محمد علی ادیب ۔۔۔ عشق کا دیکھا ہے اثر میں نے

عشق کا دیکھا ہے اثر میں نے دل پہ جھیلا ہے اک غدر میں نے درد سے کر لی دوستی آخر جب نہیں پایا چارہ گر میں نے ایک فیضِ نگاہِ یار، تجھے کتنا ڈھونڈا ہے دربدر میں نے یہ الگ بات، خود ہوا رُسوا تْجھ کو رکھا ہے مْعتبر میں نے یہ محبت کی چھاؤں بانٹے گا جو لگایا ہے یہ شجر میں نے ایک شاعر کی چاہتیں دے کر کر دیا ہے تمھیں امر میں نے سوگ دل کا تھا چار دن کا ادیب اور نبھایا ہے عمر…

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ شاید ذرا سا جان لے رازِ جہان کو

شاید ذرا سا جان لے رازِ جہان کو اک دوسرے میں دیکھ زمیں ، آسمان کو رکھا ہے اِس مقامِ یقیں پر گمان کو جب چاہے لا مکان بنا لیں مکان کو کشتی اُتارتا ہوں سمندر میں، تو ہَوا چلتی ہے دیکھ دیکھ رُخِ بادبان کو سینے میں ایک یاد ہمیشہ جواں رہی رکھا ہے دُور جس نے زمانے سے دھیان کو وہ دن بھی تھے کہ دیکھتے تھے دُور دُور تک طائر تمام رشک سے میری اُڑان کو بیٹھا ہوا ہے گھات میں کوئی مچان پر کوئی ہدف بنائے…

Read More

بشیر احمد حبیب ۔۔۔ دور رہتا بھی نہیں پاس آتا بھی نہیں

بشیر احمد حبیب کی یہ غزل وصل و ہجر کے بیچ معلق اس کیفیت کا شاعرانہ بیان ہے جہاں محبوب ایک ماورائی سایے کی مانند نہ پوری طرح قریب ہے نہ بالکل غائب۔ یہ کلام اس ادھورے تعلق کے خلاف خاموش احتجاج ہے جو دل و دماغ پر ابرِ مسلسل کی طرح چھایا رہتا ہے۔

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ افروز رضوی

افروز رضوی کی یہ نعت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، روحانی روشنی اور حق کی کامیابی کی آرزو کو نہایت عقیدت سے بیان کرتی ہے۔

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ صحنوں کی گھُٹن شہر کا مینار نہ جانے

ماجد صدیقی کی یہ غزل جذبات اور احساسات کو خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ اس میں ذاتی دکھ، سماجی ناانصافی اور انسان کے اندرونی و بیرونی تضادات کو سادہ مگر علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ شاعر اپنے کلام کے ذریعے دکھاتا ہے کہ انسان کے اندر کے درد اور باہر کی سخت حقیقتیں کس طرح آپس میں ٹکراتی ہیں۔

Read More

نائلہ راٹھور ۔۔۔ خودفراموشی

خودفراموشی ۔۔۔۔ ضروری نہیں جنہیں ہم زندگی سے زیادہ اہم سمجھتے ہوں ان کے لئے بھی ہم اتنے ہی اہم ہوں کبھی کبھی ہم ساتھ تو ہوتے ہیں لیکن محسوس نہیں ہوتے وقت کے پلوں کے نیچے سے پانی گزر جاتا ہے خامشی روح میں گھر کر لیتی ہے زیست تنہا پسند ہو جاتی ہے ہم خود کو اتنا اکیلا کر لیتے ہیں کہ ہمیں خود کی بھی ضرورت نہیں رہتی اپنی ذات سے لاتعلقی بھی کبھی کبھی نعمت لگتی ہے درد ہوتے ہوئے بھی محسوس نہیں ہوتا ہجر و…

Read More

خالدہ انور ۔۔۔ ہم نے محبت جھیلی ہے

ہم نے محبت جھیلی ہے خون کی ہولی کھیلی ہے خواہش نئی نویلی ہے چنچل شوخ اٹکھیلی ہے تارے میرے ساتھی ہیں چاندنی رات سہیلی ہے کوئی نہ اِس کو بْوجھ سکا جیون ایک پہیلی ہے اپنی محبت کی قاتل اْونچی لال حویلی ہے کوئی کسی کے ساتھ نہیں سب کی ذات اکیلی ہے خواب گرے سب آنکھوں سے خالی ہاتھ ہتھیلی ہے تُو جو میرے ساتھ چلے ہر ساعت البیلی ہے اشک پلا کر پالوں گی اُلفت گود میں لے لی ہے میرا جُھمکا جہاں گرا شہر کا نام…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ آزادہ منش رہ دنیا میں پروائے امید و بیم نہ کر

جوش ملیح آبادی کی یہ غزل پرانی زنجیروں کو توڑ کر انسان کو آزادی اور ہمت کی نئی روشنی دکھاتی ہے۔ غزل کا لب و لہجہ اسے غزل کی روایت سے کوسوں دور کرتا محسوس ہوتا ہے۔

Read More

ثمینہ سید ۔۔۔ عشق میں شرک نہیں نہ کوئی بدعت کیجے

عشق میں شرک نہیں نہ کوئی بدعت کیجے عشق کا نام محبت ہے، محبت کیجے آئیں، اک بار مجھے دیکھ کے دیکھیں خود کو آئنہ بدلا نظر آئے تو حیرت کیجے ہار جانے پہ یوں شرمندہ نہیں ہونا ہے دوسرا دیتی ہوں موقع۔۔۔ذرا ہمت کیجے خود بڑے ہونے کا احساس نہ ہونے دیں اْنہیں گھر میں چپ چاپ پڑے رشتوں کی عزت کیجے زندگی اپنی محبت کے لیے ہی کم ہے آپ کو کس نے سکھایا ہے کہ نفرت کیجے فیصلہ دیجے جو حق والوں کے حق میں جائے مصلحت…

Read More