عجزاِظہار ۔۔۔ خالد علیم

عجزاِظہار وہ شہنشاہِ ؐ معظم، وہ رسولِ ؐ اکرم معدنِ ؐ علم و ادب، مخزنِ ؐ ایقان و حِکَم آبروے ؐ حرمِ پاک، وقارِ ؐ عالم آدمیّت کا بھرم، عظمتِ ؐ دینِ محکم اُس کی توصیف مرے حیطۂ دانش میں کہاں لڑکھڑاتا ہے قلم اور لرزتی ہے زباں قوتِ فن کی بدولت ہو بیاں نعتِ رسول ؐ اُلفتِ سیّدِ ؐعالم کو نہیں ہے یہ قبول جذب اور کیف سے ہوتا ہے معانی کا نزول حاصلِ سوزِ دروں ہی ہیں محبت کے اصول آنکھ جب فرقت ِسرکار ؐ میں نم ہوتی…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ غلام حسین ساجد

نعت سیّد الانبیاء آپ خیرالورا، اے رسولِ خدا، اے حبیبِ خدا آپ کی روشنی سے مُنّور ہُوا، میرے دل کا دِیا، اے حبیبِ خدا سبز گنبد کے سائے میں آتے ہوئے کچھ چراغوں کی سوغات پاتے ہوئے میرے لب پر فقط آپ کا نام تھا، بَر بنائے شفا، اے حبیبِ خدا ظلمتِ دہر کو چاک کرتے ہوئے، کعبۃُ اللہ کو پاک کرتے ہوئے آپ کے خلق سے آئنہ بن گیا، قلب ہر شخص کا، اے حبیبِ خدا آپ کے واسطے یہ زمانے بَنے، کہکشائیں بَنیں، کارخانے بَنے جن کے ہونے…

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ غلام حسین ساجد

نعت کارِ دنیا سے دامن بچاتے ہوئے، آپ کے در سے خیرات پاتے ہوئے آپ کی روشنی میں نہاؤں گا مَیں، سبز گنبد کے سائے میں آتے ہوئے گاہے رُکتا ہوں حدّت بھری ریت پر، گاہے چلتا ہوں مستی میں بارِ دگر اِس لیے شوق سے دیکھتے ہیں مجھے چاند تارے مدینے کو جاتے ہوئے پھول کِھلنے لگے، پیڑ چلنے لگے، ساری دنیا کے موسم بدلنے لگے آپ کی مسکراہٹ امر ہو گئی نقشِ باطل کو دل سے مِٹاتے ہوئے آپ کے ہر عمل کا ہے ضامن خدا، آپ خیرالورا،…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ اِبتدا (حمدیہ)

اِبتدا تو لازوال ہے ، سب کچھ تری بساط میں ہے مرا وجود شب و روز اِنحطاط میں ہے تُو نورِ مسجد و معبد، تُو میرا ربّ ِاَحد مرا حدیقہ جاں تیرے اِنضباط میں ہے جو لب پہ جاری ہو سُبَحانَ رَبّیَ الْاَعْلیٰ تو دل سرور میں ہے، رُوح بھی نشاط میں ہے میں تیری حمد کہوں، کیا مجال ہے میری میں تیری مدح لکھوں، کب مری بساط میں ہے میں تجھ سے چاہوں مدد نعتِ مصطفیٰ ؐ کے لیے مرے قلم کی دُعا اِھْدِنَاالصَّراط میں ہے تری خبر مجھے…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ معروضات

معروضات فنی نقطۂ نظر سے نعت، حضور ﷺ کے اوصاف و محاسن کا بیان ہے۔ اس کا لغوی مفہوم اگرچہ وصف ہے اور وصف نگاری کسی شخصیت کے لیے بھی ہو سکتی ہے ، لیکن اصطلاحی مفہوم کے اعتبار سے حضور ﷺ کی وصف نگاری ہی کو نعت کہا جائے گا۔ اس تناظر میں حضورﷺ کے اوصافِ حسنہ کے ذکر کے بجائے اگر مدّعا طلبی اور آپ سے وابستگی و والہیت اور دلی جذبات کے اظہار کا پہلو بھی شامل ہو تو اسے میں نعتیہ جذبات نگاری سے تعبیر کرتا…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ خالد علیم کی نعت نگاری  

خالد علیم کی نعت نگاری خالد علیم کی نعت کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک پرزم (منشور مثلثی) کی مثال کو سامنے رکھنا مناسب ہوگا۔ جس طرح پرزم کے تین رخ ہوتے ہیں، جن میں سے روشنی کی شعاعیں گزر کر مختلف رنگوں میں منقسم ہو کر پھیل جاتی ہیں، اسی طرح خالد کے فنِ شعر گوئی میں بھی تین نمایاں رخ دیکھے جا سکتے ہیں جن میں سے گزر کر ان کی شاعری کی تین بنیادی خصوصیات کئی ایک محاسن میں تقسیم ہو جاتی ہیں۔ اس منشور مثلثی کا…

Read More

خالد احمد ۔۔۔ خالد علیم ! خوش گو نعت گو

خالد علیم !  خوش گو نعت گو نئی نعت احمد ندیم قاسمی اور حفیظ تائب کے اندازِ عقیدت اور پیرایہ ہاے اظہار کا نام ہے۔ خالد علیم ہمارے نوجوان شعرا میں اپنا رنگ ،اپنا آہنگ رکھنے والے شعرا میں سے ہیں، اور نعت ان کا محبوب پیرایۂ اظہار ہے۔۔۔۔ حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں لب کشائی یوں بھی مشکل تر قرار پاتی ہے کہ لب کشا کے ہونٹ تو ان کے پاک ذکر ہی سے گلال ہو جاتے ہیں، اور یہ گلال کاغذ پر ذاکر کے بے اختیار…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ نعتیہ رباعی

ہر حرف ہے مانند ِزمُرَّد روشن تشدید و زیر و زبر و مَد روشن اوصاف و محامدِ محمدؐ سے ہوا عالم عالم چراغِ اَبجد روشن

Read More

قلب و نظر کا حضور ’’محامد‘‘ میں غزل، قصیدہ، آزاد نظم اور رباعی کے فنی پیرایے استعمال ہوئے ہیں اور ہر صنف کا حق ادا کرکے دکھایا گیا ہے۔ نظم آزاد ’’سورۂ والضحیٰ کی شانِ نزول‘‘ کے عنوان سے ہے اور اس میں قرآنی رَمز و کنایہ سے خوب اِستفادہ کیا گیا ہے۔ خالق ِکائنات کے اپنے حبیب پاک ؐ سے مکالمات کے پس منظر و پیش منظر کو کمال حسن کاری سے قلم بند کیا گیا ہے۔ رباعی میں بقول حافظ محمد افضل فقیر ’’زحافاتی حسن اور تغیراتی کمال‘‘…

Read More

پروفیسرجعفر بلوچ ۔۔۔ خالد علیم کا نغمۂ محامِد

خالد علیم کا نغمۂ محامِدْ حضرت علیم ناصری اور ان کے فرزندِ ارجمند جناب خالد علیم دونوں اسلامی ادب کے قابلِ احترام نمائندے ہیں۔ ان دونوں معززینِ ادب کے ذکر سے مجھے اکثر زہیر بن ابی سلمیٰ اور ان کے سعادت مند بیٹے حضرت کعب بن زہیر یاد آ جاتے ہیں۔ جس طرح حضرت کعبؓ اپنے والد کے تربیت یافتہ تھے اسی طرح خالد صاحب بھی حضرت علیم کے سایہ پرور ہیں۔ جس طرح زہیر و کعبؓ اپنے ادوار کے اکابرِ ادب میں سے تھے اسی طرح حضرت علیم ناصری…

Read More