خالد علیم کی نعت نگاری
خالد علیم کی نعت کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک پرزم (منشور مثلثی) کی مثال کو سامنے رکھنا مناسب ہوگا۔ جس طرح پرزم کے تین رخ ہوتے ہیں، جن میں سے روشنی کی شعاعیں گزر کر مختلف رنگوں میں منقسم ہو کر پھیل جاتی ہیں، اسی طرح خالد کے فنِ شعر گوئی میں بھی تین نمایاں رخ دیکھے جا سکتے ہیں جن میں سے گزر کر ان کی شاعری کی تین
بنیادی خصوصیات کئی ایک محاسن میں تقسیم ہو جاتی ہیں۔ اس منشور مثلثی کا ایک رخ اگر تاریخی شعور ہے تو دوسرا عصری بصیرت اور جدت آہنگ، جب کہ تیسرے رخ کو فنی بالیدگی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔۔۔
تاریخی شعور فی الحقیقت وہ ڈوری ہے جوحال سے ماضی کے تعلق کو پائیدار اور مضبوط تر بناتی ہے۔ ہمارے اکثر نوجوان شعرا میں اس شعور کی خاصی کمی محسوس کی جاتی ہے۔ گویا وہ ایک کشتی میں سفر تو کر رہے ہیں لیکن سفر کی سمت کا تعین کرنے سے معذور ہیں اور سمت کا تعین اس لیے مشکل ہے کہ منزل سے ناآشنا ہیں اور ان کی اس منزل ناشناسی کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اپنی آنکھیں صرف آگے کی سمت جما رکھی ہیں۔۔۔ اور آغازِ سفر سے ناآگاہ منزلِ سفر سے کیسے آشنا ہو سکتے ہیں۔۔۔!
خالد علیم کی یہ خوبی انھیں اپنے دیگر ہم عصروں سے اس طرح ممیز کرتی ہے کہ انھوں نے اپنی گاڑی کا بیک ویو مرر (Back View Mirror)صاف رکھا ہے، چناں چہ ان کی آنکھیں جہاں سامنے پھیلے ہوئے راستے پر محو ِ سفر ہیں، وہاں گزرے ہوئے راستے پر بھی مرتکز ہیں۔ یوں تو تاریخ سے آگاہی ہر معاملے میں رہنما ثابت ہوتی ہے، لیکن نعت کے سفر میں اس کو رخت ِسفر کی طرح ساتھ رکھنا، نہ صرف ضروری بلکہ لازمی قرار پاتا ہے ۔۔۔
خالد کی نعت جہاں ہم پر قصرِ تاریخ کا بابِ تلمیح وا کرتی ہے، وہاں مدحت کے آفاق پر سیرت نگاری کے ستاروں سے جگمگاتی کہکشاں کی بھی نشان دہی کرتی ہے۔ خالد کی نعت نگاری سیرتِ نبوی ؐ کے جواہر سے آراستہ و پیراستہ ہے۔حضورﷺ کا خلقِ مبیں، حضورؐ کی عظمت ِکردار، آپ ؐ کا حسنِ نگاہ اور آپ ؐ کی بوریہ نشینی سیرت طیبہ کے چند ایسے درخشندہ پہلو ہیں، جن کے اثرات معجزانہ نتائج کے حامل قرار پائے۔۔۔
خالد علیم نے ’’سورہ والضحیٰ کی شانِ نزول‘‘ نظم کرکے تاریخِ اسلام اور قرآن سے اپنی گہری وابستگی اور لگاؤ کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ علاوہ ازیں ان کا نعتیہ قصیدہ ’’محامد‘‘ بھی اپنے دامن میں تاریخ کے متنوع رنگ سمیٹے ہوئے ہے۔ ان تخلیقات میں خالد کا تاریخی شعور ان کی عصری بصیرت کے ساتھ محو ِسفر دکھائی دیتا ہے۔ عصری بصیرت درحقیقت تاریخی دروں بینی ہی کا ایک پرتو ہے ۔۔۔ تاریخ کا ایک اچھا طالب علم جب ماضی کو حال سے مربوط کرکے دیکھتا ہے تو دراصل وہ تاریخی تناظر کے عمل سے گزر رہا ہوتا ہے۔ کسی بھی اہم شخصیت کو تناظری تجزیے کے بغیر عہد ساز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حضور نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی اس تناظری تجزیے میں ایسی عہد ساز شخصیت کے طور پر ابھرتی ہے، جس کا عہد روزِ ازل سے دورِ ابد تک بسیط ہوتا چلا جاتا ہے۔۔۔
خالد علیم کی عصری بصیرت نے اُن کے تاریخی شعور ہی سے جنم لیا ہے، لہٰذا مضبوط تاریخی شعور کی بنیادوں پر قائم عصری بصیرت کی عمارت کیوں کر قابلِ اعتماد نہ ہوتی ۔۔۔! خالد جب اپنے تمام تر تاریخی شعور کے ساتھ عصری بصیرت کے منبر (Pedestal) پر سے مخاطب ہوتا ہے تو اس کے کلام میں جدتِ آہنگ کے استعارے مہ و انجم کی طرح جھلملاتے نظر آتے ہیں ۔۔۔
سب سے بڑھ کر جو شے خالد علیم کو دیگر نوجوان شعرا میں ممتاز کرتی ہے، وہ فنی بالیدگی ہے۔ نعت قصیدے کے روپ میں ہو یا آزاد نظم کے پیرایے میں، اوزان عام ہوں یا رباعی کے، خالد نے ہر صنف اور ہر بحر میں اپنی بھرپور فن کاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ نعت چوں کہ حضورﷺ کی تعریف و توصیف ہے، اس لیے خالد اسے بنیادی طور پر قصیدے ہی کے قریب قرار دیتے ہیں۔ اس لیے ان کے نعتیہ قصائد کے علاوہ دیگر نعتوں میں بھی ۔۔۔ قصیدے کا آہنگ اور لب و لہجہ غالب نظر آتا ہے۔۔۔ اس لیے جہاں ان کی نعتوں میں قصیدے کی فضا اور ویسی ہی شوکت ِالفاظ نظر آتی ہے، وہاں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ ان کی اکثر نعتیں غیر مردّف ہیں اور وہ ان میں قصیدے کی سی روانی اور تسلسل کے ساتھ شعر کہتے چلے جاتے ہیں، جب کہ اُن کی مردّف نعتوں میں اس کمال کا صوتی آہنگ موجود ہے کہ پڑھتے ہوئے وجدان ایک عالمِ کیف میں کھو جاتا ہے۔۔۔
خالد علیم کے بارے میں محض یہ کہنا کہ ان کے ہاں اچھی شاعری کے امکانات موجود ہیں، ناانصافی کے مترادف ہوگا کیوںکہ ان کے ہاں تو ایک کامل شاعر موجود ہے۔ رہی بات نعت کہنے کی، تو یہ ایک سعادت ہے اور حق ادا کرنے کی کوشش۔ ہر شاعر اپنے طور پر بہ طریق احسن حقِ نعت گوئی ادا کرنے اور اس سعات کے حصول کی سعی کرتا ہے۔ شرفِ قبولیت تو اسی کو حاصل ہوتا ہے جس کی نعت ممدوح کو بھا جائے، اور ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ خالد نے حضور پاک ﷺ سے جس والہانہ محبت اور عقیدت کا اظہار کیا ہے، وہ حضورِؐ عالی مقام، رحمتہ للعالمین ﷺ کی چشمِ الطاف و کرم سے محروم نہیں ہوں گے۔
حامد یزدانی
(اقتباسات از ماہنامہ ’’شام و سحر‘‘ نعت نمبر۶، جنوری، فروری ۱۹۸۷ء)
