حامد یزدانی ۔۔۔۔ نہ چھت نہ دیوار تھی فقط در بنا لیے تھے

نہ چھت نہ دیوار تھی فقط در بنا لیے تھے یہ ہم نے کیسے عجیب سے گھر بنا لیے تھے وہ جس ورق سے ہمیں بنانا تھی ایک کشتی اُسی ورق پر کئی سمندر بنا لیے تھے نہ جانے کیوں آسماں بہت یاد آ رہا تھا سو کچھ ستارے ہی سونی چھت پر بنا لیے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ عشق تقلید چاہتا ہے سو ہم نے بھی سارے اشک، پتھر بنا لیے تھے تو پھر وہ صحرا کے ساتھ رہتا تھا اپنے گھر میں سبھی دریچے ہوا کے…

Read More

ثروت حسین

ثروت تم اپنے لوگوں سے یوں ملتے ہو جیسے ان لوگوں سے ملنا پھر نہیں ہو گا

Read More

عادل منصوری

وہ کون تھا جو دن کے اجالے میں کھو گیا یہ چاند کس کو ڈھونڈنے نکلا ہے شام کو

Read More

قابل اجمیری

بے کسی سے بڑی امیدیں ہیں تم کوئی آسرا نہ دے جانا

Read More

عزیز اعجاز

تعلقات ہی اے دوست تجھ سے نازک تھے کڑا دباؤ پڑا ٹوٹتے سہارے پر

Read More

احمد فراز

سُنا ہے اُس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت مکیں اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں

Read More

شفیق آصف ۔۔۔ سورج کا عکس چھاؤں کی جانب نہ ہو سکا

سورج کا عکس چھاؤں کی جانب نہ ہو سکا ہم سے سفر میں ایسا مناسب نہ ہو سکا کل رات ابرِ غم کے حوالے نہ مِل سکے کل رات بھی شُمارِ کواکب نہ ہو سکا راسخ تھا اِس طرح تُو مِرے لا شعور میں دشمن مِرے شعور پہ غالب نہ ہو سکا لُوٹی ہیں اُس نے پھول سے چہروں کی رونقیں اُس جیسا کوئی وقت کا غاصب نہ ہو سکا آصف میں ڈٹ گیا تھا مقابل کے سامنے پھر بھی ستم کی سمت وہ راغب نہ ہو سکا

Read More

زاہد محمود زاہد ۔۔۔ اگرچہ شام و سحر در بہ در ہوائیں ہیں

اگرچہ شام و سحر در بہ در ہوائیں ہیں کسی چراغ کی زد پر مگر ہوائیں ہیں یہ آگ بڑھنے سے پہلے ہی روک لو ورنہ جو شعلہ بھڑکا اِدھر تواُدھر ہوائیں ہیں کوئی چراغ ہمیں روشنی نہیں دیتا براجمان ہر اک بام پر ہوائیں ہیں تمھاری آنکھ میں جب دھول جھونکتے گزریں سمجھ میں آئے گا تب بے خبر! ہوائیں ہیں گلِ حیات کھلا ہے انھی کے ہونے سے کہ یہ ہوائیں بہت کارگر ہوائیں ہیں چراغ تو نے جلایا تو ہے مگر زاہد سفر ہے شام کا اور…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ رباعیات

سورج ہے عجیب، کچھ اُجالا کرکے اک اگلی صبح کا تقاضا کرکے ہر رات ستاروں کو بجھا دیتا ہے ہر روز نکلتا ہے تماشا کرکے ٭ حیرت کی فراوانی گھر پر ہے میاں باہر بھی گھر جیسا منظر ہے میاں آنکھیں نہ جلا کہ اندروں جل جائے خاموش کہ خامشی ہی بہتر ہے میاں ٭ کھِل سکتا ہے گوبر سے گُلِ ریحانی جوہڑ سے نکل سکتا ہے میٹھا پانی یہ جَہلِ مرکّب جو نہیں تو کیا ہے؟ نادان کی نادانی پر حیرانی ٭ ایسا بھی بے خبر کوئی دل ہوگا؟…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سرور حسین نقشبندی

وردِ درود پاک نے ایسا کمال کر دیا فکر و دل و نگاہ کو شاخِ نہال کر دیا لہجہ مرے رسول کا معجزۂ مقال تھا جس نے ہر ایک تند خو شیریں مقال کر دیا عزتیں بخش دیں تمام کس نے صہیبِ روم کو کس نے رخِ بلال کو رشکِ جمال کر دیا نعتِ نبی سے فکر میں ایسے گلاب کھل اٹھے حرف و خیال و صوت کو خوشبو مثال کر دیا دونوں جہاں کی دولتیں اس پہ نثار ہو گئیں جس نے فدا حضور پر مال و منال کر…

Read More