معروضات فنی نقطۂ نظر سے نعت، حضور ﷺ کے اوصاف و محاسن کا بیان ہے۔ اس کا لغوی مفہوم اگرچہ وصف ہے اور وصف نگاری کسی شخصیت کے لیے بھی ہو سکتی ہے ، لیکن اصطلاحی مفہوم کے اعتبار سے حضور ﷺ کی وصف نگاری ہی کو نعت کہا جائے گا۔ اس تناظر میں حضورﷺ کے اوصافِ حسنہ کے ذکر کے بجائے اگر مدّعا طلبی اور آپ سے وابستگی و والہیت اور دلی جذبات کے اظہار کا پہلو بھی شامل ہو تو اسے میں نعتیہ جذبات نگاری سے تعبیر کرتا…
Read MoreCategory: منتخب مضامين
حامد یزدانی ۔۔۔ خالد علیم کی نعت نگاری
خالد علیم کی نعت نگاری خالد علیم کی نعت کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک پرزم (منشور مثلثی) کی مثال کو سامنے رکھنا مناسب ہوگا۔ جس طرح پرزم کے تین رخ ہوتے ہیں، جن میں سے روشنی کی شعاعیں گزر کر مختلف رنگوں میں منقسم ہو کر پھیل جاتی ہیں، اسی طرح خالد کے فنِ شعر گوئی میں بھی تین نمایاں رخ دیکھے جا سکتے ہیں جن میں سے گزر کر ان کی شاعری کی تین بنیادی خصوصیات کئی ایک محاسن میں تقسیم ہو جاتی ہیں۔ اس منشور مثلثی کا…
Read Moreخالد احمد ۔۔۔ خالد علیم ! خوش گو نعت گو
خالد علیم ! خوش گو نعت گو نئی نعت احمد ندیم قاسمی اور حفیظ تائب کے اندازِ عقیدت اور پیرایہ ہاے اظہار کا نام ہے۔ خالد علیم ہمارے نوجوان شعرا میں اپنا رنگ ،اپنا آہنگ رکھنے والے شعرا میں سے ہیں، اور نعت ان کا محبوب پیرایۂ اظہار ہے۔۔۔۔ حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں لب کشائی یوں بھی مشکل تر قرار پاتی ہے کہ لب کشا کے ہونٹ تو ان کے پاک ذکر ہی سے گلال ہو جاتے ہیں، اور یہ گلال کاغذ پر ذاکر کے بے اختیار…
Read Moreقلب و نظر کا حضور ’’محامد‘‘ میں غزل، قصیدہ، آزاد نظم اور رباعی کے فنی پیرایے استعمال ہوئے ہیں اور ہر صنف کا حق ادا کرکے دکھایا گیا ہے۔ نظم آزاد ’’سورۂ والضحیٰ کی شانِ نزول‘‘ کے عنوان سے ہے اور اس میں قرآنی رَمز و کنایہ سے خوب اِستفادہ کیا گیا ہے۔ خالق ِکائنات کے اپنے حبیب پاک ؐ سے مکالمات کے پس منظر و پیش منظر کو کمال حسن کاری سے قلم بند کیا گیا ہے۔ رباعی میں بقول حافظ محمد افضل فقیر ’’زحافاتی حسن اور تغیراتی کمال‘‘…
Read Moreڈاکٹر خورشید رضوی ۔۔۔ خالد علیم کی نعت
خالد علیم کی نعت خالد علیم کی نعت میں جذبے، علم اور ریاضتِ فنی کا ایک ایسا امتزاج ملتا ہے جو عجلت کے اس دور میں بہت کم یاب ہے۔ یہ ریاضتِ فنی ان کے ہاں حسب کے علاوہ نسب کا درجہ بھی رکھتی ہے کہ جس گھر سے ’’شاہنامہ بالاکوٹ‘‘ اور’’ طلع البدر علینا‘‘ کا طلوع ہوا ہو، اتنی ریاضت تو اس کی فضا میں رچی ہوئی ہوتی ہے۔ ’’محامد‘‘ میں گو بیش تر انحصار قصیدہ و غزل ہی کی ہیئت پر رہا ہے تاہم مسدس، آزاد نظم اور…
Read Moreپروفیسرجعفر بلوچ ۔۔۔ خالد علیم کا نغمۂ محامِد
خالد علیم کا نغمۂ محامِدْ حضرت علیم ناصری اور ان کے فرزندِ ارجمند جناب خالد علیم دونوں اسلامی ادب کے قابلِ احترام نمائندے ہیں۔ ان دونوں معززینِ ادب کے ذکر سے مجھے اکثر زہیر بن ابی سلمیٰ اور ان کے سعادت مند بیٹے حضرت کعب بن زہیر یاد آ جاتے ہیں۔ جس طرح حضرت کعبؓ اپنے والد کے تربیت یافتہ تھے اسی طرح خالد صاحب بھی حضرت علیم کے سایہ پرور ہیں۔ جس طرح زہیر و کعبؓ اپنے ادوار کے اکابرِ ادب میں سے تھے اسی طرح حضرت علیم ناصری…
Read Moreارشد نعیم : منچندا بانی— ایک گم شدہ خواب کا مغنی
منچندا بانی— ایک گم شدہ خواب کا مغنی منچندا بانی نے آنکھ کھولی تو ایک ہزار سال کے تجربات سے تشکیل پانے والی ہند اسلامی تہذیب ایک حادثے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہندوستان آزادی کی تحریک کا مرکز بنا ہوا تھا اور ہندوستان کی تقسیم آخری مراحل تک تھی اور ایک ایسی ہجرت کے سائے دو قوموں کے سر پر منڈلا رہے تھے جو لہو کی ایک ایسی لکیر چھوڑ جانے والی تھی جسے صدیوں تک مٹانا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ احساس، یہ منڈلاتا ہوا خطرہ ہمیں بانی کے…
Read Moreقمرزمان …. ڈاکٹر نذیر تبسم کچھ یادیں
ڈاکٹر نذیر تبسم کچھ یادیں پروفیسر ڈاکٹرنذیر تبسم کے انتقال کی خبر سنی تو ان کا ہنستا مسکراتا چہرہ آنکھوں کے سامنے آگیا۔ ان کی یادوں کا ایک سلسلہ دل کے تار چھیڑنے لگا۔ کیسی موہنی شخصیت تھی ڈاکٹر نذیر تبسم کی ۔ان سے پہلی ملاقات اتنی خوشگوار تھی کہ بھلائے نہیں بھولتی ۔2003 ء کی بات ہےگورنمنٹ کالج ایبٹ آباد میں ہمارا ایم اے اردو کا زبانی امتحان تھا۔ ممتحن تھے ڈاکٹر نذیر تبسم اور پروفیسر عبدالقادر ساجد، ہمارے ساتھ ہمارے ایک دوست سردار منیر بھی زبانی امتحان دے…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ فہمیدہ ریاض
فہمیدہ ریاض فہمیدہ ریاض کا کہناتھا کہ: ’’ فیمنزم کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ میرے نزدیک فینزم کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی طرح عورت بھی ایک مکمل انسان ہے جس کی لا محدود ذمہ داریاں ہیں۔ ان کو بھی امریکی کالے یا دلت کی طرح سماجی برابری حاصل کرنے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ عورتوں کو معاملہ مزید سنگین ہے۔ ان کو بلا جھجک اور بغیر کسی پریشان کا سامنا کیے ہوئے سڑکوں پر گھومنے کی آزادی ہے۔ ان کو تیرنے، محبت کی شاعری کرنے کی آزادی ہے،…
Read Moreآلِ احمد سرور ۔۔۔ پورے غالب
ہماری تنقید اب تک ادب کے کسی نہ کسی پابند تصور سے آزاد نہیں ہو سکی ہے، گو حال میں اس تصور سے بلندی اور ادب کی اپنی خصوصیت کو واضح کرنے کی کوششیں ملنے لگی ہیں۔ ادب میں اخلاق، ادب میں مذہبی تصورات، ادب میں تصوف، ادب میں سماجی قدریں، ادب میں انسان دوستی کے ہر نظریے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ادب کا مقصد ان میں سے کسی نقطۂ نظر کی ترجمانی یا اشاعت ہے مگر ادب تلقین نہیں، تخلیق ہے۔ یہ Saying نہیں ہے، Making ہے۔…
Read More