خالد احمد ۔۔۔ خالد علیم ! خوش گو نعت گو

خالد علیم !  خوش گو نعت گو
نئی نعت احمد ندیم قاسمی اور حفیظ تائب کے اندازِ عقیدت اور پیرایہ ہاے اظہار کا نام ہے۔ خالد علیم ہمارے نوجوان شعرا میں اپنا رنگ ،اپنا آہنگ رکھنے والے شعرا میں سے ہیں، اور نعت ان کا محبوب پیرایۂ اظہار ہے۔۔۔۔ حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں لب کشائی یوں بھی مشکل تر قرار پاتی ہے کہ لب کشا کے ہونٹ تو ان کے پاک ذکر ہی سے گلال ہو جاتے ہیں، اور یہ گلال کاغذ پر ذاکر کے بے اختیار بوسوں کی بے اختیاری کا تصور تو پیدا کر سکتے ہیں، بے اختیاری کا نشان نہیں بن پاتے۔۔۔
’’محامد‘‘ خالد علیم کی بے اختیاری کا فسانہ ہے۔ اس کا ایک ایک شعر تلا ہوا، جچا ہوا اور پرکھا ہوا ہے۔ ادب کا تقاضا ہے کہ یہ بوسے بڑی عقیدت ۔۔۔  اور۔۔۔احتیاط سے لیے جائیں کہ سادہ کاغذپیش دربارِ رسالت (ﷺ ) ہونا ہے اور وہ ان نشانات کے پیچھے تپاں جذبات کو سمجھنے اور سراہنے والے ہیں۔ ۔۔۔ ہم جیسے لوگوں کے لیے محامد میں در آنے والے چند الفاظ اجنبی ہوں تو ہوں مگر ان کے دربار میں کوئی لفظ غریب نہیں کہ وہ دیارِ علم ہیں اور خالد علیم کی لفظالی (Vocabulary)  ان ؐ  تک، اس کے جذبات کی ترسیل کا سادہ ترین ذریعہ ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ عشق نبی کریم ﷺ کے طفیل خالد علیم کے ’’محامد‘‘ کا اجر اپنی عنایات کے خصوصی خزانوں سے عطا فرمائے اور ہم سب کو ان انعامات کا گواہ ٹھہرائے، دین میں بھی اور دنیا میں بھی۔ آمین ، ثم آمین !
خالد احمد
(اقتباس  از  ’’لمحہ لمحہ‘‘  (ادبی کالم)، مطبوعہ روزنامہ امروز،  ۱۶ ،  اکتوبر ۱۹۸۶ء)

Related posts

Leave a Comment