حیراں ہوں کہ اب لاؤں کہاں سے میں زباں اور لب کہتے ہیں کچھ اور انھیں ہوتا ہے گماں اور جائیں تو کہاں جائیں محبت کے خریدار اربابِ سیاست نے تو کھولی ہے دکاں اور معلوم نہیں ہے مرے صیاد کو شاید گھٹتی ہے اگر سانس تو کھلتی ہے زباں اور اب وعدۂ فردا میں کشش کچھ نہیں باقی دہرائی ہوئی بات گزرتی ہے گراں اور دیکھے گی جو اک پل میں مری آنکھ سے تجھ کو ہو جائے گی دنیا تری جانب نگراں اور لگ جاتی ہیں مہریں سی…
Read MoreTag: Urdu
قتیل شفائی
ترکِ وفا کے بعد یہ اس کی ادا قتیلؔ مجھ کو ستائے کوئی تو اس کو برا لگے
Read Moreقتیل شفائی
گرمیٔ حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی
اس پر تمہارے پیار کا الزام بھی تو ہے اچھا سہی قتیلؔ پہ بدنام بھی تو ہے
Read Moreقتیل شفائی
حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا
Read Moreسید آلِ احمد
کس کو فرصت ہے مجھے ڈھونڈنے نکلے احمدؔ اپنی ہی چاپ پہ کب تک میں پلٹ کر دیکھوں
Read Moreاعجاز گل
ہجر، سرِ ویرانۂ جاں بھی مہر بلب وصل، گلی کوچوں میں چرچا مانگتا ہے
Read Moreمحسن اسرار
خدا نے اپنے تئیں روشنی اُتاری تھی کہ آدمی نے اندھیرا تو خود اتارا ہے
Read Moreقتیل شفائی
کیا عشق تھا جو باعثِ رسوائی بن گیا یارو تمام شہر تماشائی بن گیا
Read Moreعدیم ہاشمی
جس راہ پر پڑے تھے ترے پاؤں کے نشاں اس راہ سے کسی کو گزرنے نہیں دیا
Read More