خالد علیم کا نغمۂ محامِدْ حضرت علیم ناصری اور ان کے فرزندِ ارجمند جناب خالد علیم دونوں اسلامی ادب کے قابلِ احترام نمائندے ہیں۔ ان دونوں معززینِ ادب کے ذکر سے مجھے اکثر زہیر بن ابی سلمیٰ اور ان کے سعادت مند بیٹے حضرت کعب بن زہیر یاد آ جاتے ہیں۔ جس طرح حضرت کعبؓ اپنے والد کے تربیت یافتہ تھے اسی طرح خالد صاحب بھی حضرت علیم کے سایہ پرور ہیں۔ جس طرح زہیر و کعبؓ اپنے ادوار کے اکابرِ ادب میں سے تھے اسی طرح حضرت علیم ناصری…
Read MoreTag: جعفر بلوچ
گوشۂ حامد یزدانی (ماہنامہ بیاض لاہور ستمبر 2023)
جعفر بلوچ
جعفر بلوچ ۔۔۔ پیرایہ ء فن جدا ہے میرا
پیرایہ ء فن جدا ہے میرا دل ہی سے مکالمہ ہے میرا سچ بولنا اور خراب ہونا اک عمر سے مشغلہ ہے میرا کیا کیا مجھے خوش گمانیاں ہیں تو نام جو لے رہا ہے میرا ذکر اس میں ترا جو آ گیا ہے مہکا ہوا ماجرا ہے میرا رندی مری آج کی نہیں ہے مشرب ہی یہی رہا ہے میرا یاروں کی تعلیاں سنی ہیں اور چپ ہوں، یہ تبصرہ ہے میرا فرعون یہ جانتے ہیں جعفر خامہ ہی مرا عصا ہے میرا
Read Moreجعفر بلوچ ۔۔۔ پیامِ خیر و سلام
پیامِ خیر و سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں خیر آئین ہوں جعفر فقط دایاں نہیں ہوں میں فقط بایاں نہیں ہوں میں میں خیر آئین ہوں اور برسرِ پیکار ہوں شر سے مرا اِیماں ہے حسن و خیر کی قدریں ہیں آفاقی ورا ہیں سمت اور حد سے مجھے تو میسروں اور میمنوں میں خیر کی ترویج کرنی ہے مری دائیں طرف اور بائیں جانب پھول بھی ہیں اور کانٹے بھی بہاریں بھی، خزائیں بھی مگر میری تمنا ہے کہ ہر جانب فقط رعنائیاں ہوں، نکہت و رنگ و ترنم ہو سلام…
Read Moreجعفر بلوچ
یادِماضی کے اوراق پر جا بہ جا اب یہ تحریر ہے چاہیے تو یہ تھا ، چاہیے تو یہ تھا ، چاہیے تو یہ تھا
Read Moreنعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔جعفر بلوچ
حدیثِ صاحبِ لولاک سے ایماں چمکتے ہیں نقوشِ دل چمکتے ہیں، حروفِ جاں چمکتے ہیں سبب ہیں سرورِ کونین ، تنویرِ دو عالم کا یہ دونوں گھر انھی کے نور سے یکساں چمکتے ہیں جو پھوٹیں سیرتِ خیر البشر کے خاورستاں سے انھی کرنوں کی آب و تاب سے انساں چمکتے ہیں پڑا ہو جن پہ خورشیدِ رسالت کا ذرا پَرتو وہ ذرے اوجِ عظمت پر بہر عنواں چمکتے ہیں کرامت ایک یہ بھی تابشِ عشقِ نبی کی ہے دلِ عشاق ، مثلِ ذرہ ء فاراں چمکتے ہیں جو شہرِ…
Read Moreجعفر بلوچ
تمام رات رہا مے کدہ نشیں جعفر گیا ہے اٹھ کے یہاں سے وہ نیک بخت ابھی
Read Moreحمد ۔۔۔ جعفر بلوچ
جعفر بلوچ
اپنے چہروں کے داغ دھو نہ سکے آئنوں پر برس رہے ہیں لوگ
Read More