’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘۔۔۔ ایک تاثر
طارق بٹ کی شاعری کا ایک ہلکا سا تاثر ان کی ان غزلوں سے میرے ذہن میں اس وقت مرتب ہوا جب ماہ نامہ ’’فانوس‘‘ میں ان کی غزلیں اشاعت کے لیے آئیں اور وقتاً
فوقتاً’’فانوس‘‘ کے بعض شماروں کا حصہ بنیں۔ تاہم مجموعی اور بھرپور تاثر کے لیے میرے سامنے ان کا کوئی مجموعہ نہیں تھا۔ اسے میری نارسائی کہہ لیجے یا کوتاہی کہ خواجہ رضی حیدر اور نوید صادق کے دیباچوں سے معلوم ہوا کہ ’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘ ان کا تیسرا مجموعہ ہے اور اس سے پہلے ان کے دو مجموعے اشاعت کے مرحلے سے گزر چکے ہیں۔ کسی بھی کتاب کے دیباچے کا مقصد۔۔۔کسی اور کے بارے میں کہا نہیں جا سکتا۔۔۔ میرے نزدیک اس کی فضیلت یہ بھی ہے کہ اصل کتاب پڑھنے والے کے لیے ایک سمت مہیا کر دیتا ہے۔ فضلیت کا لفظ میں نے اس لیے استعمال کیا ہے کہ کتاب پر دیباچہ یا مقدمہ لکھوانے کی آرزو خود صاحبِ کتاب کی ہوتی ہے اور اس کے نزدیک جس لکھنے والے کی اہلیت زیادہ ہو سکتی ہے،وہی دیباچہ نگاری کے منصب پر فائز ہوتا ہے۔ سو اس مجموعے کے صاحبانِ فضیلت خواجہ رضی حیدر اور نوید صادق ہیں اور علمی و ادبی لحاظ سے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان اصحاب کی تنقیدی حسیات اور کسی فن پارے کو پرکھنے کی صلاحیت ہمارے بہت سے لکھنے والوں کے مقابل کہیں زیادہ ہے، یوں متذکرہ کتاب کے دیباچے یا تقریظات کا تنقیدی و تجزیاتی پہلو لائق اعتبار ہی نہیں، بہت اعلیٰ سطح پر محسوس کیا جا سکتا ہے، بلکہ محترم نوید صادق صاحب نے ’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘ کی تخلیقی پیش کش کو پوری عرق ریزی اور اپنے منصفانہ تنقیدی عمل کے ساتھ رقم کرتے ہوئے اپنی تنقیدی صلاحیت کے نقوش زینت ِقرطاس کر دیے ہیں اور اس سے آگے بڑھنا مجھ جیسے ہیچ مداں کے لیے اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور دکھائی دیتا ہے۔
فوقتاً’’فانوس‘‘ کے بعض شماروں کا حصہ بنیں۔ تاہم مجموعی اور بھرپور تاثر کے لیے میرے سامنے ان کا کوئی مجموعہ نہیں تھا۔ اسے میری نارسائی کہہ لیجے یا کوتاہی کہ خواجہ رضی حیدر اور نوید صادق کے دیباچوں سے معلوم ہوا کہ ’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘ ان کا تیسرا مجموعہ ہے اور اس سے پہلے ان کے دو مجموعے اشاعت کے مرحلے سے گزر چکے ہیں۔ کسی بھی کتاب کے دیباچے کا مقصد۔۔۔کسی اور کے بارے میں کہا نہیں جا سکتا۔۔۔ میرے نزدیک اس کی فضیلت یہ بھی ہے کہ اصل کتاب پڑھنے والے کے لیے ایک سمت مہیا کر دیتا ہے۔ فضلیت کا لفظ میں نے اس لیے استعمال کیا ہے کہ کتاب پر دیباچہ یا مقدمہ لکھوانے کی آرزو خود صاحبِ کتاب کی ہوتی ہے اور اس کے نزدیک جس لکھنے والے کی اہلیت زیادہ ہو سکتی ہے،وہی دیباچہ نگاری کے منصب پر فائز ہوتا ہے۔ سو اس مجموعے کے صاحبانِ فضیلت خواجہ رضی حیدر اور نوید صادق ہیں اور علمی و ادبی لحاظ سے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان اصحاب کی تنقیدی حسیات اور کسی فن پارے کو پرکھنے کی صلاحیت ہمارے بہت سے لکھنے والوں کے مقابل کہیں زیادہ ہے، یوں متذکرہ کتاب کے دیباچے یا تقریظات کا تنقیدی و تجزیاتی پہلو لائق اعتبار ہی نہیں، بہت اعلیٰ سطح پر محسوس کیا جا سکتا ہے، بلکہ محترم نوید صادق صاحب نے ’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘ کی تخلیقی پیش کش کو پوری عرق ریزی اور اپنے منصفانہ تنقیدی عمل کے ساتھ رقم کرتے ہوئے اپنی تنقیدی صلاحیت کے نقوش زینت ِقرطاس کر دیے ہیں اور اس سے آگے بڑھنا مجھ جیسے ہیچ مداں کے لیے اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور دکھائی دیتا ہے۔مگر۔۔۔ کیا کیا جائے کہ انسانی طبیعتوں میں ہمیشہ ایک تضاد واقع ہوا ہے، پسند اور ناپسند کا معیار بھی مختلف ہو سکتا ہے اور دیکھنے پرکھنے کی اہلیت بھی کہیں دوسرے سے کمتر تو ہو سکتی ہے مگر زاویۂ نظر میں اختلاف کی گنجایش بھی اگرچہ موجود رہتی ہے، تاہم دیباچہ اپنے پڑھنے والے کے لیے جو سمت مہیا کرتا ہے عمومی زاویۂ نگاہ سے وہی سمت مصدقہ تجزیاتی میزان میں بھاری دکھائی دیتی ہے، سو جب میں نے ’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘ کی یہ تقریظات یا دیباچے پڑھے تو مجھے اس تجزیاتی رَو کے بہائو میں اس سے آگے نکلنا دشوار دکھائی دینے لگا۔ اب اگر کہیں میں ان کی موافقت اور تجزیات کی تائید میں اپناتجزیہ پیش کرتا ہوں تو بار بار قلم رُکتا ہے، مگر پھر یہ امر بھی موجبِ تسکین ہے کہ آخر کچھ تو مجھے بھی کہنا ہے۔
طارق بٹ نے اس مجموعے کی شاعری کے لیے جو عنوان مقرر کیا ہے، اس کا تعلق بظاہر خواب کی علامت سے جڑاہوا ہے مگر یہ خواب، خواب ِ بے تعبیر ہے جس نے کتنے ہی سرد و گرم موسم گزار دیے اور شاعر کی شعوری رَو نے اس سے جو معنویت اخذ کی ہے وہ رایگانی کا احساس دلاتی ہے۔ یہ احساس سماجی تناظر میں دیکھا جائے تو انسانی رویوں کی سرد مہری اور بے حسی کو سامنے لاتا ہے۔ مثلاً یہ شعرکہ:
کیا بگولے سا سرِ دشت اُڑاتا ہے غبار
آ: بھرے شہر میں لا، شوق کی رسوائی کو
انسانی معاشرہ اور اس میں بسنے والے فرد کی تنہائی، اور اس تنہائی کے المیے سے دوچاردشت کے بگولے میں بھی شاعر کا دل دھڑکتا ہے اوراس میں اسے اپنی کیفیت ِ جنوں دکھائی دیتی ہے، بظاہر بگولا، دشت، غبار ایک ہی مصرعے میں صوتی و معنوی اعتبار سے اہم آہنگ ہو کر مصرعۂ ثانی سے تلازماتی صورت اختیار کرتے ہیں، مگر مفہوم کے اعتبار سے شاعر کا بنیادی مقصداس تحرک سے ہے جو ’’شوق کی رسوائی‘‘ گویا دوسرے معنی میں انسانی خواہشات کے دائرۂ فکر میں حرکی تصور پیدا کرتا ہے جس سے شاعر کا تخیل اپنے تخلیقی مظاہر میں اس سعی و عمل کا اظہار کرتا دکھائی دیتا ہے جو اسے نہ صرف شوق پر ابھارتا ہے بلکہ عینِ حقیقت اور خود فراموشی کے بجائے خود آگہی کا صورت گر بھی ہے۔ یہاں مجھے غالب کا شعر یاد آگیا:
ہے مشتمل نمودِ صور پر وجودِ بحر
یاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں
’’قطرہ و موج و حباب‘‘ وجودِ بحر کی ظاہری شکلیں ہیں، اس کا اصلی وجود اس بلاخیزی سے ہے جو سمندر کے مدو جزر سے پیدا ہوتی ہے۔ طارق بٹ کے شعر میں بھی بگولا، دشت، اور غبار، صحرا کی ظاہری صورتیں ہیں مگر ’’شوق کی رسوائی‘‘ دشت میں ممکن نہیں بلکہ اس رسوائی کا اصل مظاہرہ انسانی معاشرے ہی میں ہو سکتا ہے جہاں انسان کی ضروریات اور ان سے جڑے ہوئے احساسات کے برعکس انسانی حسیات پر قدغن لگا رکھی ہے اور ایک جمود کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔
طارق بٹ کی شاعری پر بات کرتے ہوئے مجھے اس ایک شعر کی کیفیت نے گھیر لیا اورمیں اس کے دروبست میں کھو کر قدرے ’’حکایت دراز تر گفتم‘‘ کی کیفیت میں چلا گیا،مقصد یہ تھا کہ ان کی شاعری کے ایک فطری آہنگ، ظاہری اور باطنی خد و خال کی آراستگی اور ان کے تخلیقی رجحانات کا اندازہ کیا جا سکے۔چناںچہ میں دیکھتا ہوں کہ طارق بٹ کی شاعری بالخصوص اس کی غزل کا فطری آہنگ اور معنوی تناظر عہدِ موجود کی عام روش سے کہیں بہت جدا بھی ہے اور کہیں کہیں کلاسیکی روایت کی عکاسی کرتا محسوس ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ عصرِ موجود کے سب نہیں، بیشتر نوجوان شعرا نے کلاسیک کو اس نظر سے پڑھا ہی نہیں کہ جس سے رتی بھر جمالیاتی حسن کاری نظر آتی ہو، لایعنی جدت اور خود کو منفرد منوانے کے لیے ایسے ایسے تخلیقی مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ طبیعت بوجھل ہونے لگتی ہے۔ مگر طارق بٹ کی غزل کا تخلیقی آہنگ منفرد اور جدید ہونے کے باوجود کلاسیکی جمالیات سے بے بہرہ نہیں اور ان کے مجموعے سے کئی اشعار اس حوالے سے پیش کیے جا سکتے ہیں۔ بقول نوید صادق:
’’ان کی مجموعی شاعری میں فکری رچاؤ اور اظہاروبیان کی سلاست اور وسعت میں ترفع دکھائی دیتا ہے۔یہ ترفع ہی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ شاعرنہ صرف اپنے تخلیقی رویہ میں سنجیدہ ہے بلکہ اپنی شعری روایت سے بھی جڑا ہوا ہے۔‘‘
تاہم ذرا آگے بڑھتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
’’طارق بٹ کی شاعری کہیں بھی رسمی و روایتی حدود میں مقید نہیں۔ مجھے ’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘ میں ’’صدائے موسمِ گل‘‘ اور ’’بدلتی رتوں کی حیرت‘‘ سے کئی قدم آگے بڑھتی ایک نئی چمک دمک، ایک نیا اسلوب نظر آ رہا ہے۔‘‘
’’صدائے موسمِ گل‘‘ اور بدلتی رُتوں کی حیرت‘‘ میرے سامنے نہیں مگر ’’کتنے موسم خواب ہوئے‘‘ کی شاعری میں،جس پر مجھے آج بات کرنے کا فریضہ سونپا گیا ہے، بلاشبہ رسمی و روایتی حدود میں مقید نہیں، مگر اس شعری روایت کو ساتھ لے کر ضرورچلتی ہے جو اردو شاعری کی جان دار روایت ہے اور جس کے بغیر غزل میں تاثیر کا عنصر داخل نہیں ہو سکتا۔ رمزیت و اشاریت غزل کی اہم خصوصیات ہیں، اگر غزل میں یہ خصوصیات اپنے تمام فنی و معنوی لوازم کے ساتھ ہم آہنگ نہیں تو غزل محض ایک سپاٹ بیانیہ بن کر رہ جاتی ہے۔طارق بٹ کا تخلیقی شعور غزل کی اس رمز سے پوری طرح آشنا ہے بلکہ اپنی تخلیقی پیش کش میں اسے پورے ترفع کے ساتھ شعوری اور غیر شعوری دونوں طرح برتنے پر قادر ہے۔ میں یہاں چند شعر بطور حوالہ پیش کرنا چاہوں گا:
میرے تنہا، مرے یکتا، یہ ترا اِسم ہے جو
ہوا سرنامہ، مرے شجرۂ تنہائی کو
رقص کرتا ہُوا چل بامِ تمنّا کی طرف
کچھ تماشا تو دِکھا اپنے تماشائی کو
دیوار کھینچے جاتا ہے، در کر نہیں رہا
کیا ہو گیا ہے دل کو، خبر کر نہیں رہا
جلائے دیتی ہے ہم کو، یہ زندگی کی لو
چراغِ جاں تہِ داماں، ہوا دیا گیا ہے
دن گزرتے پتا نہیں چلتا
کیا روانی ہے ماہ و سال کی بھی
آئنوں میں آئنہ، شہرِ حلب کا آئنہ
لیکن اپنا دل بھی یارو، ہے غضب کا آئنہ
جانے کس زندگی کی خواہش میں
ہم اِدھر، تم اُدھر رہے آباد
آج: اچانک، ترا خیال آیا
اور آیا، بڑی ہی شدّت سے
ہے کوئی ذات میاں، وحشت و جنوں کی بھی
تلاشیے گا، جو نام و نسب کہیں مل جائے
یہ چند شعر مجموعے کے محض ابتدائی اوراق سے لے لیے گئے ہیں،جسے بہرحال انتخاب نہیں کہا جا سکتا ہے اور کہیں انتخاب کا شائبہ محسوس ہو تواس میں ذاتی پسندیدگی کا مسئلہ بنیادی ہے جب کہ میری نظر میں ایک کڑا انتخاب کیا جائے توسماجی اور عصری صورتِ حال اور ان کی دلی وارداتِ کے آئینے میں مجموعے کے آخر تک کتنے ہی شعر ایسے نظر آتے ہیں جو طارق بٹ کے شعری معیار کو بلند تر رکھتے ہیں۔مجموعی طور پر طارق بٹ کا شعری آذوقہ، جو ان کی شعوری اور لاشعوری کاوشوں کا حاصل ہے، بہت دیر تک وابستگانِ شعر کو اپنی تخلیقی جمالیات سے سرشار کرتا رہے گا۔ اس کا ایک ایک مصرعہ اور شعر معنوی اعتبار سے بھی ان کی ترفع خیالی کا مظہر ہے جس کا خیرمقدم پورے صدقِ دل سے پوری ادبی دنیا میں کیا جانا چاہیے۔
خالد علیم
یکم اکتوبر ۳۲۰۲ء
