قلب و نظر کا حضور
’’محامد‘‘ میں غزل، قصیدہ، آزاد نظم اور رباعی کے فنی پیرایے استعمال ہوئے ہیں اور ہر صنف کا حق ادا کرکے دکھایا گیا ہے۔
نظم آزاد ’’سورۂ والضحیٰ کی شانِ نزول‘‘ کے عنوان سے ہے اور اس میں قرآنی رَمز و کنایہ سے خوب اِستفادہ کیا گیا ہے۔ خالق ِکائنات کے اپنے حبیب پاک ؐ سے مکالمات کے پس منظر و پیش منظر کو کمال حسن کاری سے قلم بند کیا گیا ہے۔
رباعی میں بقول حافظ محمد افضل فقیر ’’زحافاتی حسن اور تغیراتی کمال‘‘ سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے، سیرت نگاری کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
نعتیہ قصیدہ سے پہلے تمہیدی غزل میں شب و روز کی پہنائیوں اور رعنائیوں کو گریز بنایا گیا ہے اورقصیدے کی مجموعی خصوصیات کا خیال رکھتے ہوئے تشبیب و گریز کے بعد مدح کا اُفق، معتبر مضامین اور دل کش آہنگ سے تاب ناک کیا گیا ہے۔ دو اور چھوٹی بحر کے قصیدوں میں قصیدے کے لوازم تو نہیں ، لیکن انھیں تعدادِ اشعار اور تسلسلِ مضامین نے قصیدے بنا دیا ہے اور یہ دَورِحاضر کے قصیدے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
باقی طویل اور مختصر نعتوں میں بھی قصیدہ کی شان و شوکت کی گہری چھاپ ہے۔ لفظی ہم آہنگی اور جمالیات ہر کہیں غالب ہے۔ ردیف اگرچہ کم نظر آتی ہے، لیکن شہِ والا، شاہ ؐ عرب اور یا رحمتہ للعالمین ؐ ایسی ہم قافیہ ردیفیں خوب مزا دیتی ہیں۔
لفظ و بیاں کی سحر کاری کے ساتھ، مضامین کے تنوع، جذبات کے وفور، قرآن و سیرت سے آگاہی، عصری شعور اور توانا لب و لہجہ نے مل کر خالدؔ علیم کو عہدِ موجود کا نمائندہ نعت نگار بنا دیا ہے، کہ اُس کے ہاں ’’نعت ِرسولِ کریم ؐ قلب و نظر کا حضور‘‘ بن کر سامنے آتی ہے۔
(حفیظ تائب)
۹ ،فروری ۲۰۰۴ء
