سید آل احمد ۔۔۔ اس نے اقرار کیا ہے مگر انکار کے ساتھ

اس نے اقرار کیا ہے مگر انکار کے ساتھ سلسلہ جڑ تو گیا حسنِ طرح دار کے ساتھ صاحبِ دل ہیں‘ کوئی رُت ہو‘ بھرم رکھتے ہیں اپنا رشتہ ہے ازل سے رسن و دار کے ساتھ اب کسے تن پہ سجائے گا کڑی دھوپ میں پیڑ ٹوٹ کر پتے لگے بیٹھے ہیں دیوار کے ساتھ اِک ذرا دیر ٹھہر جا بت خاموش مزاج! نطق زنجیر تو کر لوں لبِ اظہار کے ساتھ عمر بھر کس نے اصولوں کو ترازو رکھا کون رُسوا ہوا اس شہر میں کردار کے ساتھ…

Read More

یزدانی جالندھری

سن رہے ہیں وہ انہماک کے ساتھ کوئی تو بات واقعات میں ہے

Read More

یزدانی جالندھری

میرے ہمراہ وہی تشنہ لبی ہے کہ جو تھی سامنے سلسلہِ ریگِ رواں ہے کہ جو تھا

Read More

یزدانی جالندھری

یاد اک جاگ اٹھی درد کی انگڑائی میں اس دریچے سے کوئی جلوہ فشاں ہے کہ جو تھا

Read More

یزدانی جالندھری

کھڑکی کھلی کوئی نہ کوئی در ہی وا ہوا سو بار اس گلی میں صدا کر کے آئے ہیں

Read More

یزدانی جالندھری

ہم جانتے ہیں آئے گا کیا عرش سے جواب دستِ دعا سے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں ہم

Read More

یزدانی جالندھری

بیٹھے بٹھائے دل کو یہ کیا ہو گیا ہے آج کہتا ہے بار بار، ہوا سامنے کی ہے

Read More

یزدانی جالندھری

ملّاح سرفگندہ، مسافر تھکے ہوئے اُتریں گے کیسے پار، ہوا سامنے کی ہے

Read More

یزدانی جالندھری

مجھ سے ناراض تو وہ ہیں، لیکن تذکرہ میرا بات بات میں ہے

Read More

یزدانی جالندھری

برسا ہے ابر پھر بھی کہیں تازگی نہیں جل تھل کے باوجود تپش ہے، نمی نہیں

Read More