یزدانی جالندھری

سن رہے ہیں وہ انہماک کے ساتھ کوئی تو بات واقعات میں ہے

Read More

یزدانی جالندھری

میرے ہمراہ وہی تشنہ لبی ہے کہ جو تھی سامنے سلسلہِ ریگِ رواں ہے کہ جو تھا

Read More

یزدانی جالندھری

یاد اک جاگ اٹھی درد کی انگڑائی میں اس دریچے سے کوئی جلوہ فشاں ہے کہ جو تھا

Read More

یزدانی جالندھری

کھڑکی کھلی کوئی نہ کوئی در ہی وا ہوا سو بار اس گلی میں صدا کر کے آئے ہیں

Read More

یزدانی جالندھری

ہم جانتے ہیں آئے گا کیا عرش سے جواب دستِ دعا سے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں ہم

Read More