیگ ۔۔۔ رہنے کو جو اک دشت میں گھر ڈھونڈ رہے ہیں

رہنے کو جو اک دشت میں گھر ڈھونڈ رہے ہیں ہم خود میں اذیت کا ہنر ڈھونڈ رہے ہیں کل تک تھا جنھیں آبلہ پائی پہ بہت ناز وہ لوگ بھی صحرا میں شجر ڈھونڈ رہے ہیں ہر سمت محبت کے گلابوں کی مہک ہو آشائوں کا اک ایسا نگر ڈھونڈ رہے ہیں دیوار تو دونوں نے ہی مل کر تھی اٹھائی اب دونوں ہی دیوار میں در ڈھونڈ رہے ہیں تا عمر جفائوں کے جو بوتے رہے کانٹے وہ اپنی وفائوں کا ثمر ڈھونڈ رہے ہیں ہر کوچہ و…

Read More