فرہاد ترابی ۔۔۔ ریشم و اطلس و کم خواب نہیں دیکھتے ہیں

ریشم و اطلس و کم خواب نہیں دیکھتے ہیں ہم پہ الزام ہے ہم خواب نہیں دیکھتے ہیں جب وہ آتا ہے سرِ شام لبِ بام کبھی آسماں ہم ترا مہتاب نہیں دیکھتے ہیں آپ اسے کچھ بھی کہیں آپ کی مرضی ہے جناب ٹھان لیتے ہیں تو اسباب نہیں دیکھتے ہیں یہ الگ بات کہ ہنستے ہوئے ٹالا ہے اسے دل پہ کیا گزری ہے احباب نہیں دیکھتے ہیں بستیاں جن کی ہوں دریا کے کنارے فرہادؔ گھر بناتے ہوئے سیلاب نہیں دیکھتے ہیں

Read More

خواجہ رضی حیدر ۔۔۔ نئے شعری اُفق کا متلاشی :طارق بٹ

نئے شعری اُفق کا متلاشی :طارق بٹ طارق بٹ ایک صاحبِ اسلوب اور تخلیقی موج سے بھرپور شاعر ہیں۔لہٰذا اُن کے اب تک دو مجموعے طبع ہوچکے ہیں۔ اور تیسرے مجموعے  ’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘ کا مسودہ میرے سامنے ہے۔ سامنے ہی نہیں بلکہ اس نے تو میری تفہیمی صلاحیتوں کو اس طرح آوازدی ہے کہ میں اس مجموعے میں شامل شاعری پر مسلسل غورکرتا رہا ہوں۔ویسے اس غوروفکر کو ان کے ایک فقرے نے مزید مہمیز کیا ہے جوانھوں نے اپنے دوسرے مجموعے کے ابتدائیہ میں درج کیا تھا…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ ’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘۔۔۔ ایک تاثر

’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘۔۔۔ ایک تاثر طارق بٹ کی شاعری کا ایک ہلکا سا تاثر ان کی ان غزلوں سے میرے ذہن میں اس وقت مرتب ہوا جب ماہ نامہ ’’فانوس‘‘ میں ان کی غزلیں اشاعت کے لیے آئیں اور وقتاً فوقتاً’’فانوس‘‘ کے بعض شماروں کا حصہ بنیں۔ تاہم مجموعی اور بھرپور تاثر کے لیے میرے سامنے ان کا کوئی مجموعہ نہیں تھا۔ اسے میری نارسائی کہہ لیجے یا کوتاہی کہ خواجہ رضی حیدر اور نوید صادق کے دیباچوں سے معلوم ہوا کہ ’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘ ان کا تیسرا مجموعہ…

Read More

عذرا مظہر خانپوری ۔۔۔ تلمیحات راز۔۔۔۔ایک جائزہ

  تلمیحات راز۔۔۔۔ایک جائزہ     پروفیسر شفیق الر حمٰن الہ آبادی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں وہ میلسی کے اولین نقاد محقق ہیں۔وہ میلسی رائٹرز فورم کے صدر ہونے کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ کالج میلسی کے ’’بزم اقبال‘‘ کے بھی صدرہیں۔اس کے علاوہ وہ کالج میگزین (آب جو) کے مدیر کے عہدے پر بھی فائزہیں۔’’تلمیحات راز‘‘سے پہلے بھی پروفیسر شفیق الر حمٰن الہ آبادی کی چھ کتابیں منصہ شہودپر جلوہ گر ہوچکی ہیں جن میں آئینہ خیال(تحقیق و تنقید)،شاعر علی شاعر کی تخلیقی جہتیں(تحقیق و تنقید)،جاوید صدیق…

Read More

آصف ثاقب ۔۔۔ بُرا تھا جو وہ اچھّا ہو گیا ہے

بُرا تھا جو وہ اچھّا ہو گیا ہے گھروں کا نور زندہ ہو گیا ہے تمھیں جانا تھا حسنِ گفتگو سے تمھارا بول بالا ہو گیا ہے پڑھے ہیں ہم نے دل سے میر و غالب ہمارا شوق پورا ہو گیا ہے نہیں لکھنا ہیں اب تعویذ اس کو ہمارا پیر اندھا ہو گیا ہے پرانے جاننے والے کہاں ہیں ہمارے بیچ جھگڑا ہو گیا ہے بہت اچھا ہوا ہے آج ثاقب کسی کا عشق رسوا ہو گیا ہے

Read More

حسن نواز شاہ …. گوجر خان میں اُردو غزل کی روایت

گوجر خان میں اُردو غزل کی روایت گوجر خان میں اُردوشاعری کے رواج سے قبل چند ایک فارسی اور پنجابی زبانوں کے قدیم شعرا کے نام ملتے ہیں۔فارسی شعرا میں دس ویں اور گیارہ ویں صدی ہجری کے شیخ قطب الدین کا تعلق جلہاری بھائی خان سے تھا۔چند بندوں پر مشتمل اُن کا ایک خمسہ اُن کے اخلاف میں عبداللہ سہام نے اپنی تصنیف: اَسرار المحبت (سالِ تصنیف: ۱۱۶۰ھ)میں نقل کیا ہے ۔ گیارہ ویں اور بار ہویں صدی ہجری کے چند اور فارسی و پنجابی شعرا میں میاں محمد…

Read More