خشک پتا بھی گرے صحن میں ڈر جاتا ہوں
شام ہوتے ہی میں سناٹوں سے بھر جاتا ہوں
ٹیک جو مجھ سے لگائے کھڑے ہیں گر نہ پڑیں
اس لیے پاؤں بدلتے ہوئے ڈر جاتا ہوں
شام کی بانجھ ہتھیلی پہ چراغوں کی لویں
تھرتھراتی ہیں تو میں خوف سے بھر جاتا ہوں
جب جلاتی ہے مجھے لوگوں کے لہجوں کی تپش
تری یادوں کے سمندر میں اتر جاتا ہوں
ویسے اس عمر میں کچھ یاد کہاں رہتا ہے
ویسے اک نام جو سن لوں تو ٹھہر جاتا ہوں
جس پہ آتے تھے نظر چاند ستاروں کے ہجوم
اب اسی راہ سے چپ چاپ گزر جاتا ہوں
شعر کہنا تو بہت آگے کی منزل ہے میاں
میں تو بس سوچتے بس سوچتے مر جاتا ہوں
روز عرفان میں چنتا ہوں بدن کے ریزے
روز تنہائی کے صحرا میں بکھر جاتا ہوں
